پہلے کی امتوں سے سوال قبر
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلہ میں کہ اس زمانے میں جس اِنسان کا اِنتقال ہوتاہے تو اسکی قبر میں حُضور علیہ السّلام تشریف لاتے ہیں اور فرشتے اس انسان سے آقا علیہ السّلام کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں لیکِن کیا حضور علیہ السّلام کی ولادت با سعادت سے پہلے بهی جس انسان کی موت ھوتی تھی تو یہی سوال پوچھا جاتا تھا اسکے بارے میں رہنمائی فرمائیں سائل محمد صدام حسین قادری بارمیر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
اگلی امتوں سے قبر کے بارے میں اختلاف ہے علامہ شامی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگلی امتوں سے قبر میں سوال ہوتا ہی نہ تھا! اور بعض علماء کے نزدیک اگلی امتوں سے قبر میں رب کی وحدانیت کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا (فتاوی فقہ ملت جلد اول کتاب الجنائز 1
فتاوی تربیت افتاء جلد اول کتاب الجنائز 2 میں ہے اگلی امتوں سے سوال قبر کے بارے میں صحیح ورائج قول یہی ہے کہ اگلی امتوں سے سوال قبر نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ اسی امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے اور امام جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سوال قبر اس امت کے ساتھ خاص ہے کیونکہ پہلی امتیں جب رسول کی تکذیب کرتی تھی تو ان پر فوراً ہی عذاب عالمگیر آجاتا تھا جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے صدقے اس امت سے عذاب عالمگیر روک لیا گیا اور ان کو تلوار دی گئی تاکہ اس کی ہبت سے لوگ اس دین کو قبول کریں اور پھر ایمان ان کے دل میں راسخ ہو جاتا اس وقت وقت سے نفاق شروع ہوا کہ لوگ ایمان ظاہر کرتے اور کفر چھپاتے اور مسلمانوں کے لئے ان سے حجاب تھا اب جبکہ وہ مر گئے تو اللہ تعالٰی نے ان پر دو آزمائش کرنے والے مقرر کر دیئے تاکہ خبیث طیب سے جدا ہو جائے (فتاوی جاویدیہ دوم بحوالہ شرح الصدور 3 ) خلاصہ کلام پہلے منافقین کو فوراً ہلاک کر دیا جاتا تھا اب جبکہ ہمارے نبی رحمت تشریف لائے تو دنیا میں آپ کے صدقے سے منافق کچھ وقت تک کے لیے محفوظ ہے جیسے کہ وہابی دیوبندی رافضی وغیرہ بظاہر تو مسلمان نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ منافق ہیں ان کی منافقت قبر میں ظاہر ہو جائے گی کہ تیرا عقیدہ اس بزرگ شخصیت کے بارے میں کیا تھا جیسا کہ قبر کے تیسرے سوال سے ظاہر ہے اب یہ کمبخت جب دنیا میں تھا تو حضور کے علم کو تول رہا تھا حضور کے اختیارات کو گن رہا تھا تو کیا جواب دے گا اور مرنے کے بعد اصل کامیابی تو تینوں سوالات کے جوابات دینے کے بعد ہے اور بالخصوص سوال نمبر 3 پر کامیابی کا مدار ہے یہاں خوب نمازیں پڑھی خوب عبادت کی مگر حضور کے علم کا انکار کرتا رہا حضور کے اختیارات کا انکار کرتا رہا اب تجھے معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں کون اہلسنت ہی کا عقیدہ صحیح تھا اللہ تعالٰی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور قبر کے سوالات میں ثابت قدم رکھے (ف1-- 280 - ) (ت 2 -380 ) ( صد -3- 131 )
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 22 مارچ 2022 بروز

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں