پیر کی تصویر رکھنا؟
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ* *کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ کسی کامل اکمل ولی کی ظاھری*
*حیات یا دنیا سے ظاھری وصال کے بعد اس کی موبائیل پر تصویر کی ہاتھ لگا یا چوم سکتے ہیں برکت حاصل کرنے کی نیت سے برائے مہربانی جواب ارشاد فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی سگ عطار ہاشم رضا عطاری عمرکوٹ سندھ پاکستان*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ پہلے تو موبائل فون کی تصویر کے متعلق بھی علماء کرام میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک جائز ہے اور بعض کے نزدیک ناجائز پھر جائز میں بھی بغیر ضرورت کے تصویر رکھنا درست نہیں ہے اور پیر کی محبت ہونی چاہیے مگر حد شرع تک نہ کہ آندھی محبت حدیث میں ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز سے انتہائی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (جامع الاحادیث جلد اول کتاب الایمان ) تصویر سے ہی بت پرستی کی ابتداء ہوئی تھی حضرت ابو جعفر بن مہلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو نام کے ایک صاحب ایمان شخص تھے جو اپنی قوم میں نہایت محبوب و معزز رہے جب انکا انتقال ہوا تو لوگ زمین پر بابل میں ان کی قبر کے پاس جمع ہوئے اور نہایت جزع فزع کی ابلیس مردود نے جب دیکھا تو انسانی شکل میں آکر بولا میں تمھارا جزع فزع دیکھ رہا ہوں تو کیا میں تمھارے لئے انکی تصویر بنا دوں کہ وہ تمھاری مجلس میں رہے جس سے تم ان کو یاد کرتے رہو بولے ہاں چنانچہ اس نے تصویر بنادی اور لوگوں نے اپنی مجلس میں اسے رکھ لیا اور اس کی یادگار مناتے رہے پھر جب ابلیس نے اسکی یاد کے ساتھ انکا شغف دیکھا تو کہنے لگا کیا میں تم میں سےہر ایک آدمی کے گھر کے لئے ایسی تصویر بنا دوں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں یادگار مناتا رہے بولے ہاں لہٰذا ہر گھر کے لئے اس نے تصویر بنادی تو سب اس پر جھک گئے اور یادگار مناتے رہے پھر ان کی اولاد میں بھی نسلا بعد نسل یہ سلسلہ جاری رہا اور ابلیس ان کو یہ سبق پڑھاتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے اس تصویر کو اللہ تعالٰی کے سوا اپنا ایک دوسرا معبود بنا لیا چنانچہ زمین میں یہ سب سے پہلا بت تھا جس کی عبادت ہوئی اور اس طرح غیر خدا کی عبادت کا رواج پڑا (جامع الاحادیث جلد اول کتاب الایمان ) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی بعض ازواج مطہرات نے حبشہ میں واقع ماریہ نامی ایک گرجے کا تذکرہ کیا حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ حبشہ تشریف لے گئی تھی انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں آویزاں تصویروں کا ذکر کیا آپ نے یہ سنکر سر اٹھایا اور فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک بندا انتقال کر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا ڈالتے اور اس کی تصویر بنا کر آویزاں کر تے یہ لوگ اللہ تعالٰی کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں (جامع الاحادیث جلد اول کتاب الایمان ) امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں معظم دین کی تصویر زیادہ موجب وبال و نکال ہے اس کی تعظیم کی جائے گی اور تصویر ذی روح کی تعظیم خاصی بت پرستی کی صورت اور گویا ملت اسلامی سے صریح مخالفت ہے ابھی حدیث سن چکے کہ وہ اولیاء ہی کی تصویریں رکھتے تھے جن پر ان کو بدترین خلق فرمایا الخ بالقصد تصویر کی عظمت و حرمت کرنا اسے معظم دینی سمجھنا اسے تعظیما بوسہ دینا سر پر رکھنا آنکھوں سے لگانا وغیرہ افعال بجالانا یہ سب سے اخبث اور قطعاً یقینا جماعا اشد حرام و سخت کبیرہ اور کھلی بت پرستی سے ایک ہی قدم پیچھے (جامع الاحادیث کتاب الایمان ) لہٰذا تصویر اگرچہ فون میں ہو اسے بوسہ دینا آنکھوں پر لگانا ناجائز ہے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 23 مارچ 2022 بروز بدھ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں