دعا مانگتے وقت منہ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں مسجد کے باہر یا پھر مسجد کے اندر اکیلا بیٹھ کر پورب کی طرف منہ کرکے دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں ۔اگر کوی ایسا کرتا ہے تو کیا وہ گناہ۔ گار ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المستفتی مولانا جمیل اختر اشرفی گجرات انڈیا ضیلع راجکوٹ
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
دعا مانگتے وقت اکیلے آدمی کا منہ قبلہ کی طرف ہونا مستحب ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (ہر دعا شرفِ قبولیت سے محروم رہتی ہے، جب تک اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے)
طبرانی نے "الأوسط" (1/220) میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے اسے "صحیح الجامع" (4399) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
6- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا، چنانچہ مسلم: (1763) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد 319 ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی آپ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنے لگے: (اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ)[یعنی: یا اللہ! مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ! مجھے دیا ہوا عہد و پیمان مکمل فرما، یا اللہ اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہے، حتی کہ آپکی چادر کندھوں سے گر گئی۔۔۔ الحدیث
نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں کہتے ہیں:
"اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ، اور ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے"
7- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا، چنانچہ ابو داود: (1488) میں سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک تمہارا پروردگار انتہائی باحیا اور سخی ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے اسی حیا آتی ہے) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود": (1320) میں صحیح کہا ہے۔
دعا میں ہاتھ اٹھانے کیلئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان کی طرف ہوگی، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے، چنانچہ ابو داود: (1486) میں مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی کی پشت سے مت مانگو) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود": (1318) میں صحیح کہا ہے لہٰذا مستحب تو یہ ہے کہ منہ قبلہ کی طرف ہو اگر قبلہ طرف نہیں ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے دعا ہر وقت کسی بھی جانب بیٹھ کر یا کھڑے ہو بھی کر سکتے ہیں ۔
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 17 مارچ 2022 بروز جمعرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں