کیا ڈاڑھی رکھنے والے سے سوال قبر نہیں ہوتا؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیافرماتے ہیں حضرات علماۓ کرام ومفتیان شرع متین اس مسٸلے میں کہ ایک خطیب داڑھی کی اہمیت کوبیان کرتے ہوۓ فرمایا کہ اپنے چہرے کو داڑھی سے سجالو مرکے قبر میں پہونچوگے فرشتے قبر میں آٸینگے سوال کرنے تو مصطفی کریم ﷺ فرماٸینگے فرشتوں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے فرشتے عرض کرینگے آقا ﷺ کیوں توسرکار ﷺ  فرماٸینگے  دیکھتے نہیں ہو چہرے پہ میری سنت سجاکے آیا ہے تو کیا ان جملوں سے یہ لازم آتاہے کہ داڑھی والوں سے قبر میں سوال نہیں ہوگا ؟ 

ایک سنی خطیب ہے   اور اہل خبیث  
یعنی وہابی نے اس خطیب پر اعتراض کیا ہے   براۓ کرم جواب سے نوازیں  

العارض محمد نظام الدین دیناجپوری برودہ گجرات
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں جس خطیب نے یہ کہا کہ ڈاڑھی رکھنے والے سے سوال نہیں ہوگا اس کا حوالہ انہیں سے طلب کرنا چاہیے کہ اس نے  کہا پڑھا ہے وہ ہی بہتر جانے اور وہی بتا سکتا ہے بہرحال مفہوم ٹھیک ہے امام جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ نے امام بن جوزی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ ابن جوزی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث مرفوعاً روایت کی، جو شخص ڈاڑھی میں خضاب لگاتا تھا وہ مر گیا تو اس سے منکر نکیر سوال نہ کریں گے منکر کہے گا اے نکیر میں اس شخص سے کیوں  سوال کروں  کہ جس کے چہرے پر اسلام کا نور درخشاں ہے  (شرح الصدور صفحہ 137 ) نوٹ وہ  خضاب جو سنت ہے اور وہ مہندی وغیرہ کا ہے نہ کہ کالا خضاب جس کو فرعون نے لگایا تھا!   اس حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب ڈاڑھی میں خضاب لگانے سے فتنہ قبر سے محفوظ ہو گیا تو اس میں کیا تعجب ہے کہ ڈاڑھی سنت کے مطابق رکھنے سے فتنہ قبر سے محفوظ ہو صرف ایک ڈاڑھی ہی کیوں قبر کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے جمعہ کو جو انتقال ہو جائے وہ بھی فتنہ قبر سے محفوظ ہوتا ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں احمد و ترمذی عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں  مرے گا، اﷲ تعالیٰ اسے فتنۂ قبر سے بچالے گا۔‘‘  

        حدیث  ابو نعیم نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں  مرے گا، عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں  کی مُہر ہوگی
حمید نے ترغیب میں  ایاس بن بکیر سے روایت کی، کہ فرماتے ہیں : ’’جو جمعہ کے دن مرے گا، اس کے لیے شہید کا اجر لکھا جائے گا اور فتنۂ قبر سے بچا لیا جائے گا۔‘‘  

        حدیث   عطا سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان مرد یا مسلمان عورت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں  مرے، عذاب قبر اور فتنۂ قبر سے بچا لیا جائے گا اور خدا سے اس حال میں  ملے گا کہ اس پر کچھ حساب نہ ہوگا اور اس کے ساتھ گواہ ہوں  گے کہ اس کے لیے گواہی دیں  گے یا مُہر ہوگی۔‘‘  (بہار شریعت باب جمعہ کا بیان ) سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شب جمعہ اور روز جمعہ اور رمضان المبارک میں ہر روز کے واسطے یہ حکم ہے کہ جو مسلمان ان میں مرے گا سوال نکیر ین و عذاب قبر سے محفوظ رہے گا  (فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 659 )
خلاصہ خطیب کو احتیاط سے بولنا چاہیے جب حدیث کہے تو وہی الفاظ بیان کرے جو حدیث میں ہے پھر مفہوم سمجھانے کے لئے کچھ الفاظ کی زیادتی ہو تو حرج نہیں  مگر اصل حدیث کے الفاظ میں اپنی طرف سے کوئی بات نہ کرے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 


دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 22 مارچ 2022 بروز بدھ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598