مٹی کے برتن پاک ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلہ کے بارے میں کہ کمبهار (مٹکی بنانے والا) گدھے اور گھوڑے کی لید مٹّی میں ملاکر مٹکا تیار کرتے ہیں اس مٹکے میں پانی پينے کا کیا حکم ہے سائل محمد صدام حسین قادری بارمیر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
مٹی کے یہ برتن جب آگ میں پکایا جاتا ہے تب یہ پاک ہو جاتے ہیں جیسا قاضی خان میں ہے کہ ناپاک مٹی سے جب کوزہ یا ہنڈیاں  بنائی جائے پھر اس کو پکایا جائے تو وہ پاک ہو جائے گا  (فتاوی قاضی خان جلد اول باب نجاست کے مسائل ) (1 ق )  ہدایہ میں ہے آگ سے جل جانا گوبر پاخانہ وغیرہ کوئی نجاست اگر جل کر راکھ ہو جائے تو اس کی طہارت کا حکم کا حکم ہوگا اسی پر فتوی ہے نجس مٹی سے برتن بنائے جائیں پھر وہ آگ میں پک جائے تو پاک ہو جائیں گے  (فیوضات رضویہ تشریحات ہدایہ جلد اول باب نجاست )(2 ہ ) 
واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 29 مارچ 2022 بروز منگل  (1 ص 123 ) (2 ہ ص 394 )


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598