جھوٹی حدیثیں بیاں کرنا؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ
جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے اسکا انجام کیا ہے جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار کگھڑیا پھولتوڑا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا سخت حرام ہے اس کا انجام جہنم ہے حضرت بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عمدا مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے (مشکوتہ کتاب اعلم ) اس حدیث پاک کی شرح میں حضرت حکم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جھوٹی حدیثیں گھڑنے والا دوزخی ہے اس سے معلوم ہوا کہ حدیث گھڑنا گناہ کبیرہ بلکہ کبھی کفر بھی ہے کیونکہ اس میں جھوٹ بھی ہے اور دین میں فتنہ پھیلانا بھی بعض جاہل صوفیوں نے نماز تہجد اور قرآنی سورتوں کے فضائل میں کچھ حدیثیں گھڑی وہ اس سے عبرت پکڑے (مراتہ المناجیح جلد اول صفحہ 196 ) حضور کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والے کا ایک عبرت ناک واقعہ
حضرت اسامہ ابن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص (قصداً ) میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جس کو میں نے نہ کہا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تیار سمجھے اور اس ارشاد گرامی کا بس م نظریہ ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو (کچھ لوگوں کی طرف یا کسی شخص کے پاس) بھیجا تھا اس نے آپ ﷺ کی طرف سے کوئی جھوٹی بات بنا کر کہی، (جب) رسول کریم ﷺ (پر یہ منکشف ہوا یا کسی ذریعہ سے آپ ﷺ کو اس بات کی خبر ہوئی تو (آپ ﷺ نے اس شخص کے حق میں بددعا فرمائی، چناچہ وہ شخص (ایک دن) اس حال میں مردہ پایا گیا کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا تھا اور (جب اس کو دفن کیا گیا تو) زمین نے اس کو قبول نہیں کیا۔ دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔(مشکوتہ حدیث نمبر 5868 ) واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 27 مارچ 2022 بروز اتوار

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں