زمین کا سب سے افضل حصہ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ حضور صلی االلہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے لگا ہوا زمین کا حصّہ کیا خانۂ کعبہ سے بھی زیادہ افضل ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المستفتی مولانا جمیل اختر اشرفی گجرات انڈیا ضیلع راجکوٹ
وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ الجواب
:علامہ اسماعیل حقّی حنفی رحمۃ اللہ علیہ روح البیان میں فرماتے ہیں
والكلام فى غير ما ضم أعضاءه الشريفة من ارض المدينة والا فذاك أفضل بقاع الأرض بالإجماع حتى من العرش والكرسي
(تفسیرروح البیان، سورۃ التوبۃ، آیۃ:40، ج:3، ص:436، دارالفکر)
یعنی مدینہ پاک کی زمین کا وہ ٹکڑا جو سرکار ﷺ کے جسد اطہر سے ملا ہوا ہے بالاجماع وہ ساری زمین سے افضل ہے حتی کہ عرش اور کرسی سے بھی افضل یہی ٹکرا ہے۔
:ابوالیمن بن عساکرشافعی نے نقل کیا
ولا خلاف أن الموضع الذي ضم أعضاء المصطفى صلوات الله وسلامه عليه المقدسة المشرفة، أفضل بقاع الأرض على الإطلاق، حتى موضع الكعبة المعظمة
(إتحاف الزائر وإطراف المقيم للسائر في زيارة النبيﷺ ، ابوالیمن بن عساکر، ص:36، شركة دارالأرقم بن أبي الأرقم)
سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ جگہ جو مصطفیٰ کریم ﷺ کے مبارک اور برکت والے اعضاء سے لگی ہوئی ہے وہ علی الاطلاق روئے زمین کا افضل ترین جگہ ہے حتی کہ اس جگہ سے بھی افضل ہے جہاں کعبہ معظمہ ہے۔
:علامہ عینی حنفی علیہ الرحمۃ نے قاضی عیاض مالکی کا قول نقل کیا
قَالَ عِيَاض: أَجمعُوا على أَن مَوضِع قَبره صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ أفضل بقاع الأَرْض
(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، بدر الدین العیني، ج:7، ص:374، دارالکتب العلمیۃ)
علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ زمین کا وہ حصہ جہاں سرکار دوعالم ﷺ کی قبر مبارک ہے زمین کے سب حصوں سے افضل ہے۔
:مجموعۂ شروحاتِ سنن ابن ماجہ میں امام قسطلانی شافعی علیہ الرحمۃ کے حوالہ سے منقول ہے
قَالَ الْقُسْطَلَانِيّ وَاسْتثنى القَاضِي عِيَاض الْبقْعَة الَّتِي دفن فِيهَا النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحكى الِاتِّفَاق على أَنَّهَا أفضل بقاع الأَرْض بل قَالَ ابن عقيل الْحَنْبَلِيّ انها أفضل من الْعَرْش انْتهى
(شروح ابن ماجۃ، کتاب اقامۃ الصلوٰۃ، حدیث:1405، ص:565، بیت الافکار الدولیۃ)
امام قسطلانی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے استثناء کیا ہے زمین کے اس ٹکڑے کا جہاں نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک ہے اور اس بات پر اجماع و اتفاق کی روایت کی ہے کہ زمین کا وہ ٹکڑا ساری زمین سے زیادہ فضیلت والا ہے۔ اور امام ابن عقیل حنبلی رحمۃ اللہ علیہ سے تو یہاں تک منقول ہے کہ وہ ٹکڑا عرش سے بھی افضل ہے۔
:قاضی شوکانی نے قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمۃ کا قول نقل کر کے اپنی موافقت کا اظہار فرمایا
قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ: إنَّ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ﷺ أَفْضَلُ بِقَاعِ الْأَرْضِ وَإِنَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ أَفْضَلُ بِقَاعِ الْأَرْضِ وَاخْتَلَفُوا فِي مَا عَدَا مَوْضِعَ قَبْرِهِ ﷺ
(نیل الاوطار، قاضی شوکانی، ج:5، ص:35، دار الحديث، مصر)
فرمایا: قاضی عیاض نے کہا کہ سرکار ﷺ کی قبر انور کی جگہ سب سے افضل ہے۔ اور جہاں تک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بات ہے تو یہ دونوں ساری روئے زمین سے افضل ہیں۔ اگر یہ کہیں کہ مکہ مکرمہ افضل ہے یا مدینہ منورہ افضل ہے تو اس میں علماء کرام علیھم الرضوان کا اختلاف ہے، ہاں سب اس پر متفق ہیں کہ جانِ کائنات ﷺ کی قبر مبارک والی جگہ وہ ان دونوں شہروں سے بھی افضل ہے۔
:علامہ شہاب الدین قرافی مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
أَنَّ الْمَدِينَةَ مَوْطِنُ إقَامَتِهِ ﷺ وَمُهَاجَرِهِ وَمَوْطِنُ وَمُهَاجَرِ أَصْحَابِهِ الْمُجْمَعِ عَلَى أَنَّهُمْ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَمَدْفَنُ جَسَدِهِ الشَّرِيفِ بَعْدَ مَوْتِهِ ﷺ وَهُوَ أَشْرَفُ مِنْ الْكَعْبَةِ وَمِنْ جَمِيعِ الْمَخْلُوقَاتِ. وَقَدْ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ عَلَى أَنَّ الرَّوْضَةَ الْمُشَرَّفَةَ أَفْضَلُ بِقَاعِ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ
(أنوار البروق في أنواء الفروق، أبو العباس شهاب الدين أحمد بن إدريس المالكي الشهير بالقرافي ج:2، ص:230، عالم الكتب)
مدینہ منورہ جناب رسول اللہ ﷺ کے رہائش گاہ ، ہجرت گاہ اور آپ ﷺ کا وطن ہے۔ آپ ﷺ کے مہاجر صحابہ کا مسکن ہے جو کہ آپ ﷺ کی پوری امت سے افضل ہیں، آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی تدفین بھی اسی شہر میں ہوئی اور وہ کعبہ معظمہ اور دیگر کُل مخلوقات سے افضل ہے، اور سب کا اجماع بھی اسی بات پر ہے کہ روضہ مبارکہ زمین و آسمان کی سب جگہوں سے افضل ہے۔
:علامہ وھبۃ الزحیلي نے فرمایا
’’يستحب زيارة المسجد النبوي، لأنه كما تقدم في الحديث الصحيح أحد المساجد الثلاثة التي تشد إليها الرحال، وزيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلم وصاحبيه؛ لأن موضع قبره عليه الصلاة والسلام أفضل بقاع الأرض
(الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ، وَهْبَة الزُّحَيْلِيّ، أستاذ ورئيس قسم الفقه الإسلاميّ وأصوله بجامعة دمشق كلّيَّة الشَّريعة، ج:3،ص:688،دارالفكرسوريَّة دمشق)
مسجد نبــوی شریـف کی زیــــارت کرنا مستحب فعل ہے کیونکہ یہ ان تین مساجد میں سے ایک ہے جس کی طرف ثواب کی نیت سے سفر کیا جاتا ہے اور اسی طرح نبی کریم ﷺ کی قبر انور، سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنھما کی قبور کی زیارت کرنا بھی مستحب ہے کیونکہ وہ جگہ جہاں جانِ عالم ﷺ کی قبر انور ہے وہ ساری زمین سے افضل ترین مقام ہے۔
:ابوالفضل قاضی عیاض مالکی قدس سرہ نے شفاء شریف میں فرمایا
وَلَا خِلَاف أن مَوْضع قَبْرِه أفْضَل بِقَاع الْأَرْض
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ، أبوالفضل قاضي عياض اليحصبي، ج:2، ص:91، دارالفكرالطباعة والنشر والتوزيع)
یعنی یہ بات سب کی متفقہ ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ کے مدفن کا مقام پوری روئے زمین سے افضل ہے۔
:علامہ ملّا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح شفاء میں فرمایا
أن موضع قبره أفضل بقاع الأرض أي بشرف قدره وكرامه عند ربه
(شرح شفاء، ملّا علی قاری، ج:2، ص:162، دارالکتب العلمیۃ)
سرکار دوعالم ﷺ کے روضہ مبارک کا ساری زمین سے افضل ہونا اس وجہ سے ہے کہ اللہ رب العزت کے نزدیک آپ ﷺ کی قدر و منزلت بہت ہی زیادہ ہے۔
:مواھب اللدنیۃ میں ہے
مذهب عمر بن الخطاب وبعض الصحابة وأكثر المدنيين- كما قاله القاضى عياض- أن المدينة أفضل، وهو أحد الروايتين عن أحمد وأجمعوا على أن الموضع الذى ضم أعضاءه الشريفة- صلى الله عليه وسلم- أفضل بقاع الأرض، حتى موضع الكعبة، كما قاله ابن عساكر والباجى والقاضى عياض، بل نقل التاج السبكى كما ذكره السيد السمهودى فى «فضائل المدينة» عن ابن عقيل الحنبلى أنها أفضل من العرش، وصرح الفاكهانى بتفضيلها على السماوات ولفظه: وأقول أنا وأفضل من بقاع السماوات أيضا
(مواھب اللدنیۃ، امام قسطلانی مصری، ج:3، ص:612، المكتبة التوفيقية، القاهرة، مصر)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اکثر اہل مدینہ کا وہی مذھب ہے جو قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ مدینہ شریف کی فضیلت سب سے زیادہ ہے اسی طرح امام احمد بن حنبل رضی اللہ علیہ کا ایک قول بھی یہی ہے کہ مدینہ طیبہ افضل ہے۔
اور یہ کہ تمام علماء کا اجماع ہے کہ وہ جگہ جہاں سرکار ﷺ کا جسد اطہر ہے وہ سب زمین سے افضل ہے حتی کہ کعبہ معظمہ والی جگہ سے بھی افضل ہے جیسا کہ ابن عساکر، علامہ باجي، اور قاضی عیاض رحمھم اللہ علیھم نے فرمایا ہے۔ بلکہ علامہ تاج الدین سبکی نے یہاں تک نقل کیا ہے کہ ابن عقیل الحنبلی نے فرمایا: ’’روضہ مشرفہ کی زمین عرش سے بھی افضل ہے‘‘، جیسا کہ علامہ سمہودی نے ’’فضائل مدینہ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
علامہ زرقانی نے شرح مواھب میں فرمایا
’’وأجمعوا على أنَّ الموضع الذي ضمَّ أعضاءه الشريفة صلى الله عليه وسلم أفضل بقاع الأرض حتى موضع الكعبة، كما قاله ابن عساكر والباجي” أبو الوليد سليمان بن لف, الحافظ الفقيه، "والقاضي عياض” معبرًا بقوله: موضع قبره، والظاهر أن المراد جميع القبر لا خصوص ما لاقى الجسد الشريف؛ لأنه يقال عرفًا للقبر ضمّ الأعضاء
(شرح زرقانی علی المواھب، امام زرقانی، ج:12، ص:234، دارلکتب العلمیۃ)
اس حصہ کا تمام روئے زمین حتیٰ کہ کعبہ معظمہ سے بھی افضل ہونا اجماعاً ثابت ہے، جیسا کہ ابن عساکر، علامہ باجي، حافظ فقیہ ابوولید سلیمان اور قاضی عیاض سے منقول ہے۔ اور موضع القبر سے ظاہر مراد یہی ہے کہ اس سے پوری قبر انور مراد ہو نہ کہ خاص صرف وہی حصہ جو آپ ﷺ کے جسدِ اقدس کے ساتھ مَس کر رہا ہے، کیونکہ عام طور پر قبر اس پر بولا جاتا ہے جس کے اندر جسم رکھا جاتا ہے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں زمین کا وہ حصہ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء مبارک سے متصل ہے وہ ہر جگہ سے افضل ہے حتی کہ کعبہ معظمہ عرش عظیم اور کرسی سے بھی افضل ہے (حیرت انگیز معلومات بحوالہ مدارج النبوۃ جلد اول صفحہ 257 ) اور ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ 287 قدیم میں ہے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں