مسجد کے فنڈ سے تجارت کرنا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے علماۓ کرام اِس مسلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک غریب بستی ہے وہاں مسجد اور مدرسہ ایک ساتھ چلتا ہے مسجد اور مدرسے کی کوئی آمدنی نہیں ہے اس لیے ہمیشہ باہر سے چندہ کرنا پڑ تا ہے اب اصل بات یہ ہے کہ مسجد کے متولی کا ارادا ہے کہ  (50000) روپیہ جو کہ مسجد اور مدرسے کی بچت کے متولی کے پاس موجود ہیں اگر ان پیسوں کو کسی حلال کاروبار میں لگا ءیں جیسے بکر متولی نے (50000) روپیہ زید کو دیا اس شرط پر کے زید ان (50000) روپیہ سے  جایز اور حلال کاروبار کرے گا اور جو نفع ملیگا اس میں آدھا زید کا اور آدھا مسجد اور مدرسے کا اور اگر گھاٹا ھوا تب بھی آدھا زید کا اور آدھا مسجد اور مدرسے کا اس طرح مسجد اور مدرسے کے پیسے مسجد اور مدرسے کی آمدنی کی نیت سے استعمال کرنا جایز ہے کہ نہیں  (سائل محمد صدام حسین قادری بامنور)
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
مسجد کا فنڈ کمیٹی کے پاس امانت ہے اورامانت کو تجارت میں لگانا خیانت ہے۔ایسی تجارت جس میں نفع کی ضمانت ہو ازروئے شرع جائز نہیں ہوسکتی ،حلال تجارت میں تو نفع ونقصان دونوں کا امکان ہوتا ہے اور نقصان  کے امکان کے پیش نظر وقف رقم کو تجارت میں لگانا جائز نہیں۔بہرحالوقف رقمکو واقف کے منشاء کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے ۔واقف کا منشاء  رقم کوتجارت میں لگا کر بڑھا نا نہیں ہے بلکہ مسجد میں استعمال  کرکے ثواب حاصل کرنا ہے۔اگر واقف کامقصد تجارت ہوتا تو اسے  چلتے ہوئے کاروبار سے رقم نکال کر مسجد میں  دینے کی ضرورت نہ تھی وہ خود ہی اچھے طریقے سے رقم کو بڑھا سکتا تھا۔
متولی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اوقات نماز کے علاوہ مسجد کا پنکھا کسی کو استعمال کرنے کی اجازت دیں جیسا فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 191 میں ہے جو چیز جس غرض کے لیے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پیھرنا جائز نہیں اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدے کی ہو، یہاں تک مسجد میں صرف فالتو بیٹھے تو انھیں مسجد کا پنکھا چلانا نا جائز و گناہ ہے 📙 *فتاوی تربیت افتاء جلد اول صفحہ 243*،،،، خلاصہ مسجد کے فنڈ کو  کسی بھی کاروبار میں لگانا جائز نہیں  *واللہ اعلم و رسولہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *تاریخ 31 مارچ 2022 بروز جمعرات


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598