کیا کوئی آدمی یا کوئی چیز منحوس ہوتی ہے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ کیا کوئی آدمی یا کوئی چیز منحوس ہوتی ہے؟
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
سوال؟ سوال:ایک شخص نجابت خاں جاہل اور بدعقیدہ ہے اور سود خوار بھی ہے ،نماز روزہ خیرات وغیرہ کرنا بے کارِ محض سمجھتا ہے، اس شخص کی نسبت عام طور پر جملہ مسلمانان واہلِ ہنود میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ دقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وُثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی، چنانچہ اُن لوگوں کو ان کے خیال کے مناسب برابر تجربہ ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ برابر اس امر کا خیال رکھتے ہیں کہ اگر کہیں جاتے ہوئے سامنے پڑگیا تو اپنے مکان کو واپس جاتے ہیں اور چندے (یعنی کچھ دیر) تَوَقُّف کرکے (اور) یہ معلوم کرکے کہ وہ منحوس سامنے تو نہیں ہے، جاتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ اور طرزِ عمل کیسا ہے؟ (اس میں ) کوئی قباحت ِشرعیہ تو نہیں ؟
جواب: شرعِ مُطَہَّر میں اس کی کچھ اصل نہیں ، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔شریعت میں حکم ہے: ’’اِذَا تَطَیَّرْتُمْ فَامْضُوْا‘‘ جب کوئی شگونِ بد، گمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے،مسلمان کو ایسی جگہ چاہیے کہ ’’اَللّٰھُمَّ لَا طَیْرَ اِلَّا طَیْرُکَ وَ لَا خَیْرَ اِلَّا خَیْرُکَ وَ لَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ‘‘ (ترجمہ: اے اللہ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔) پڑھ لے ، اور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائے ، ہر گز نہ رکے نہ واپس آئے۔(تفسیر صراط الجنان ) (فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۶۴۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں کسی چیز کو منحوس سمجھنے اور اس سے بد شگونی لینے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 14 اپریل 2022 بروز جمعرات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں