مختلف مسائل
جبرائیل اعلان کرتے ہیں
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ند اکی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَاماس سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامآسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین والوں میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲ / ۳۸۲، الحدیث: ۳۲۰۹)شیطان کے ساتھ ہوگے تفسیر
فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ(۶۸)
 ترجمۂ کنز العرفان 
تو تیرے رب کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کرلیں گے پھر انہیں دوزخ کے آس پاس اس حال میں حاضر کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے ۔
 تفسیر صراط الجنان 
{فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ:تو تمہارے رب کی قسم! ہم انہیں جمع کرلیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے رب کی قسم! ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے کافروں کو قیامت کے دن زندہ کر کے انہیں گمراہ کرنے والے شیطانوں کے ساتھ اس طرح جمع کرلیں گے کہ ہر کافر شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑا ہو گا ، پھر انہیں دوزخ کے آس پاس اس حال میں حاضر کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کر کے دہشت کے مارے ان سے کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا اور وہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے۔(خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳ / ۲۴۱-۲۴۲، روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۶۸، ۵ / ۳۴۹) اور کافروں کی ایسی ذلت و رسوائی دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور سعادت مند بندے اس بات پر بہت خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس ذلت سے نجات عطا فرمائی جبکہ ان کے دشمن کفار ان کی سعادت و خوش بختی دیکھ کر حسرت و افسوس اور انہیں برابھلا کہنے پر خود کو ملامت کررہے ہوں گے۔
یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس دن کی شدت اور حساب کی سختی دیکھ کر ہر دین والا زانو کے بل گرا ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً‘‘(جاثیہ:۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے۔
اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ کافروں کو جب جہنم کے قریب حاضر کیا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کرکے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے جیسا کہ زیرِتفسیر آیت میں بیان ہوا، تو ان دونوں آیات میں جدا جدا احوال کا بیان ہے اس لئے ان میں کوئی تَعارُض نہیں ۔
دنیا و آخرت میں شیطان کا ساتھی بننے کاسبب:
اس آیت کی تفسیر میں بیان ہو اکہ کافر اور اسے گمراہ کرنے والا شیطان ایک ساتھ زنجیر میں جکڑ اہو گا، اس مناسبت سے ہم یہاں دنیا اور آخرت میں شیطان کا ساتھی بننے کا ایک سبب بیان کرتے ہیں ، چنانچہ جو شخص قرآنِ مجید سے اس طرح اندھا بن جائے کہ اس کی ہدایتوں کو دیکھے نہ ان سے فائدہ اٹھائے، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اِعراض کرے اور اس کی گرفت اور عذاب سے بے خوف ہو جائے، دُنْیَوی زندگی کی لذّتوں اور آسائشوں میں زیادہ مشغولیت اور اس کی فانی نعمتوں اور نفسانی خواہشات میں اِنہماک کی وجہ سے قرآن سے منہ پھیر لے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے جو دنیا میں اسے حلال کاموں سے روک کر اور حرام کاموں کی ترغیب دے کر، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منع کر کے اور اس کی نافرمانی کا حکم دے کر گمراہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کفر کی اندھیری وادیوں میں دھکیل کر حالت ِکفر میں مرواتا ہے اور پھر یہی شیطان قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ہو گا کہ ان دونوں کو ایک ساتھ زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ(۳۶)وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۷)حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ‘‘(زخرف:۳۶-۳۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتا ہے۔ اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں اوروہ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔یہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاسآئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے توتُو کتنا ہی برا ساتھی ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِۚ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ‘‘(حم السجدہ:۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے کافروں کیلئے کچھ ساتھی مقرر کر دئیے توانہوں نے ان کے لئے ان کے آگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور جب بھی وہ کسی برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔(مسند الفردوس، باب الالف، ۱ / ۲۴۵، الحدیث: ۹۴۸)
اس میں خاص طور پر کفار اور عمومی طور پرتمام مسلمانوں کے لئے نصیحت ہے کہ وہ ایسے کام کرنے سے بچیں جن کی وجہ سے شیطان کو ان کا ساتھی بنا دیا جائے کیونکہ شیطان انتہائی برا ساتھی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا‘‘(النساء:۳۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو کتنا برا ساتھی ہوگیا۔
اور جس کا ساتھی شیطان ہو وہ اپنے انجام پر خود ہی غور کرلے کہ کیساہو گا۔
بیکار باتوں سے پرہیز کریں
بیکار باتوں سے پرہیز کریں :
اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم الشان نعمتو ں کے گھر جنت کو فضول اور بیکار باتوں سے پاک فرمایا ہے ،اس سے معلوم ہوا دنیا میں رہتے ہوئے بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بیکار باتوں سے بچتا رہے اور فضول کلام سے پرہیز کرے۔ اللہ تعالیٰ کامل ایمان والوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا‘‘(فرقان:۷۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سےگزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔
اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ٘-سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ٘-لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ‘‘(قصص:۵۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں سلام، ہم جاہلوں (کی دوستی)کو نہیں چاہتے ۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’(یہ بات) آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیز کو چھوڑ دے۔( ترمذی، کتاب الزہد، ۱۱-باب، ۴ / ۱۴۲، الحدیث: ۲۳۲۵) اللہ تعالیٰ ہمیں بیکار باتوں اور فضول کلام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
لوگوں کے ساتھ نرمی
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴)
ترجمۂ کنز العرفان
توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔
تفسیر صراط الجنان
{فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا:توتم اس سے نرم بات کہنا ۔} یعنی جب تم فرعون کے پاس جاؤ تو اسے نرمی کے ساتھ نصیحت فرمانا۔ بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کے ساتھ نرمی کا حکم اس لئے تھا کہ اس نے بچپن میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت کی تھی اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ نرمی سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سے وعدہ کریں کہ اگر وہ ایمان قبول کرے گا تو تمام عمر جوان رہے گا کبھی بڑھاپا نہ آئے گا ، مرتے دم تک اس کی سلطنت باقی رہے گی ، کھانے پینے اور نکاح کی لذتیں تادمِ مرگ باقی رہیں گی ا ور مرنے کے بعد جنت میں داخلہ نصیب ہو گا ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے یہ وعدے کئے تو اسے یہ بات بہت پسند آئی لیکن وہ کسی کام پر ہامان سے مشورہ لئے بغیر قطعی فیصلہ نہیں کرتا تھا اور اس وقت ہامان موجود نہ تھا (اس لئے ا س نے کوئی فیصلہ نہ کیا) جب وہ آیا تو فرعون نے اسے یہ خبر دی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہدایت پر ایمان قبول کر لوں ۔ یہ سن کر ہامان کہنے لگا: میں تو تجھے عقلمند اور دانا سمجھتا تھا (لیکن یہ کیا کہ ) تو رب ہے اور بندہ بننا چاہتا ہے ، تو معبود ہے اور عابد بننے کی خواہش کرتا ہے ؟ فرعون نے کہا: تو نے ٹھیک کہا (یوں وہ ایمان قبول کرنے سے محروم رہا)۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۵۴)
{لَعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى:اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔} یعنی آپ کی تعلیم اور نصیحت اس امید کے ساتھ ہونی چاہیے کہ آپ کواجر و ثواب ملے اور اس پر حجت لازم ہو جائے اور اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے اور حقیقت میں ہونا تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۶۹۲، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۵۵، ملتقطاً)
نرمی کے فضائل:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ دین کی تبلیغ نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے اور تبلیغ کرنے والے کوچاہیے کہ وہ پیار محبت سے نصیحت کرے کیونکہ اس طریقے سے کی گئی نصیحت سے یہ امید ہوتی ہے کہ سامنے والا نصیحت قبول کر لے یا کم از کم اپنے گناہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے۔ نیز یاد رہے کہ دین کی تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی اور دُنْیَوی معاملات میں بھی جہاں تک ممکن ہو نرمی سے ہی کام لینا چاہئے کہ جو فائدہ نرمی کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے وہ سختی کرنے کی صورت میں حاصل ہو جائے یہ ضروری نہیں ۔ ترغیب کے لئے یہاں نرمی کے فضائل پر مشتمل 4 اَحادیث درج ذیل ہیں ۔
(1)…حضرت جریر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ بھلائی سے محروم رہا۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۴(۲۵۹۲))
(2)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصے سے محروم رکھا گیا۔( ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی الرفق، ۳ / ۴۰۷، الحدیث: ۲۰۲۰)
(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے عائشہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا، اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور رِفق یعنی نرمی کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ & اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۷(۲۵۹۳))
(4)…اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بد صورت کر دیتی ہے۔(مسلم، کتاب البرّ الصلۃ والآادب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۸(۲۵۹۴))
رحمت ِالٰہی کی جھلک:
اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جھلک بھی نظر آتی ہے کہ اپنی بارگاہ کے باغی اور سرکش کے ساتھ کس طرح اس نے نرمی فرمائی اور جب اپنے نافرمان بندے کے ساتھ اس کی نرمی کا یہ حال ہے تو اطاعت گزار اور فرمانبردار بندے کے ساتھ اس کی نرمی کیسی ہو گی۔ حضرت یحیٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت کی گئی تو آپ رونے لگے اور عرض کی : (اے اللّٰہ!) یہ تیری اس بندے کے ساتھ نرمی ہے جو کہتا ہے کہ میں معبود ہوں تو اس بندے کے ساتھ تیری نرمی کا کیا حال ہو گا جو کہتاہے کہ صرف تو ہی معبود ہے اور یہ تیری اس بندے کے ساتھ نرمی ہے جو کہتا ہے: میں تم لوگوں کا سب سے اعلیٰ رب ہوں تو اس بندے کے ساتھ تیری نرمی کا کیا عالَم ہو گا جو کہتا ہے :میرا وہ رب پاک ہے جو سب سے بلند ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۶۹۲)
قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُ سورتہ 20 آیت 59 )
کفار کے میلے میں
ترجمۂ کنز العرفان
موسیٰ نے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں ۔
 تفسیر صراط الجنان 
{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور اس دن یہ بھی ہونا چاہئے کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے اطمینان کے ساتھ دیکھ سکیں اور انہیں ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔ اس آیت میں جس میلے کا ذکر ہوا اس سے فرعونیوں کا وہ میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں وہ بہت سج سنور کر جمع ہوتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ وہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرم کا تھا۔ اس سال یہ تاریخ ہفتے کے دن واقع ہوئی تھی اور اس دن کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس لئے معین فرمایا کہ یہ دن ان کی انتہائی شوکت کا دن تھا اور اسے مقرر کرنے میں اپنی قوت کے کمال کا اظہار ہے، نیز اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اَطراف و جوانب کے تمام لوگ اکھٹے ہوں ۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳ / ۲۵۶-۲۵۷، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ص۶۹۴، جمل، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ۵ / ۸۰، ملتقطاً)
کفار کے میلے میں جانے کا شرعی حکم:
اس سے معلوم ہوا کہ شرعی ضرورت کے وقت مسلمان کو کفا رکے میلے میں جانا جائز ہے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مقابلہ کے لئے کفار کے میلہ میں گئے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت شکنی کے لئے بت خانہ میں گئے۔ اور شرعی ضرورت کے علاوہ تجارت یاکسی اور غرض سے جانے کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ میلہ کفار کا مذہبی ہے جس میں جمع ہوکر اعلانِ کفر اور شرکیہ رسمیں ادا کریں تو تجارت کی غرض سے بھی جانا ناجائز ومکروہِ تحریمی ہے، اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ، اور ہر صغیرہ اِصرار سے کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر وہ مجمع کفار کا مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کامیلہ ہے تو محض تجارت کی غرض سے جانا فی نفسہٖ وممنوع نہیں جبکہ یہ کسی گناہ کی طرف نہ لے جاتا ہو۔ پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ لوگ ہروقت مَعَاذَ اللہ لعنت اترنے کامحل ہیں اس لئے اُن سے دوری ہی بہتر ہے۔۔۔نیز یہ جواز بھی اُسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرنا پڑے مثلاً جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس جلسے سے دور اور لاتعلق علاقے میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا معصیت کو مستلزم ہوگا اور ہر وہ چیز جو معصیت کومستلزم ہووہ معصیت ہوتی ہے اور یہ جانا محض تجارت کی غرض سے ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت سے کیونکہ اس نیت سے جانا مطلقاً ممنوع ہے اگرچہ وہ مجمع غیرمذہبی ہو۔( فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۵۲۳-۵۲۶،ملخصاً)
ادب کی برکت سے
قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى(سورتہ 20 آیت 65 )
ترجمۂ کنز العرفان
انہوں نے کہا: اے موسیٰ ! یا تم (عصا نیچے) ڈالو یا ہم پہلے ڈالتے ہیں ۔
 تفسیر صراط الجنان 
{قَالُوْا یٰمُوْسٰى:انہوں نے کہا اے موسیٰ!} جب جادو گروں نے صف بندی کر لی تو انہوں نے کہا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ پہلے اپنا عصا زمین پر ڈالیں گے یاہم پہلے اپنے سامان ڈال دیں ۔ جادوگروں نے ادب کی وجہ سے مقابلے کی ابتداء کرنا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی دولت سے مشرف فرما دیا۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۶۹۵)
اللہ تَعَالٰی کے لیے ناراض ہونا 👇
فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ﳛ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا۬ؕ-اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ(سورتہ 20 آیت 86 )
ترجمۂ کنز العرفان
^ ہوئے لوٹے (اور) فرمایا: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا؟ کیا مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے۔
تفسیر صراط الجنان
{فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ:تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے چالیس دن پورے کئے اور وہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا کہ تمہاری قوم گمراہی میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توریت لے کر اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر لوٹے اوران کے حال پر افسوس کرتے ہوئے فرمانے لگے: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے، نور ہے ، ہزار سورتیں ہیں اور ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں ؟ کیا میرے تم سے جدا ہونے کی مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی اور ایسا ناقص کام کیا ہے کہ بچھڑے کو پوجنے لگے ، تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے۔(مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۶۹۹، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۶، ۳ / ۲۶۰، ملتقطاً)
اللہ تعالیٰ کے لئے راضی یا ناراض ہونا چاہئے:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس سے ^ تعالیٰ کی رضا کے لئے نافرمانی کرنے والے پر غصہ ہونا اور اس کے حال پر افسوس کا اظہار کرنا کامل انسان کی فطرت کے لَوازمات میں سے ہے، لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْکے طریقے کی پیروی کرے اور جب کوئی برائی ہوتی دیکھے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اس پر ناراضی اور غصہ کا اظہار کرے۔(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۵ / ۴۱۶)
اللہ تعالیٰ کے لئے راضی یا ناراض ہونے کے بارے میں حضرت عمرو بن حَمِق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتایہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرے اور اللہ تعالیٰ کے لئے راضی ہو اور جب اس نے ایسا کر لیا تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق ہوگیا۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۱۹۴، الحدیث: ۶۵۱)
اور اس سلسلے میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی ذات کا کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی حرمت کے خلاف کرتا تو اس سے اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔( بخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۲ / ۴۸۹، الحدیث: ۳۵۶۰)
حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
نماز میں طویل قراءَت
فرماتے ہیں :ایک آدمی نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہو سکتا ہے کہ میں نماز میں شامل نہ ہو سکوں کیونکہ فلاں ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ (راوی فرماتے ہیں کہ) میں نے نصیحت کرنے میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس دن سے زیادہ کبھی ناراض نہیں دیکھا تھا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ‘‘اے لوگو! تم مُتَنَفِّر کرتے ہو! تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔( بخاری، کتاب العلم، باب الغضب فی الموعظۃ ۔۔۔ الخ، ۱ / ۵۰، الحدیث: ۹۰)
افسوس! فی زمانہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ماتحت کام کرنے والا اگر ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ بسا اوقات اس پر موسلا دھار بارش کی طرح برس پڑتے ہیں لیکن اگر یہی لوگ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نافرمانی کرتے ہیں تو ان کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے، اٰمین۔
اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ایک سبب:
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ کچھ بندوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ بندے کسی پر غصہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر غضب فرماتا ہے اور اگر وہ بندے کسی سے راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوتا ہے گویا کہ انہیں ناراض کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوتا ہے اور انہیں راضی کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوتا ہے۔ حدیث ِقُدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی اس نے میر ے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا۔(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۱۸۴، الحدیث: ۶۰۹) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کا ادب کرے اور ہر ایسے کام سے بچے جو ان کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہو۔
علماء شفاعت کریں گے
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن لوگ صفیں باندھے ہوئے ہوں گے، (اتنے میں ) ایک دوزخی ایک جنتی کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے ایک دن مجھ سے پانی مانگا تو میں نے آپ کوپلا دیا تھا؟ اتنی سی بات پر وہ جنتی اس دوزخی کی شفاعت کرے گا۔ ایک جہنمی کسی دوسرے جنتی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ ایک دن میں نے آپ کووضو کیلئے پانی دیا تھا؟ اتنے ہی پر وہ اس کاشفیع ہوجائے گا۔ ایک کہے گا: آپ کو یاد نہیں کہ فلاں دن آپ نے مجھے فلاں کام کوبھیجا تومیں چلا گیا تھا؟ اسی قدر پر یہ اس کی شفاعت کرے گا۔( ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل صدقۃ الماء، ۴ / ۱۹۶، الحدیث: ۳۶۸۵)
شرک بہت بڑا گناہ
وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ-وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا(۱۱۱)
 ترجمۂ کنز العرفان 
اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔
 تفسیر صراط الجنان 
{وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ:اور تمام چہرے جھک جائیں گے ۔} ارشاد فرمایا کہ حشر کے دن تمام چہرے اس خدا کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں سرکشی نہ رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے قہر و حکومت کا کامل ظہور ہو گا اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کے بوجھ تلے دبے ہوئے مَوقِفِ قیامت میں آئے گا تو اس سے بڑھ کر نامراد کون ہے۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱،۳ / ۲۶۴، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۷۰۳-۷۰۴، ملتقطاً)
؟نیک اعمال اورلوگوں کا حال:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت سے معلوم ہو ا کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال میں مشغول رہے اور گناہوں سے رک جائے کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کے درخت کا پھل پائے گا اور جیسے اس کے اعمال ہوں گے ویسے انجام تک وہ پہنچ جائے گا اور نیک اعمال میں سب سے افضل فرائض کو ادا کرنا اور حرام و ممنوع کاموں سے بچنا ہے ۔ (اسی سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ) ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے حضرت ابو حازم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی : مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی پاکی بیان کرتے رہو اور اس بات کو بہت بڑ اجانو کہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں وہاں دیکھے جہاں اس نے تمہیں منع کیا ہے اور وہاں تجھے موجود نہ پائے جہاں موجود ہونے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔
اور نیک اعمال کے سلسلے میں لوگوں کی ایک تعدادکا یہ حال ہے کہ وہ نفلی کاموں میں تو بہت جلدی کرتے ہیں ، لمبے لمبے اور کثیر اوراد ووظائف پابندی سے پڑھتے ہیں ، مشکل اور بھاری نفلی کام کرنے میں رغبت رکھتے ہیں جبکہ وہ کام جنہیں کرنا ان پر فرض و واجب ہے ان میں سستی سے کام لیتے ہیں اور انہیں صحیح طریقے سے ادا بھی نہیں کرتے ۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں : نفسانی خواہش کی پیروی کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ نفلی نیک کام کرنے میں تو بہت جلدی کرے اور واجبات کے حقوق ادا کرنے میں سستی سے کام لے۔
حضرت ابومحمد مرتعش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے کئی حج ننگے پاؤں اور پید ل سفر کر کے کئے ۔ ایک دن رات کے وقت میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ ہاجرہ کو پانی پلا دو، تو مجھے یہ کام بہت بھاری لگا، اس سے میں نے جان لیا کہ پیدل حج کرنے پر میں نے اپنے نفس کی جو بات مانی اس میں میرے نفس کی لذت کا عمل دخل تھا کیونکہ اگر میرا نفس ختم ہو چکا ہوتا تو (والدہ کی اطاعت کا) وہ کام مجھے بھاری محسوس نہ ہوتا جو شریعت کا حق تھا۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۵ /
۴۳۱، ملخصاً)
لوگوں کے آرام کو نہ دیکھ
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى( سورت20 آیت 131 )
 ترجمۂ کنز العرفان 
اور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
 تفسیر صراط الجنان 
{وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى:اوراس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا۔} اس آیت میں بظاہر خطاب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے اور اس سے مراد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں جیسے یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکوں وغیرہ کودنیا کا جو ساز و سامان فائدہ اٹھانے کیلئے دیا ہے وہ اس وجہ سے دیا ہے تاکہ ہم انہیں اس کے سبب اس طرح آزمائش میں ڈالیں کہ ان پر جتنی نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کے سزاوار ہوں ،لہٰذا تو تعجب اور اچھائی کے طور پر اس کی طرف اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور آخرت میں تیرے ربعَزَّوَجَلَّ کا رزق جنت اور ا س کی نعمتیں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا رزق ہے۔( البحر المحیط، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۶ / ۲۶۹، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۳ / ۲۶۹-۲۷۰، ملتقطاً)
کفار کی ترقی ان کے لئے آزمائش ہے:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ کافروں کے دُنْیَوی سازو سامان،مال و دولت اور عیش و عشرت کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نافرمانوں کی شان و شوکت اور رعب داب نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷)
اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں ترقی، مال و دولت اور عیش عشرت کی فراوانی دیکھ کرتو ان سے انتہائی مرعوب اور دین ِاسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں جبکہ انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں کتنا آگے بڑھ چکے ہیں ، کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اسی ترقی کے سبب آج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں کر رہے …؟ فحاشی ، عُریانی ، بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں کر چکے…؟ ظلم و ستم ، سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں چکے…؟ مسلمانوں کو ذلت و رسوائی میں ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں چکے…؟ افسوس! ان سب چیزوں کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے ،سماعت سے بھر پور کانوں سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں سن سنا کر اور مسلمانوں کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی دین ِاسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ۔۔وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(سورتہ 20 آیت 132 )
 ترجمۂ کنز العرفان 
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔
 تفسیر صراط الجنان 
{وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ:اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیں اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں ۔(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ۵ / ۴۴۸)
حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے: ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ،اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘(ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۱۳۶)
نماز اور مسلمانوں کا حال:
یاد رہے کہ اس خطاب میں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘(التحریم:۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔!!
افسوس! فی زمانہ نماز کے معاملے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ گھر والے نمازیں چھوڑدیں ، انہیں ا س کی پرواہ نہیں ۔خود کی نمازیں ضائع ہو جائیں ،انہیں اس کی فکر نہیں اورکوئی شخص نماز چھوڑنے پرانہیں اُخروی حساب اور عذاب سے ڈرائے ،انہیں اس کا احساس نہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے اورنہ صرف خود نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی نمازی بنانے کی ہمت و توفیق نصیب کرے،اٰمین۔
{لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًا: ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے اور اس بات کا پابند نہیں کرتے کہ ہماری مخلوق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کے ذمہ دار ہو بلکہ ہم تجھے روزی دیں گے اور انہیں بھی ، تو روزی کے غم میں نہ پڑ ،بلکہ اپنے دل کو امر ِآخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو اللہ تعالیٰ کے کام میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی کارسازی کرتا ہے اور آخرت کا اچھاانجام پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کے لیے ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ص۷۰۷-۷۰۸)
اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑنے کا انجام:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو روزی دینا اس کے ذمے نہیں بلکہ سب کو روزی دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ۔
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : ’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ‘‘(الذاریات:۵۶۔۵۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں ۔بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔
یاد رہے کہ ان آیتوں کا مَنشاء یہ نہیں کہ انسان کمانا چھوڑ دے،کیونکہ کمائی کرنے کا حکم قرآن و حدیث میں بہت جگہ آیا ہے،بلکہ منشاء یہ ہے کہ بندہ کمائی کی فکر میں آخرت سے غافل نہ ہو اوردنیاکمانے میں اتنامگن نہ ہوجائے کہ حلال وحرام کی تمیزنہ کرے اور نماز،روزے ،حج ،زکوٰۃ سے غافل ہوجائے ۔
افسوس! فی زمانہ مسلمان مال کمانے میں اس قدر مگن ہو چکے ہیں کہ صبح شام ،دن رات اسی میں سرگرداں ہیں اور ان کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوسکیں اوراس خالق ومالک کویاد کرسکیں جوحقیقی روزی دینے والاہے ،اور اتنی محنت و کوشش کے باوجود ان کا جو معاشی حال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ آج ہر کوئی رزق کی کمی، مہنگائی، بیماری اور پوری نہیں پڑتی کا رونا رو رہا ہے۔ اے کاش! مسلمان رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس ذمہ داری کو بھی پورا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم کی ہے تو آج ان کا حال اس سے بہت مختلف ہوتا۔ عبرت کے لئے یہاں 3اَحادیث ملاحظہ فرمائیں :
(1)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدار رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے آخر ت کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیاا س کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو، اللہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے اور اس کے جمع شدہ کاموں کو مُنْتَشر کر دیتا ہے اور دنیا (کامال ) بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۳)
(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’جو شخص تمام فکروں کو چھوڑ کر ایک چیز(یعنی) آخرت کی فکر سے تعلق رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام دُنْیَوی کام اپنے ذمے لے لے گااور جو دنیوی فکروں میں مبتلا رہے گاتو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں،خواہ وہ کہیں بھی مرے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہمّ بالدنیا، ۴ / ۴۲۵، الحدیث: ۴۱۰۶)
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے انسان! تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا ،میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گااور اگر تو ایسا نہ کرے گا تو تیرے دونوں ہاتھ مَشاغل سے بھر دوں گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہ کروں گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۴)
روزی کے دروازے کھلنے کا ذریعہ:
اس آیت سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال سے روزی کے دروازے کھلتے ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
’’ یَحْتَسِبُ‘‘(سورۂ طلاق:۲،۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیےنکلنے کا راستہ بنادے گا۔ اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان (بھی)نہ ہو۔
حساب قریب آگیا؟
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(سورتہ 21 آیت 1 )
ترجمۂ کنز العرفان
لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
تفسیر صراط الجنان
اے لوگوں علم والوں؟
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن( سورتہ 21 آیت 7 )
ترجمۂ کنز العرفان
اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
تفسیر صراط الجنان
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ:اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔} یہاں کفارِ مکہ کے سابقہ کلام کا رد کیا جا رہا ہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بشری صورت میں ظہور فرمانا نبوت کے منافی نہیں کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے بھی ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ سابقہ قوموں کے پاس بھی اللہ تعالیٰ نے جو نبی اور رسول بھیجے وہ سب انسان اور مرد ہی تھے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں کے ذریعے احکامات وغیرہ کی وحی کی جاتی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کا دستور ہی یہ ہے تو پھر سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بشری صورت میں ظہور فرمانے پر کیا اعتراض ہے۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۲۷۲، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۴۵۵، تفسیر کبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۸ / ۱۲۲، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مرد تھے، کوئی عورت نبی نہ ہوئی۔
{فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔} آیت کے اس حصے میں کفارِ مکہ سے فرمایا گیا کہ اگر تمہیں گزشتہ زمانوں میں تشریف لانے والے رسولوں کے احوال معلوم نہیں تو تم اہلِ کتاب کے ان علماء سے پوچھ لو جنہیں ان کے احوال کا علم ہے ،وہ تمہیں حقیقت ِ حال کی خبر دیں گے۔( جلالین مع صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۱۲۹۱)
شرعی معلومات نہ ہونے اور نہ لینے کے نقصانات:
اس آیت میں نہ جاننے والے کو جاننے والے سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ناواقف کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں کہ وہ واقف سے دریافت کرے اور جہالت کے مرض کا علاج بھی یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عمل کرے اور جو اپنے اس مرض کا علاج نہیں کرتا وہ دنیا و آخرت میں بہت نقصان اٹھاتا ہے۔ یہاں اس کے چند نقصانات ملاحظہ ہوں
(1)… ایمان ایک ایسی اہم ترین چیز ہے جس پر بندے کی اُخروی نجات کا دارومدار ہے اور ایمان صحیح ہونے کے لئے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے، لہٰذا صحیح اسلامی عقائد سے متعلق معلومات ہونا لازمی ہے۔ اب جسے اُن عقائد کی معلومات نہیں جن پر بندے کا ایمان درست ہونے کا مدار ہے تو وہ اپنے گمان میں یہ سمجھ رہا ہو گا کہ میرا ایمان صحیح ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور اگر حقیقت بر عکس ہوئی اور حالت ِکفر میں مر گیا تو آخرت میں ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا اور ا س کے انتہائی دردناک عذابات سہنے ہوں گے۔
(2)…فرض و واجب اور دیگر عبادات کو شرعی طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے،اس لئے ان کے شرعی طریقے کی معلومات ہونا بھی ضروری ہے۔ اب جسے عبادات کے شرعی طریقے اوراس سے متعلق دیگر ضروری چیزوں کی معلومات نہیں ہوتیں اور نہ وہ کسی عالم سے معلومات حاصل کرتا ہے تو مشقت اٹھانے کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جیسے نماز کے درست اور قابلِ قبول ہونے کے لئے ’’طہارت‘‘ ایک بنیادی شرط ہے اور جس کی طہارت درست نہ ہو تووہ اگرچہ برسوں تک تہجد کی نما زپڑھتا رہے، پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرتا رہے اورساری ساری رات نوافل پڑھنے میں مصروف رہے، اس کی یہ تمام عبادات رائیگاں جائیں گی اور وہ ان کے ثواب سے محروم رہے گا۔
(3)…کاروباری، معاشرتی اور ازدواجی زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کے لئے شریعت نے کچھ اصول اور قوانین مقرر کئے ہیں اور انہی اصولوں پر اُن معاملات کے حلال یا حرام ہونے کا مدار ہے اور جسے ان اصول و قوانین کی معلومات نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرے تو حلال کی بجائے حرام میں مبتلا ہونے کا چانس زیادہ ہے اور حرام میں مبتلا ہونا خود کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حقدار ٹھہرانا ہے۔
سرِ دست یہ تین بنیادی اور بڑے نقصانات عرض کئے ہیں ورنہ شرعی معلومات نہ لینے کے نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جسے یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو عقائد، عبادات ،معاملات اور زندگی کے ہر شعبے میں شرعی معلومات حاصل کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فرض علوم سیکھنے کی ضرورت و اہمیت
یہاں میری ایک کتاب ’’علم اور علماء کی اہمیت‘‘ سے فرض علوم کی اہمیت و ضرورت پر ایک مضمون ملاحظہ ہو، چنانچہ اس میں ہے کہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہر آدمی پر اپنی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہے نمازی پر نماز کے ، روزہ رکھنے والے پر روزے کے ، زکوٰۃ دینے والے پرزکوٰۃ کے ،حاجی پر حج کے، تجارت کرنے والے پر خریدوفروخت کے، قسطوں پر کاروبار کرنے والے کے لئے اس کاروبار کے ، مزدوری پر کام کرنے والے کے لئے اجارے کے ، شرکت پر کام کرنے والے کے لئے شرکت کے ، مُضاربت کرنے والے پر مضاربت کے (مضاربت یہ ہوتی ہے کہ مال ایک کا ہے اور کام دوسرا کرے گا)، طلاق دینے والے پر طلاق کے، میت کے کفن ودفن کرنے والے پر کفن ودفن کے، مساجد ومدارس، یتیم خانوں اور دیگر ویلفیئرز کے مُتَوَلّیوں پر وقف اور چندہ کے مسائل سیکھنا فرض ہے ۔ یونہی پولیس، بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں اوردیگر محکموں کے ملازمین نیز جج اور کسی بھی ادارے کے افسر وناظمین پر رشوت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ۔ اسی طرح عقائد کے مسائل سیکھنا یونہی حسد ، بغض ، کینہ ، تکبر، ریاوغیرہا جملہ اُمور کے متعلق مسائل سیکھنا ہر اس شخص پر لازم ہے جس کا ان چیزوں سے تعلق ہوپھر ان میں فرائض ومُحَرّمات کا علم فرض اور واجبات ومکروہِ تحریمی کا علم سیکھنا واجب ہے اور سنتوں کا علم سیکھنا سنت ہے۔
اس مفہوم کی ایک حدیث حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، سرکا رِ دو عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: علم کا طلب کرنا ہر مومن پر فرض ہے یہ کہ وہ روزہ، نماز اور حرام اور حدود اور احکام کو جانے۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۶۸، الحدیث: ۱۵۷)
اس حدیث کی شرح میں خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضور پُر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان ’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ کا معنی یہ ہے کہ ہرشخص پر فرض ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت کے مسائل سیکھے جس پر اس کی لاعلمی کو قدرت نہ ہو۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۱)
اسی طرح کا ایک اور قول حضرت حسن بن ربیعرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللّٰہبن مبارک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ کی تفسیر کیا ہے؟آپ نے فرمایا :یہ وہ علم نہیں ہے جس کو تم آج کل حاصل کر رہے ہو بلکہ علم کاطلب کرنا اس صورت میں فرض ہے کہ آدمی کو دین کاکوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ اس مسئلے کے بارے میں کسی عالم سے پوچھے یہا ں تک کہ وہ عالم اسے بتا دے۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۱، روایت نمبر: ۱۶۲)
حضرت علی بن حسن بن شفیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا :علم سیکھنے کے اندر وہ کیا چیز ہے جو لوگوں پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا :وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کام کی طرف قدم نہ اٹھائے جب تک اس کے بارے میں سوال کر کے اس کا حکم سیکھ نہ لے، یہ وہ علم ہے جس کا سیکھنا لوگوں پر واجب ہے ۔ اورپھر اپنے اس کلام کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اگر کسی بندے کے پاس مال نہ ہو تو اس پر واجب نہیں کہ زکوٰۃ کے مسائل سیکھے بلکہ جب اس کے پاس دو سو درہم (ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا) آجا ئے تو اس پر یہ سیکھنا واجب ہوگا کہ وہ کتنی زکوٰۃ ادا کرے گا؟ اور کب نکالے گا؟ او ر کہاں نکالے گا؟ اور اسی طرح بقیہ تمام چیزوں کے احکام ہیں ۔ (یعنی جب کوئی چیز پیش آئے گی تو اس کی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہو جائے گا)( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۱، روایت نمبر: ۱۶۳)
امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ہر مسلمان پر یہ بات واجب ہے کہ وہ کھانےپینے، پہننے میں او ر پوشیدہ امور کے متعلق ان چیزوں کا علم حاصل کرے جو اس کے لیے حلال ہیں اور جو اس پر حرام ہیں ۔ یونہی خون اور اموال میں جو اس پر حلال ہے یا حرام ہے یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن سے بے خبر (غافل ) رہنا کسی کو بھی جائز نہیں ہے اور ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ ان چیزوں کو سیکھے ۔۔۔۔اور امام یعنی حاکمِ وقت عورتوں کے شوہروں کو اور لونڈیوں کے آقاؤں کو مجبور کرے کہ وہ انہیں وہ چیزیں سکھائیں جن کا ہم نے ذکر کیا اور حاکمِ وقت پر فرض ہے کہ وہ لوگوں کی اس بارے میں پکڑ کرے اور جاہلوں کو سکھانے کی جماعتیں ترتیب دے اور ان کے لئے بیت المال کے اندر رزق مقرر کرے اور علماء پر واجب ہے کہ وہ جاہلوں کو وہ چیزیں سکھائیں جن سے وہ حق وباطل میں فرق کرلیں ۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۴)
ان تمام اَقوال سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علمِ دین سیکھنا صرف کسی ایک خاص گروہ کا کام نہیں بلکہ اپنی ضرورت کی بقدر علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت علمِ دین سے دور نظر آتی ہے ۔ نمازیوں کو دیکھیں تو چالیس چالیس سال نماز پڑھنے کے باوجود حال یہ ہے کہ کسی کو وضو کرنا نہیں آتا تو کسی کو غسل کا طریقہ معلوم نہیں ، کوئی نماز کے فرائض کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتا تو کوئی واجبات سے جاہل ہے، کسی کی قرأ ت درست نہیں تو کسی کا سجدہ غلط ہے۔ یہی حال دیگر عبادات کا ہے خصوصاً جن لوگوں نے حج کیا ہو ان کو معلوم ہے کہ حج میں کس قدر غلطیاں کی جاتی ہیں ! ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بس حج کے لئے چلے جاؤ جو کچھ لوگ کر رہے ہوں گے وہی ہم بھی کرلیں گے۔ جب عبادات کا یہ حال ہے تو دیگر فرض علوم کا حال کیا ہوگا؟ یونہی حسد، بغض، کینہ، تکبر، غیبت، چغلی، بہتان اورنجانے کتنے ایسے امور ہیں جن کے مسائل کا جاننا فرض ہے لیکن ایک بڑی تعداد کو ان کی تعریف کا پتہ تک نہیں بلکہ ان کی فرضیت تک کا علم نہیں ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا گناہ ہونا عموماً لوگوں کو معلوم ہوتا ہے اور وہ چیزیں جن کے بارے میں بالکل بے خبر ہیں جیسے خریدوفروخت، ملازمت، مسجدو مدرسہ اور دیگر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے کچھ مسائل بھی ہیں ، بس ہر طرف ایک اندھیر نگری مچی ہوئی ہے ،ایسی صورت میں ہر شخص پر ضروری ہے خود بھی علم سیکھے اور جن پر اس کا بس چلتا ہو انہیں بھی علم سیکھنے کی طرف لائے اور جنہیں خود سکھا سکتا ہے انہیں سکھائے ۔
اگر تمام والدین اپنی اولاد کو اور تمام اساتذہ اپنے شاگردوں کو اور تمام پیر صاحبان اپنے مریدوں کو اور تمام افسران و صاحب ِ اِقتدار حضرات اپنے ماتحتوں کوعلمِ دین کی طرف لگا دیں تو کچھ ہی عرصے میں ہر طرف دین اور علم کا دَور دورہ ہو جائے گا اور لوگوں کے معاملات خود بخود شریعت کے مطابق ہوتے جائیں گے۔ فی الوقت جو نازک صورتِ حال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ ایک مرتبہ سناروں کی ایک بڑی تعداد کوایک جگہ جمع کیا گیا جب ان سے تفصیل کے ساتھ ان کا طریقۂ کار معلوم کیا گیا تو واضح ہوا کہ اس وقت سونے چاندی کی تجارت کا جو طریقہ رائج ہے وہ تقریباً اسی فیصد خلافِ شریعت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری دیگر تجارتیں اور ملازمتیں بھی کچھ اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں ۔
جب معاملہ اتنا نازک ہے تو ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرسکتا ہے، اس لئے ہر شخص پر ضروری ہے کہ علمِ دین سیکھے اور حتّی الامکان دوسروں کو سکھائے یا اس راہ پر لگائے اور یہ محض ایک مشورہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا حکم ہے ،چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور تم میں سے ہرایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا پس شہر کا حکمران لوگوں پرحاکم ہے اس سے اس کے ماتحت لوگو ں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے اس کی بیوی کے بارے میں اور ان(غلام لونڈیوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گاجن کا وہ مالک ہے۔( معجم صغیر، باب الدال، من اسمہ: داود، ص۱۶۱)
مذکورہ بالا حدیث میں اگرچہ ہر بڑے کو اپنے ماتحت کو علم سکھانے کا فرمایا ہے لیکن والدین پر اپنی اولاد کی ذمہ داری چونکہ سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کو بطورِ خاص تاکید فرمائی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عثمان الحاطبیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو سنا کہ آپ ایک شخص کو فرما رہے تھے: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ، بے شک تم سے تمہارے لڑکے کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم نے اسے سکھایا اور تمہارے اس بیٹے سے تمہاری فرمانبرداری اور اطاعت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔( شعب الایمان، الستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶ / ۴۰۰، روایت نمبر: ۸۶۶۲)
اس حدیث پر والدین کو خصوصاً غور کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے دن اولاد کے بارے میں یہی گرفت میں آئیں گے ،اگر صرف والدین ہی اپنی اولاد کی دینی تربیت و تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دے لیں تو علمِ دین سے دوری کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ دُنْیَوی علوم کے سکھانے میں تو والدین ہرقسم کی تکلیف گوارا کرلیں گے ،اسکول کی بھاری فیس بھی دیں گے، کتابیں بھی خرید کر دیں گے اور نجانے کیاکیا کریں گے لیکن علمِ دین جو ان سب کے مقابلے میں ضروری اور مفید ہے اس کے بارے میں کچھ بھی توجہ نہیں دیں گے، بلکہ بعض ایسے بدقسمت والدین کو دیکھا ہے کہ اگر اولاد دین اور علمِ دین کی طرف راغب ہوتی ہے تو انہیں جبراً منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں کیا رکھا ہے ۔ہم دنیوی علم کی اہمیت و ضرورت کا انکار نہیں کرتے لیکن یہ دینی علم کے بعد ہے اور والدین کا یہ کہنا کہ علمِ دین میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہ بالکل غلط جملہ ہے۔ اول تو یہ جملہ ہی کفریہ ہے کہ اس میں علمِ دین کی تحقیر ہے۔ دوم اسی پر غور کرلیں کہ علمِ دین سیکھنا اور سکھانا افضل ترین عبادت، انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وراثت، دنیا و آخرت کی خیر خواہی اور قبروحشر کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔آج نہیں تو کل جب حساب کے لئے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونا پڑے گااس وقت پتہ چلے گا کہ علمِ دین کیا ہے؟ بلکہ صرف اسی بات پر غور کرلیں کہ مرتے وقت آج تک آپ نے کسی شخص کو دیکھا ہے کہ جس کو دنیا کا علم حاصل نہ کرنے پر افسوس ہورہا ہو ۔ہاں علمِ دین حاصل نہ کرنے ، دینی راہ پر نہ چلنے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے کام نہ کرنے پر افسوس کرنے والے آپ کو ہزاروں ملیں گے اور یونہی مرنے کے بعد ایسا کوئی شخص نہ ہوگا جسے ڈاکٹری نہ سیکھنے پر، انجینئر نہ بننے پر، سائنسدان نہ بننے پر افسوس ہو رہا ہو البتہ علمِ دین نہ سیکھنے پر افسوس کرنے والے بہت ہوں گے۔ بلکہ خود حدیث پاک میں موجود ہے کہ کل قیامت کے دن جن آدمیوں کو سب سے زیادہ حسرت ہوگی ان میں ایک وہ ہے جس کو دنیا میں علم حاصل کرنے کا موقع ملا اور اس نے علم حاصل نہ کیا۔( ابن عساکر، حرف المیم، محمد بن احمد بن محمد بن جعفر۔۔۔ الخ، ۵۱ / ۱۳۷)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل ِسلیم دے اور انہیں علمِ دین کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
سوال کرناعلم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال کرنا علم حاصل ہونے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’علم خزانے ہیں اور ان خزانوں کی چابی سوال کرناہے تو تم سوال کرو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ، کیونکہ سوال کرنے کی صورت میں چار لوگوں کو اجر دیاجاتا ہے۔ (1) سوال کرنے والے کو۔ (2) سکھانے والے کو۔ (3) سننے والے کو۔ (4) ان سے محبت رکھنے والے کو۔( الفقیہ والمتفقہ، باب فی السؤال والجواب وما یتعلّق بہما۔۔۔ الخ، ۲ / ۶۱، الحدیث: ۶۹۳)
حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اچھا سوال کرنا نصف علم ہے۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵ / ۱۰۸، الحدیث: ۶۷۴۴)
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے تمام پہلوؤں میں در پیش معاملات کے بارے میں اہلِ علم سے سوال کرنے اور اس کے ذریعے دین کے شرعی اَحکام کا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
{ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ:لوگوں کا حساب قریب آگیا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اِس آیت میں اگرچہ اُس وقت کفارِ قریش کی طرف اشارہ کیا گیاہے لیکن لفظ’’اَلنَّاسِ‘‘ میں عموم ہے(اور اس سے تمام لوگ مراد ہیں ۔)نیزیہاں قیامت کے دن کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو بھی عمل کئے ہیں اور ان کے بدنوں ، ان کے جسموں ، ان کے کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے ملبوسات میں اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کے حساب کا وقت(روزِقیامت)قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں انہوں نے کیا عمل کئے،آیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ،اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کی غفلت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم مصیبتوں اور شدید ہولناکیوں سے بے فکر ہیں اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں اورانہیں اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۲۷۰-۲۷۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۰۹، تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۹ / ۳، ملتقطاً)
اُخروی حساب سے غفلت کے معاملے میں کفار کی روش اور مسلمانوں کا حال :
یہاں اگرچہ کفار کی روش کو بیان کیا گیا ہے لیکن افسوس !فی زمانہ مسلمانوں میں بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کے حساب سے غفلت بہت عام ہو چکی ہے اور آج انہیں بھی جب نصیحت کی جاتی ہے اورموت کی تکلیف، قبر کی تنگی، قیامت کی ہولناکی، حساب کی سختی اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی بجائے منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں، حالانکہ مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو کافروں اور مشرکوں کا شیوہ ہو۔
امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’اے انسان! تجھے اپنے کریم رب عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھاہے کہ تو دروازے بند کرکے، پردے ٹکا کر اور لوگوں سے چھپ کر فسق وفجور اور گناہوں میں مبتلا ہو گیا! (تو لوگوں کے خبردار ہونے سے ڈرتا ہے حالانکہ تجھے پیدا کرنے والے سے تیرا کوئی حال چھپا ہوا نہیں ) جب تیرے اَعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے(اور جو کچھ تو لوگوں سے چھپ کر کرتا رہا وہ سب ظاہر کر دیں گے) تو اس وقت تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں کی جماعت! تمہارے لئے مکمل خرابی ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے پاس سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھیجے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر روشن کتاب نازل فرمائے(جس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے)اور تمہیں قیامت کے اوصاف کی خبر دے، پھر تمہاری غفلت سے بھی تمہیں آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے کہ : ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲) لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ‘‘(انبیاء:۱-۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔ ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں ۔
پھر وہ ہمیں قیامت قریب ہونے کے بارے میں بتاتے ہوئے ارشادفرمائے کہ
’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘(قمر:۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
اور ارشادفرمائے کہ
’’ اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًا‘‘(معارج۶،۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہماسے قریب دیکھ رہے ہیں ۔
اور ارشاد فرمائے کہ:
’’ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا‘‘(احزاب:۶۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
اس کے بعد تمہاری سب سے اچھی حالت تو یہ ہونی چاہئے کہ تم اس قرآنِ عظیم کے دئیے درس پر عمل کرو، لیکن اس کے برعکس تمہارا حا ل یہ ہے کہ تم اس قرآن کے معانی میں غوروفکر نہیں کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں کو(عبرت کی نگاہ سے) نہیں دیکھتے اور اس دن کی مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ہم اس غفلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس غفلت کو دور فرمائے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الشطر الثانی من کتاب ذکر الموت فی احوال المیت۔۔۔ الخ، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵ / ۲۷۶)اور ہر مسلمان کو اس فانی دنیا سے بے رغبت ہو کر نیک اعمال کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ترغیب کے لئے یہاں دو حکایات ملاحظہ ہوں :
مجھے تمہاری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں :
حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک عربی ان کے پاس آیا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کانہایت اِکرام کیا اوراس کے متعلق حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کلام کیا۔ وہ شخص جب دوبارہ حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا تواس نے کہا کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک وادی طلب کی ہے جس سے بہتر عرب میں کوئی وادی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لیے اس میں سے کچھ حصہ علیحدہ کردوں جوتمہارے اورتمہاری اولا دکے کام آئے۔ حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے کہا کہ’’ ہمیں تیری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں،کیونکہ آج ایک سورت نازل ہوئی ہے اس نے ہمیں دنیا کی لذتیں بھلا دی ہیں (اوراس میں یہ آیت ہے)’’ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔(ابن عساکر، حرف العین، ذکر من اسمہ عامر، عامر بن ربیعۃ بن کعب بن مالک۔۔۔ الخ، ۲۵ / ۳۲۷)
جب حساب کا وقت قریب ہے تو یہ دیوار نہیں بنے گی:
ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دیوار بنا رہے تھے، جس دن یہ سورت نازل ہوئی ا س دن ان کے پاس سے ایک شخص گزرا تو انہوں نے اس سے پوچھا ’’ آج قرآن پاک میں کیا نازل ہوا ہے ؟اس نے بتایا کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘ لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ان صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ سناتواسی وقت دیوار بنانے سے ہاتھ جھاڑ لیے اور کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جب حساب کاوقت قریب آگیا ہے تو پھر یہ دیوار نہیں بنے گی۔(قرطبی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۶ / ۱۴۵، الجزء الحادی عشر)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کی توفیق سے ہمارے دلوں میں بھی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے اور ہم بھی اپنی اُخروی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو جائیں ۔
کفار اور فاسق کی نکیر قبول نہیں
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸)لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا(۲۹)
 ترجمۂ کنز العرفان 
ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا اور شیطان انسان کو مصیبت کے وقت بے مدد چھوڑ دینے والا ہے۔
 تفسیر صراط الجنان 
{یٰوَیْلَتٰى: ہائے میری بربادی!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر کہے گا: ’’ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتاجس نے مجھے گمراہ کر دیا۔ بیشک اس نے اللہ تعالٰی کی طرف سے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس نصیحت یعنی قرآن اور ایمان سے بہکا دیا اور شیطان کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ انسان کو مصیبت کے وقت بے یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے اور جب انسا ن پربلاو عذاب نازل ہوتا ہے تو اس وقت اس سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ۳ / ۳۷۱، ملخصاً)
بری صحبت اور دوستی سے بچنے کی ترغیب:
اس سے معلوم ہو اکہ بد مذہبوں اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،انہیں اپنا دوست بنانا اور ان سے محبت کرنادنیا اور آخرت میں انتہائی نقصان دِہ ہے۔ اَحادیث میں بری صحبت اور دوستی سے بچنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، چنانچہ ترغیب کے لئے یہاں اس سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’برے ہم نشین سے بچو کہ تم اسی کے ساتھ پہچانے جاؤ گے۔( ابن عساکر ، ذکر من اسمہ الحسین ، حرف الجیم فی آباء من اسمہ الحسین ، الحسین بن جعفر بن محمد ۔۔۔ الخ ، ۱۴ / ۴۶) یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست وبَرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں ۔
(2)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مُزَیَّن کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ تیرے لئے خودکو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے گا، اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے، اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر ہے اورجھوٹے آدمی سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ میل جول تجھے نفع نہ دے گی، وہ تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔( ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۵۱۶)
فی زمانہ بعض نادان لوگ بد مذہبوں سے تعلقات قائم کرتے اور یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہلا نہیں سکتا، ہم بہت ہی مضبوط ہیں ،ہم نے ان سے تعلق ا س لئے قائم رکھاہوا ہے تاکہ انہیں اپنے جیسا بنالیں ، یونہی بعض نادان تسکینِ نفس کی خاطر بد مذہب عورتوں سے نکاح کرتے اور یوں کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے نکاح اس لئے کیا ہے تاکہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیں ،اسی طرح کچھ نادان گھرانے ایسے بھی ہیں جو صرف دنیا کی اچھی تعلیم کی خاطر اپنے نونہالوں کو بد مذہب استادوں کے سپرد کردیتے ہیں اور بالآخر یہی بچے بڑے ہو کر بد مذہبی اختیار کر جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ا س کلام سے عبرت حاصل کریں ، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ فرماتے ہیں :غیر مذہب والیوں (یا والوں ) کی صحبت آگ ہے، ذی علم، عاقل، بالغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصہ مشہور ہے، یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا، خارجی مذہب کی عورت (سے شادی کرکے اس) کی صحبت میں (رہ کر) مَعَاذَاللہ خود خارجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے) اسے سنی کرنا چاہتا ہے۔ جب صحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدث گمراہ ہو گیا) تو (بدمذہب کو) استاد بنانا کس درجہ بدتر ہے کہ استاد کا اثر بہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے، تو غیر مذہب عورت (یا مرد) کی سپردگی یا شاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا جو آپ (خودہی) دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔( فتاویٰ رضویہ،علم وتعلیم، ۲۳ / ۶۹۲)
اللہ تعالٰی ہمیں بدمذہبوں اور برے لوگوں سے دوستی رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے سے محفوظ فرمائے اور نیک و پرہیز گار لوگوں سے میل جول رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ بے دین اور بدمذہب کی دوستی اور اس کے ساتھ صحبت و اختلاط اور الفت و احترام ممنوع ہے۔
اچھی صحبت اور دوستی اختیار کرنے کی ترغیب:
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور اپنا دوست بھی اچھے لوگوں کو ہی بنائے۔ کثیر احادیث میں اچھی صحبت اختیار کرنے اور اچھے ساتھیوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے یہاں ان میں سے 4اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کامل مومن کے علاوہ کسی کو ہم نشین نہ بناؤ اور تمہارا کھانا پرہیز گار ہی کھائے۔( ابوداؤد، کتاب الادب، باب من یؤمر ان یجالس، ۴ / ۳۴۱، الحدیث: ۴۸۳۲)
(2)…حضرت ابو جحیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بڑوں کے پاس بیٹھا کرو، علما ء سے باتیں پوچھا کرو اور حکمت والوں سے میل جول رکھو۔( معجم الکبیر، سلمۃ بن کہیل عن ابی جحیفۃ، ۲۲ / ۱۲۵، الحدیث: ۳۲۴)
(3)…حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کون سا ساتھی اچھا ہے؟ارشاد فرمایا’’اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے تو وہ تیری مدد کرے اور جب تو بھولے تو وہ یاد دلائے۔(رسائل ابن ابی الدنیا ، کتاب الاخوان ، باب من امر بصحبتہ ورغب فی اعتقاد مودتہ ، ۸ / ۱۶۱، الحدیث: ۴۲)
(4)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اچھا ہم نشین وہ ہے کہ اسے دیکھنے سے تمہیں خدایاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔( جامع صغیر، حرف الخاء، ص۲۴۷، الحدیث: ۴۰۶۳)
جبرائیل اعلان کرتے ہیں
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ند اکی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَاماس سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامآسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین والوں میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲ / ۳۸۲، الحدیث: ۳۲۰۹)شیطان کے ساتھ ہوگے تفسیر
فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ(۶۸)
 ترجمۂ کنز العرفان 
تو تیرے رب کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کرلیں گے پھر انہیں دوزخ کے آس پاس اس حال میں حاضر کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے ۔
 تفسیر صراط الجنان 
{فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ:تو تمہارے رب کی قسم! ہم انہیں جمع کرلیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے رب کی قسم! ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے کافروں کو قیامت کے دن زندہ کر کے انہیں گمراہ کرنے والے شیطانوں کے ساتھ اس طرح جمع کرلیں گے کہ ہر کافر شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑا ہو گا ، پھر انہیں دوزخ کے آس پاس اس حال میں حاضر کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کر کے دہشت کے مارے ان سے کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا اور وہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے۔(خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳ / ۲۴۱-۲۴۲، روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۶۸، ۵ / ۳۴۹) اور کافروں کی ایسی ذلت و رسوائی دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور سعادت مند بندے اس بات پر بہت خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس ذلت سے نجات عطا فرمائی جبکہ ان کے دشمن کفار ان کی سعادت و خوش بختی دیکھ کر حسرت و افسوس اور انہیں برابھلا کہنے پر خود کو ملامت کررہے ہوں گے۔
یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس دن کی شدت اور حساب کی سختی دیکھ کر ہر دین والا زانو کے بل گرا ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً‘‘(جاثیہ:۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے۔
اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ کافروں کو جب جہنم کے قریب حاضر کیا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کرکے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے جیسا کہ زیرِتفسیر آیت میں بیان ہوا، تو ان دونوں آیات میں جدا جدا احوال کا بیان ہے اس لئے ان میں کوئی تَعارُض نہیں ۔
دنیا و آخرت میں شیطان کا ساتھی بننے کاسبب:
اس آیت کی تفسیر میں بیان ہو اکہ کافر اور اسے گمراہ کرنے والا شیطان ایک ساتھ زنجیر میں جکڑ اہو گا، اس مناسبت سے ہم یہاں دنیا اور آخرت میں شیطان کا ساتھی بننے کا ایک سبب بیان کرتے ہیں ، چنانچہ جو شخص قرآنِ مجید سے اس طرح اندھا بن جائے کہ اس کی ہدایتوں کو دیکھے نہ ان سے فائدہ اٹھائے، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اِعراض کرے اور اس کی گرفت اور عذاب سے بے خوف ہو جائے، دُنْیَوی زندگی کی لذّتوں اور آسائشوں میں زیادہ مشغولیت اور اس کی فانی نعمتوں اور نفسانی خواہشات میں اِنہماک کی وجہ سے قرآن سے منہ پھیر لے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے جو دنیا میں اسے حلال کاموں سے روک کر اور حرام کاموں کی ترغیب دے کر، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منع کر کے اور اس کی نافرمانی کا حکم دے کر گمراہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کفر کی اندھیری وادیوں میں دھکیل کر حالت ِکفر میں مرواتا ہے اور پھر یہی شیطان قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ہو گا کہ ان دونوں کو ایک ساتھ زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ(۳۶)وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۷)حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ‘‘(زخرف:۳۶-۳۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتا ہے۔ اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں اوروہ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔یہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاسآئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے توتُو کتنا ہی برا ساتھی ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِۚ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ‘‘(حم السجدہ:۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے کافروں کیلئے کچھ ساتھی مقرر کر دئیے توانہوں نے ان کے لئے ان کے آگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور جب بھی وہ کسی برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔(مسند الفردوس، باب الالف، ۱ / ۲۴۵، الحدیث: ۹۴۸)
اس میں خاص طور پر کفار اور عمومی طور پرتمام مسلمانوں کے لئے نصیحت ہے کہ وہ ایسے کام کرنے سے بچیں جن کی وجہ سے شیطان کو ان کا ساتھی بنا دیا جائے کیونکہ شیطان انتہائی برا ساتھی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا‘‘(النساء:۳۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو کتنا برا ساتھی ہوگیا۔
اور جس کا ساتھی شیطان ہو وہ اپنے انجام پر خود ہی غور کرلے کہ کیساہو گا۔
بیکار باتوں سے پرہیز کریں
بیکار باتوں سے پرہیز کریں :
اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم الشان نعمتو ں کے گھر جنت کو فضول اور بیکار باتوں سے پاک فرمایا ہے ،اس سے معلوم ہوا دنیا میں رہتے ہوئے بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بیکار باتوں سے بچتا رہے اور فضول کلام سے پرہیز کرے۔ اللہ تعالیٰ کامل ایمان والوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا‘‘(فرقان:۷۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سےگزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔
اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ٘-سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ٘-لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ‘‘(قصص:۵۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں سلام، ہم جاہلوں (کی دوستی)کو نہیں چاہتے ۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’(یہ بات) آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیز کو چھوڑ دے۔( ترمذی، کتاب الزہد، ۱۱-باب، ۴ / ۱۴۲، الحدیث: ۲۳۲۵) اللہ تعالیٰ ہمیں بیکار باتوں اور فضول کلام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
لوگوں کے ساتھ نرمی
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴)
ترجمۂ کنز العرفان
توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔
تفسیر صراط الجنان
{فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا:توتم اس سے نرم بات کہنا ۔} یعنی جب تم فرعون کے پاس جاؤ تو اسے نرمی کے ساتھ نصیحت فرمانا۔ بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کے ساتھ نرمی کا حکم اس لئے تھا کہ اس نے بچپن میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت کی تھی اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ نرمی سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سے وعدہ کریں کہ اگر وہ ایمان قبول کرے گا تو تمام عمر جوان رہے گا کبھی بڑھاپا نہ آئے گا ، مرتے دم تک اس کی سلطنت باقی رہے گی ، کھانے پینے اور نکاح کی لذتیں تادمِ مرگ باقی رہیں گی ا ور مرنے کے بعد جنت میں داخلہ نصیب ہو گا ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے یہ وعدے کئے تو اسے یہ بات بہت پسند آئی لیکن وہ کسی کام پر ہامان سے مشورہ لئے بغیر قطعی فیصلہ نہیں کرتا تھا اور اس وقت ہامان موجود نہ تھا (اس لئے ا س نے کوئی فیصلہ نہ کیا) جب وہ آیا تو فرعون نے اسے یہ خبر دی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہدایت پر ایمان قبول کر لوں ۔ یہ سن کر ہامان کہنے لگا: میں تو تجھے عقلمند اور دانا سمجھتا تھا (لیکن یہ کیا کہ ) تو رب ہے اور بندہ بننا چاہتا ہے ، تو معبود ہے اور عابد بننے کی خواہش کرتا ہے ؟ فرعون نے کہا: تو نے ٹھیک کہا (یوں وہ ایمان قبول کرنے سے محروم رہا)۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۵۴)
{لَعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى:اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔} یعنی آپ کی تعلیم اور نصیحت اس امید کے ساتھ ہونی چاہیے کہ آپ کواجر و ثواب ملے اور اس پر حجت لازم ہو جائے اور اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے اور حقیقت میں ہونا تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۶۹۲، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۵۵، ملتقطاً)
نرمی کے فضائل:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ دین کی تبلیغ نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے اور تبلیغ کرنے والے کوچاہیے کہ وہ پیار محبت سے نصیحت کرے کیونکہ اس طریقے سے کی گئی نصیحت سے یہ امید ہوتی ہے کہ سامنے والا نصیحت قبول کر لے یا کم از کم اپنے گناہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے۔ نیز یاد رہے کہ دین کی تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی اور دُنْیَوی معاملات میں بھی جہاں تک ممکن ہو نرمی سے ہی کام لینا چاہئے کہ جو فائدہ نرمی کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے وہ سختی کرنے کی صورت میں حاصل ہو جائے یہ ضروری نہیں ۔ ترغیب کے لئے یہاں نرمی کے فضائل پر مشتمل 4 اَحادیث درج ذیل ہیں ۔
(1)…حضرت جریر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ بھلائی سے محروم رہا۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۴(۲۵۹۲))
(2)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصے سے محروم رکھا گیا۔( ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی الرفق، ۳ / ۴۰۷، الحدیث: ۲۰۲۰)
(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے عائشہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا، اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور رِفق یعنی نرمی کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ & اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۷(۲۵۹۳))
(4)…اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بد صورت کر دیتی ہے۔(مسلم، کتاب البرّ الصلۃ والآادب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۸(۲۵۹۴))
رحمت ِالٰہی کی جھلک:
اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جھلک بھی نظر آتی ہے کہ اپنی بارگاہ کے باغی اور سرکش کے ساتھ کس طرح اس نے نرمی فرمائی اور جب اپنے نافرمان بندے کے ساتھ اس کی نرمی کا یہ حال ہے تو اطاعت گزار اور فرمانبردار بندے کے ساتھ اس کی نرمی کیسی ہو گی۔ حضرت یحیٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت کی گئی تو آپ رونے لگے اور عرض کی : (اے اللّٰہ!) یہ تیری اس بندے کے ساتھ نرمی ہے جو کہتا ہے کہ میں معبود ہوں تو اس بندے کے ساتھ تیری نرمی کا کیا حال ہو گا جو کہتاہے کہ صرف تو ہی معبود ہے اور یہ تیری اس بندے کے ساتھ نرمی ہے جو کہتا ہے: میں تم لوگوں کا سب سے اعلیٰ رب ہوں تو اس بندے کے ساتھ تیری نرمی کا کیا عالَم ہو گا جو کہتا ہے :میرا وہ رب پاک ہے جو سب سے بلند ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۶۹۲)
قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُ سورتہ 20 آیت 59 )
کفار کے میلے میں
ترجمۂ کنز العرفان
موسیٰ نے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں ۔
 تفسیر صراط الجنان 
{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور اس دن یہ بھی ہونا چاہئے کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے اطمینان کے ساتھ دیکھ سکیں اور انہیں ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔ اس آیت میں جس میلے کا ذکر ہوا اس سے فرعونیوں کا وہ میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں وہ بہت سج سنور کر جمع ہوتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ وہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرم کا تھا۔ اس سال یہ تاریخ ہفتے کے دن واقع ہوئی تھی اور اس دن کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس لئے معین فرمایا کہ یہ دن ان کی انتہائی شوکت کا دن تھا اور اسے مقرر کرنے میں اپنی قوت کے کمال کا اظہار ہے، نیز اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اَطراف و جوانب کے تمام لوگ اکھٹے ہوں ۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳ / ۲۵۶-۲۵۷، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ص۶۹۴، جمل، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ۵ / ۸۰، ملتقطاً)
کفار کے میلے میں جانے کا شرعی حکم:
اس سے معلوم ہوا کہ شرعی ضرورت کے وقت مسلمان کو کفا رکے میلے میں جانا جائز ہے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مقابلہ کے لئے کفار کے میلہ میں گئے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت شکنی کے لئے بت خانہ میں گئے۔ اور شرعی ضرورت کے علاوہ تجارت یاکسی اور غرض سے جانے کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ میلہ کفار کا مذہبی ہے جس میں جمع ہوکر اعلانِ کفر اور شرکیہ رسمیں ادا کریں تو تجارت کی غرض سے بھی جانا ناجائز ومکروہِ تحریمی ہے، اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ، اور ہر صغیرہ اِصرار سے کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر وہ مجمع کفار کا مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کامیلہ ہے تو محض تجارت کی غرض سے جانا فی نفسہٖ وممنوع نہیں جبکہ یہ کسی گناہ کی طرف نہ لے جاتا ہو۔ پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ لوگ ہروقت مَعَاذَ اللہ لعنت اترنے کامحل ہیں اس لئے اُن سے دوری ہی بہتر ہے۔۔۔نیز یہ جواز بھی اُسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرنا پڑے مثلاً جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس جلسے سے دور اور لاتعلق علاقے میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا معصیت کو مستلزم ہوگا اور ہر وہ چیز جو معصیت کومستلزم ہووہ معصیت ہوتی ہے اور یہ جانا محض تجارت کی غرض سے ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت سے کیونکہ اس نیت سے جانا مطلقاً ممنوع ہے اگرچہ وہ مجمع غیرمذہبی ہو۔( فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۵۲۳-۵۲۶،ملخصاً)
ادب کی برکت سے
قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى(سورتہ 20 آیت 65 )
ترجمۂ کنز العرفان
انہوں نے کہا: اے موسیٰ ! یا تم (عصا نیچے) ڈالو یا ہم پہلے ڈالتے ہیں ۔
 تفسیر صراط الجنان 
{قَالُوْا یٰمُوْسٰى:انہوں نے کہا اے موسیٰ!} جب جادو گروں نے صف بندی کر لی تو انہوں نے کہا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ پہلے اپنا عصا زمین پر ڈالیں گے یاہم پہلے اپنے سامان ڈال دیں ۔ جادوگروں نے ادب کی وجہ سے مقابلے کی ابتداء کرنا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی دولت سے مشرف فرما دیا۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۶۹۵)
اللہ تَعَالٰی کے لیے ناراض ہونا 👇
فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ﳛ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا۬ؕ-اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ(سورتہ 20 آیت 86 )
ترجمۂ کنز العرفان
^ ہوئے لوٹے (اور) فرمایا: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا؟ کیا مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے۔
تفسیر صراط الجنان
{فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ:تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے چالیس دن پورے کئے اور وہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا کہ تمہاری قوم گمراہی میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توریت لے کر اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر لوٹے اوران کے حال پر افسوس کرتے ہوئے فرمانے لگے: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے، نور ہے ، ہزار سورتیں ہیں اور ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں ؟ کیا میرے تم سے جدا ہونے کی مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی اور ایسا ناقص کام کیا ہے کہ بچھڑے کو پوجنے لگے ، تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے۔(مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۶۹۹، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۶، ۳ / ۲۶۰، ملتقطاً)
اللہ تعالیٰ کے لئے راضی یا ناراض ہونا چاہئے:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس سے ^ تعالیٰ کی رضا کے لئے نافرمانی کرنے والے پر غصہ ہونا اور اس کے حال پر افسوس کا اظہار کرنا کامل انسان کی فطرت کے لَوازمات میں سے ہے، لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْکے طریقے کی پیروی کرے اور جب کوئی برائی ہوتی دیکھے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اس پر ناراضی اور غصہ کا اظہار کرے۔(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۵ / ۴۱۶)
اللہ تعالیٰ کے لئے راضی یا ناراض ہونے کے بارے میں حضرت عمرو بن حَمِق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتایہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرے اور اللہ تعالیٰ کے لئے راضی ہو اور جب اس نے ایسا کر لیا تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق ہوگیا۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۱۹۴، الحدیث: ۶۵۱)
اور اس سلسلے میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی ذات کا کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی حرمت کے خلاف کرتا تو اس سے اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔( بخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۲ / ۴۸۹، الحدیث: ۳۵۶۰)
حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
نماز میں طویل قراءَت
فرماتے ہیں :ایک آدمی نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہو سکتا ہے کہ میں نماز میں شامل نہ ہو سکوں کیونکہ فلاں ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ (راوی فرماتے ہیں کہ) میں نے نصیحت کرنے میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس دن سے زیادہ کبھی ناراض نہیں دیکھا تھا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ‘‘اے لوگو! تم مُتَنَفِّر کرتے ہو! تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔( بخاری، کتاب العلم، باب الغضب فی الموعظۃ ۔۔۔ الخ، ۱ / ۵۰، الحدیث: ۹۰)
افسوس! فی زمانہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ماتحت کام کرنے والا اگر ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ بسا اوقات اس پر موسلا دھار بارش کی طرح برس پڑتے ہیں لیکن اگر یہی لوگ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نافرمانی کرتے ہیں تو ان کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے، اٰمین۔
اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ایک سبب:
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ کچھ بندوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ بندے کسی پر غصہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر غضب فرماتا ہے اور اگر وہ بندے کسی سے راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوتا ہے گویا کہ انہیں ناراض کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوتا ہے اور انہیں راضی کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوتا ہے۔ حدیث ِقُدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی اس نے میر ے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا۔(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۱۸۴، الحدیث: ۶۰۹) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کا ادب کرے اور ہر ایسے کام سے بچے جو ان کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہو۔
علماء شفاعت کریں گے
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن لوگ صفیں باندھے ہوئے ہوں گے، (اتنے میں ) ایک دوزخی ایک جنتی کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے ایک دن مجھ سے پانی مانگا تو میں نے آپ کوپلا دیا تھا؟ اتنی سی بات پر وہ جنتی اس دوزخی کی شفاعت کرے گا۔ ایک جہنمی کسی دوسرے جنتی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ ایک دن میں نے آپ کووضو کیلئے پانی دیا تھا؟ اتنے ہی پر وہ اس کاشفیع ہوجائے گا۔ ایک کہے گا: آپ کو یاد نہیں کہ فلاں دن آپ نے مجھے فلاں کام کوبھیجا تومیں چلا گیا تھا؟ اسی قدر پر یہ اس کی شفاعت کرے گا۔( ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل صدقۃ الماء، ۴ / ۱۹۶، الحدیث: ۳۶۸۵)
شرک بہت بڑا گناہ
وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ-وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا(۱۱۱)
 ترجمۂ کنز العرفان 
اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔
 تفسیر صراط الجنان 
{وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ:اور تمام چہرے جھک جائیں گے ۔} ارشاد فرمایا کہ حشر کے دن تمام چہرے اس خدا کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں سرکشی نہ رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے قہر و حکومت کا کامل ظہور ہو گا اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کے بوجھ تلے دبے ہوئے مَوقِفِ قیامت میں آئے گا تو اس سے بڑھ کر نامراد کون ہے۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱،۳ / ۲۶۴، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۷۰۳-۷۰۴، ملتقطاً)
؟نیک اعمال اورلوگوں کا حال:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت سے معلوم ہو ا کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال میں مشغول رہے اور گناہوں سے رک جائے کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کے درخت کا پھل پائے گا اور جیسے اس کے اعمال ہوں گے ویسے انجام تک وہ پہنچ جائے گا اور نیک اعمال میں سب سے افضل فرائض کو ادا کرنا اور حرام و ممنوع کاموں سے بچنا ہے ۔ (اسی سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ) ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے حضرت ابو حازم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی : مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی پاکی بیان کرتے رہو اور اس بات کو بہت بڑ اجانو کہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں وہاں دیکھے جہاں اس نے تمہیں منع کیا ہے اور وہاں تجھے موجود نہ پائے جہاں موجود ہونے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔
اور نیک اعمال کے سلسلے میں لوگوں کی ایک تعدادکا یہ حال ہے کہ وہ نفلی کاموں میں تو بہت جلدی کرتے ہیں ، لمبے لمبے اور کثیر اوراد ووظائف پابندی سے پڑھتے ہیں ، مشکل اور بھاری نفلی کام کرنے میں رغبت رکھتے ہیں جبکہ وہ کام جنہیں کرنا ان پر فرض و واجب ہے ان میں سستی سے کام لیتے ہیں اور انہیں صحیح طریقے سے ادا بھی نہیں کرتے ۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں : نفسانی خواہش کی پیروی کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ نفلی نیک کام کرنے میں تو بہت جلدی کرے اور واجبات کے حقوق ادا کرنے میں سستی سے کام لے۔
حضرت ابومحمد مرتعش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے کئی حج ننگے پاؤں اور پید ل سفر کر کے کئے ۔ ایک دن رات کے وقت میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ ہاجرہ کو پانی پلا دو، تو مجھے یہ کام بہت بھاری لگا، اس سے میں نے جان لیا کہ پیدل حج کرنے پر میں نے اپنے نفس کی جو بات مانی اس میں میرے نفس کی لذت کا عمل دخل تھا کیونکہ اگر میرا نفس ختم ہو چکا ہوتا تو (والدہ کی اطاعت کا) وہ کام مجھے بھاری محسوس نہ ہوتا جو شریعت کا حق تھا۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۵ /
۴۳۱، ملخصاً)
لوگوں کے آرام کو نہ دیکھ
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى( سورت20 آیت 131 )
 ترجمۂ کنز العرفان 
اور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
 تفسیر صراط الجنان 
{وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى:اوراس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا۔} اس آیت میں بظاہر خطاب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے اور اس سے مراد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں جیسے یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکوں وغیرہ کودنیا کا جو ساز و سامان فائدہ اٹھانے کیلئے دیا ہے وہ اس وجہ سے دیا ہے تاکہ ہم انہیں اس کے سبب اس طرح آزمائش میں ڈالیں کہ ان پر جتنی نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کے سزاوار ہوں ،لہٰذا تو تعجب اور اچھائی کے طور پر اس کی طرف اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور آخرت میں تیرے ربعَزَّوَجَلَّ کا رزق جنت اور ا س کی نعمتیں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا رزق ہے۔( البحر المحیط، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۶ / ۲۶۹، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۳ / ۲۶۹-۲۷۰، ملتقطاً)
کفار کی ترقی ان کے لئے آزمائش ہے:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ کافروں کے دُنْیَوی سازو سامان،مال و دولت اور عیش و عشرت کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نافرمانوں کی شان و شوکت اور رعب داب نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷)
اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں ترقی، مال و دولت اور عیش عشرت کی فراوانی دیکھ کرتو ان سے انتہائی مرعوب اور دین ِاسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں جبکہ انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں کتنا آگے بڑھ چکے ہیں ، کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اسی ترقی کے سبب آج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں کر رہے …؟ فحاشی ، عُریانی ، بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں کر چکے…؟ ظلم و ستم ، سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں چکے…؟ مسلمانوں کو ذلت و رسوائی میں ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں چکے…؟ افسوس! ان سب چیزوں کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے ،سماعت سے بھر پور کانوں سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں سن سنا کر اور مسلمانوں کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی دین ِاسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ۔۔وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(سورتہ 20 آیت 132 )
 ترجمۂ کنز العرفان 
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔
 تفسیر صراط الجنان 
{وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ:اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیں اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں ۔(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ۵ / ۴۴۸)
حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے: ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ،اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘(ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۱۳۶)
نماز اور مسلمانوں کا حال:
یاد رہے کہ اس خطاب میں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘(التحریم:۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔!!
افسوس! فی زمانہ نماز کے معاملے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ گھر والے نمازیں چھوڑدیں ، انہیں ا س کی پرواہ نہیں ۔خود کی نمازیں ضائع ہو جائیں ،انہیں اس کی فکر نہیں اورکوئی شخص نماز چھوڑنے پرانہیں اُخروی حساب اور عذاب سے ڈرائے ،انہیں اس کا احساس نہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے اورنہ صرف خود نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی نمازی بنانے کی ہمت و توفیق نصیب کرے،اٰمین۔
{لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًا: ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے اور اس بات کا پابند نہیں کرتے کہ ہماری مخلوق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کے ذمہ دار ہو بلکہ ہم تجھے روزی دیں گے اور انہیں بھی ، تو روزی کے غم میں نہ پڑ ،بلکہ اپنے دل کو امر ِآخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو اللہ تعالیٰ کے کام میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی کارسازی کرتا ہے اور آخرت کا اچھاانجام پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کے لیے ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ص۷۰۷-۷۰۸)
اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑنے کا انجام:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو روزی دینا اس کے ذمے نہیں بلکہ سب کو روزی دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ۔
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : ’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ‘‘(الذاریات:۵۶۔۵۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں ۔بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔
یاد رہے کہ ان آیتوں کا مَنشاء یہ نہیں کہ انسان کمانا چھوڑ دے،کیونکہ کمائی کرنے کا حکم قرآن و حدیث میں بہت جگہ آیا ہے،بلکہ منشاء یہ ہے کہ بندہ کمائی کی فکر میں آخرت سے غافل نہ ہو اوردنیاکمانے میں اتنامگن نہ ہوجائے کہ حلال وحرام کی تمیزنہ کرے اور نماز،روزے ،حج ،زکوٰۃ سے غافل ہوجائے ۔
افسوس! فی زمانہ مسلمان مال کمانے میں اس قدر مگن ہو چکے ہیں کہ صبح شام ،دن رات اسی میں سرگرداں ہیں اور ان کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوسکیں اوراس خالق ومالک کویاد کرسکیں جوحقیقی روزی دینے والاہے ،اور اتنی محنت و کوشش کے باوجود ان کا جو معاشی حال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ آج ہر کوئی رزق کی کمی، مہنگائی، بیماری اور پوری نہیں پڑتی کا رونا رو رہا ہے۔ اے کاش! مسلمان رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس ذمہ داری کو بھی پورا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم کی ہے تو آج ان کا حال اس سے بہت مختلف ہوتا۔ عبرت کے لئے یہاں 3اَحادیث ملاحظہ فرمائیں :
(1)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدار رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے آخر ت کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیاا س کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو، اللہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے اور اس کے جمع شدہ کاموں کو مُنْتَشر کر دیتا ہے اور دنیا (کامال ) بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۳)
(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’جو شخص تمام فکروں کو چھوڑ کر ایک چیز(یعنی) آخرت کی فکر سے تعلق رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام دُنْیَوی کام اپنے ذمے لے لے گااور جو دنیوی فکروں میں مبتلا رہے گاتو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں،خواہ وہ کہیں بھی مرے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہمّ بالدنیا، ۴ / ۴۲۵، الحدیث: ۴۱۰۶)
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے انسان! تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا ،میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گااور اگر تو ایسا نہ کرے گا تو تیرے دونوں ہاتھ مَشاغل سے بھر دوں گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہ کروں گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۴)
روزی کے دروازے کھلنے کا ذریعہ:
اس آیت سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال سے روزی کے دروازے کھلتے ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
’’ یَحْتَسِبُ‘‘(سورۂ طلاق:۲،۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیےنکلنے کا راستہ بنادے گا۔ اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان (بھی)نہ ہو۔
حساب قریب آگیا؟
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(سورتہ 21 آیت 1 )
ترجمۂ کنز العرفان
لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
تفسیر صراط الجنان
اے لوگوں علم والوں؟
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن( سورتہ 21 آیت 7 )
ترجمۂ کنز العرفان
اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
تفسیر صراط الجنان
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ:اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔} یہاں کفارِ مکہ کے سابقہ کلام کا رد کیا جا رہا ہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بشری صورت میں ظہور فرمانا نبوت کے منافی نہیں کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے بھی ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ سابقہ قوموں کے پاس بھی اللہ تعالیٰ نے جو نبی اور رسول بھیجے وہ سب انسان اور مرد ہی تھے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں کے ذریعے احکامات وغیرہ کی وحی کی جاتی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کا دستور ہی یہ ہے تو پھر سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بشری صورت میں ظہور فرمانے پر کیا اعتراض ہے۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۲۷۲، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۴۵۵، تفسیر کبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۸ / ۱۲۲، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مرد تھے، کوئی عورت نبی نہ ہوئی۔
{فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔} آیت کے اس حصے میں کفارِ مکہ سے فرمایا گیا کہ اگر تمہیں گزشتہ زمانوں میں تشریف لانے والے رسولوں کے احوال معلوم نہیں تو تم اہلِ کتاب کے ان علماء سے پوچھ لو جنہیں ان کے احوال کا علم ہے ،وہ تمہیں حقیقت ِ حال کی خبر دیں گے۔( جلالین مع صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۱۲۹۱)
شرعی معلومات نہ ہونے اور نہ لینے کے نقصانات:
اس آیت میں نہ جاننے والے کو جاننے والے سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ناواقف کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں کہ وہ واقف سے دریافت کرے اور جہالت کے مرض کا علاج بھی یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عمل کرے اور جو اپنے اس مرض کا علاج نہیں کرتا وہ دنیا و آخرت میں بہت نقصان اٹھاتا ہے۔ یہاں اس کے چند نقصانات ملاحظہ ہوں
(1)… ایمان ایک ایسی اہم ترین چیز ہے جس پر بندے کی اُخروی نجات کا دارومدار ہے اور ایمان صحیح ہونے کے لئے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے، لہٰذا صحیح اسلامی عقائد سے متعلق معلومات ہونا لازمی ہے۔ اب جسے اُن عقائد کی معلومات نہیں جن پر بندے کا ایمان درست ہونے کا مدار ہے تو وہ اپنے گمان میں یہ سمجھ رہا ہو گا کہ میرا ایمان صحیح ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور اگر حقیقت بر عکس ہوئی اور حالت ِکفر میں مر گیا تو آخرت میں ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا اور ا س کے انتہائی دردناک عذابات سہنے ہوں گے۔
(2)…فرض و واجب اور دیگر عبادات کو شرعی طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے،اس لئے ان کے شرعی طریقے کی معلومات ہونا بھی ضروری ہے۔ اب جسے عبادات کے شرعی طریقے اوراس سے متعلق دیگر ضروری چیزوں کی معلومات نہیں ہوتیں اور نہ وہ کسی عالم سے معلومات حاصل کرتا ہے تو مشقت اٹھانے کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جیسے نماز کے درست اور قابلِ قبول ہونے کے لئے ’’طہارت‘‘ ایک بنیادی شرط ہے اور جس کی طہارت درست نہ ہو تووہ اگرچہ برسوں تک تہجد کی نما زپڑھتا رہے، پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرتا رہے اورساری ساری رات نوافل پڑھنے میں مصروف رہے، اس کی یہ تمام عبادات رائیگاں جائیں گی اور وہ ان کے ثواب سے محروم رہے گا۔
(3)…کاروباری، معاشرتی اور ازدواجی زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کے لئے شریعت نے کچھ اصول اور قوانین مقرر کئے ہیں اور انہی اصولوں پر اُن معاملات کے حلال یا حرام ہونے کا مدار ہے اور جسے ان اصول و قوانین کی معلومات نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرے تو حلال کی بجائے حرام میں مبتلا ہونے کا چانس زیادہ ہے اور حرام میں مبتلا ہونا خود کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حقدار ٹھہرانا ہے۔
سرِ دست یہ تین بنیادی اور بڑے نقصانات عرض کئے ہیں ورنہ شرعی معلومات نہ لینے کے نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جسے یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو عقائد، عبادات ،معاملات اور زندگی کے ہر شعبے میں شرعی معلومات حاصل کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فرض علوم سیکھنے کی ضرورت و اہمیت
یہاں میری ایک کتاب ’’علم اور علماء کی اہمیت‘‘ سے فرض علوم کی اہمیت و ضرورت پر ایک مضمون ملاحظہ ہو، چنانچہ اس میں ہے کہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہر آدمی پر اپنی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہے نمازی پر نماز کے ، روزہ رکھنے والے پر روزے کے ، زکوٰۃ دینے والے پرزکوٰۃ کے ،حاجی پر حج کے، تجارت کرنے والے پر خریدوفروخت کے، قسطوں پر کاروبار کرنے والے کے لئے اس کاروبار کے ، مزدوری پر کام کرنے والے کے لئے اجارے کے ، شرکت پر کام کرنے والے کے لئے شرکت کے ، مُضاربت کرنے والے پر مضاربت کے (مضاربت یہ ہوتی ہے کہ مال ایک کا ہے اور کام دوسرا کرے گا)، طلاق دینے والے پر طلاق کے، میت کے کفن ودفن کرنے والے پر کفن ودفن کے، مساجد ومدارس، یتیم خانوں اور دیگر ویلفیئرز کے مُتَوَلّیوں پر وقف اور چندہ کے مسائل سیکھنا فرض ہے ۔ یونہی پولیس، بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں اوردیگر محکموں کے ملازمین نیز جج اور کسی بھی ادارے کے افسر وناظمین پر رشوت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ۔ اسی طرح عقائد کے مسائل سیکھنا یونہی حسد ، بغض ، کینہ ، تکبر، ریاوغیرہا جملہ اُمور کے متعلق مسائل سیکھنا ہر اس شخص پر لازم ہے جس کا ان چیزوں سے تعلق ہوپھر ان میں فرائض ومُحَرّمات کا علم فرض اور واجبات ومکروہِ تحریمی کا علم سیکھنا واجب ہے اور سنتوں کا علم سیکھنا سنت ہے۔
اس مفہوم کی ایک حدیث حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، سرکا رِ دو عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: علم کا طلب کرنا ہر مومن پر فرض ہے یہ کہ وہ روزہ، نماز اور حرام اور حدود اور احکام کو جانے۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۶۸، الحدیث: ۱۵۷)
اس حدیث کی شرح میں خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضور پُر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان ’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ کا معنی یہ ہے کہ ہرشخص پر فرض ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت کے مسائل سیکھے جس پر اس کی لاعلمی کو قدرت نہ ہو۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۱)
اسی طرح کا ایک اور قول حضرت حسن بن ربیعرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللّٰہبن مبارک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ کی تفسیر کیا ہے؟آپ نے فرمایا :یہ وہ علم نہیں ہے جس کو تم آج کل حاصل کر رہے ہو بلکہ علم کاطلب کرنا اس صورت میں فرض ہے کہ آدمی کو دین کاکوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ اس مسئلے کے بارے میں کسی عالم سے پوچھے یہا ں تک کہ وہ عالم اسے بتا دے۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۱، روایت نمبر: ۱۶۲)
حضرت علی بن حسن بن شفیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا :علم سیکھنے کے اندر وہ کیا چیز ہے جو لوگوں پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا :وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کام کی طرف قدم نہ اٹھائے جب تک اس کے بارے میں سوال کر کے اس کا حکم سیکھ نہ لے، یہ وہ علم ہے جس کا سیکھنا لوگوں پر واجب ہے ۔ اورپھر اپنے اس کلام کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اگر کسی بندے کے پاس مال نہ ہو تو اس پر واجب نہیں کہ زکوٰۃ کے مسائل سیکھے بلکہ جب اس کے پاس دو سو درہم (ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا) آجا ئے تو اس پر یہ سیکھنا واجب ہوگا کہ وہ کتنی زکوٰۃ ادا کرے گا؟ اور کب نکالے گا؟ او ر کہاں نکالے گا؟ اور اسی طرح بقیہ تمام چیزوں کے احکام ہیں ۔ (یعنی جب کوئی چیز پیش آئے گی تو اس کی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہو جائے گا)( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۱، روایت نمبر: ۱۶۳)
امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ہر مسلمان پر یہ بات واجب ہے کہ وہ کھانےپینے، پہننے میں او ر پوشیدہ امور کے متعلق ان چیزوں کا علم حاصل کرے جو اس کے لیے حلال ہیں اور جو اس پر حرام ہیں ۔ یونہی خون اور اموال میں جو اس پر حلال ہے یا حرام ہے یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن سے بے خبر (غافل ) رہنا کسی کو بھی جائز نہیں ہے اور ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ ان چیزوں کو سیکھے ۔۔۔۔اور امام یعنی حاکمِ وقت عورتوں کے شوہروں کو اور لونڈیوں کے آقاؤں کو مجبور کرے کہ وہ انہیں وہ چیزیں سکھائیں جن کا ہم نے ذکر کیا اور حاکمِ وقت پر فرض ہے کہ وہ لوگوں کی اس بارے میں پکڑ کرے اور جاہلوں کو سکھانے کی جماعتیں ترتیب دے اور ان کے لئے بیت المال کے اندر رزق مقرر کرے اور علماء پر واجب ہے کہ وہ جاہلوں کو وہ چیزیں سکھائیں جن سے وہ حق وباطل میں فرق کرلیں ۔( الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱ / ۱۷۴)
ان تمام اَقوال سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علمِ دین سیکھنا صرف کسی ایک خاص گروہ کا کام نہیں بلکہ اپنی ضرورت کی بقدر علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت علمِ دین سے دور نظر آتی ہے ۔ نمازیوں کو دیکھیں تو چالیس چالیس سال نماز پڑھنے کے باوجود حال یہ ہے کہ کسی کو وضو کرنا نہیں آتا تو کسی کو غسل کا طریقہ معلوم نہیں ، کوئی نماز کے فرائض کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتا تو کوئی واجبات سے جاہل ہے، کسی کی قرأ ت درست نہیں تو کسی کا سجدہ غلط ہے۔ یہی حال دیگر عبادات کا ہے خصوصاً جن لوگوں نے حج کیا ہو ان کو معلوم ہے کہ حج میں کس قدر غلطیاں کی جاتی ہیں ! ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بس حج کے لئے چلے جاؤ جو کچھ لوگ کر رہے ہوں گے وہی ہم بھی کرلیں گے۔ جب عبادات کا یہ حال ہے تو دیگر فرض علوم کا حال کیا ہوگا؟ یونہی حسد، بغض، کینہ، تکبر، غیبت، چغلی، بہتان اورنجانے کتنے ایسے امور ہیں جن کے مسائل کا جاننا فرض ہے لیکن ایک بڑی تعداد کو ان کی تعریف کا پتہ تک نہیں بلکہ ان کی فرضیت تک کا علم نہیں ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا گناہ ہونا عموماً لوگوں کو معلوم ہوتا ہے اور وہ چیزیں جن کے بارے میں بالکل بے خبر ہیں جیسے خریدوفروخت، ملازمت، مسجدو مدرسہ اور دیگر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے کچھ مسائل بھی ہیں ، بس ہر طرف ایک اندھیر نگری مچی ہوئی ہے ،ایسی صورت میں ہر شخص پر ضروری ہے خود بھی علم سیکھے اور جن پر اس کا بس چلتا ہو انہیں بھی علم سیکھنے کی طرف لائے اور جنہیں خود سکھا سکتا ہے انہیں سکھائے ۔
اگر تمام والدین اپنی اولاد کو اور تمام اساتذہ اپنے شاگردوں کو اور تمام پیر صاحبان اپنے مریدوں کو اور تمام افسران و صاحب ِ اِقتدار حضرات اپنے ماتحتوں کوعلمِ دین کی طرف لگا دیں تو کچھ ہی عرصے میں ہر طرف دین اور علم کا دَور دورہ ہو جائے گا اور لوگوں کے معاملات خود بخود شریعت کے مطابق ہوتے جائیں گے۔ فی الوقت جو نازک صورتِ حال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ ایک مرتبہ سناروں کی ایک بڑی تعداد کوایک جگہ جمع کیا گیا جب ان سے تفصیل کے ساتھ ان کا طریقۂ کار معلوم کیا گیا تو واضح ہوا کہ اس وقت سونے چاندی کی تجارت کا جو طریقہ رائج ہے وہ تقریباً اسی فیصد خلافِ شریعت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری دیگر تجارتیں اور ملازمتیں بھی کچھ اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں ۔
جب معاملہ اتنا نازک ہے تو ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرسکتا ہے، اس لئے ہر شخص پر ضروری ہے کہ علمِ دین سیکھے اور حتّی الامکان دوسروں کو سکھائے یا اس راہ پر لگائے اور یہ محض ایک مشورہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا حکم ہے ،چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور تم میں سے ہرایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا پس شہر کا حکمران لوگوں پرحاکم ہے اس سے اس کے ماتحت لوگو ں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے اس کی بیوی کے بارے میں اور ان(غلام لونڈیوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گاجن کا وہ مالک ہے۔( معجم صغیر، باب الدال، من اسمہ: داود، ص۱۶۱)
مذکورہ بالا حدیث میں اگرچہ ہر بڑے کو اپنے ماتحت کو علم سکھانے کا فرمایا ہے لیکن والدین پر اپنی اولاد کی ذمہ داری چونکہ سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کو بطورِ خاص تاکید فرمائی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عثمان الحاطبیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو سنا کہ آپ ایک شخص کو فرما رہے تھے: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ، بے شک تم سے تمہارے لڑکے کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم نے اسے سکھایا اور تمہارے اس بیٹے سے تمہاری فرمانبرداری اور اطاعت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔( شعب الایمان، الستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶ / ۴۰۰، روایت نمبر: ۸۶۶۲)
اس حدیث پر والدین کو خصوصاً غور کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے دن اولاد کے بارے میں یہی گرفت میں آئیں گے ،اگر صرف والدین ہی اپنی اولاد کی دینی تربیت و تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دے لیں تو علمِ دین سے دوری کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ دُنْیَوی علوم کے سکھانے میں تو والدین ہرقسم کی تکلیف گوارا کرلیں گے ،اسکول کی بھاری فیس بھی دیں گے، کتابیں بھی خرید کر دیں گے اور نجانے کیاکیا کریں گے لیکن علمِ دین جو ان سب کے مقابلے میں ضروری اور مفید ہے اس کے بارے میں کچھ بھی توجہ نہیں دیں گے، بلکہ بعض ایسے بدقسمت والدین کو دیکھا ہے کہ اگر اولاد دین اور علمِ دین کی طرف راغب ہوتی ہے تو انہیں جبراً منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں کیا رکھا ہے ۔ہم دنیوی علم کی اہمیت و ضرورت کا انکار نہیں کرتے لیکن یہ دینی علم کے بعد ہے اور والدین کا یہ کہنا کہ علمِ دین میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہ بالکل غلط جملہ ہے۔ اول تو یہ جملہ ہی کفریہ ہے کہ اس میں علمِ دین کی تحقیر ہے۔ دوم اسی پر غور کرلیں کہ علمِ دین سیکھنا اور سکھانا افضل ترین عبادت، انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وراثت، دنیا و آخرت کی خیر خواہی اور قبروحشر کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔آج نہیں تو کل جب حساب کے لئے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونا پڑے گااس وقت پتہ چلے گا کہ علمِ دین کیا ہے؟ بلکہ صرف اسی بات پر غور کرلیں کہ مرتے وقت آج تک آپ نے کسی شخص کو دیکھا ہے کہ جس کو دنیا کا علم حاصل نہ کرنے پر افسوس ہورہا ہو ۔ہاں علمِ دین حاصل نہ کرنے ، دینی راہ پر نہ چلنے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے کام نہ کرنے پر افسوس کرنے والے آپ کو ہزاروں ملیں گے اور یونہی مرنے کے بعد ایسا کوئی شخص نہ ہوگا جسے ڈاکٹری نہ سیکھنے پر، انجینئر نہ بننے پر، سائنسدان نہ بننے پر افسوس ہو رہا ہو البتہ علمِ دین نہ سیکھنے پر افسوس کرنے والے بہت ہوں گے۔ بلکہ خود حدیث پاک میں موجود ہے کہ کل قیامت کے دن جن آدمیوں کو سب سے زیادہ حسرت ہوگی ان میں ایک وہ ہے جس کو دنیا میں علم حاصل کرنے کا موقع ملا اور اس نے علم حاصل نہ کیا۔( ابن عساکر، حرف المیم، محمد بن احمد بن محمد بن جعفر۔۔۔ الخ، ۵۱ / ۱۳۷)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل ِسلیم دے اور انہیں علمِ دین کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
سوال کرناعلم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال کرنا علم حاصل ہونے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’علم خزانے ہیں اور ان خزانوں کی چابی سوال کرناہے تو تم سوال کرو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ، کیونکہ سوال کرنے کی صورت میں چار لوگوں کو اجر دیاجاتا ہے۔ (1) سوال کرنے والے کو۔ (2) سکھانے والے کو۔ (3) سننے والے کو۔ (4) ان سے محبت رکھنے والے کو۔( الفقیہ والمتفقہ، باب فی السؤال والجواب وما یتعلّق بہما۔۔۔ الخ، ۲ / ۶۱، الحدیث: ۶۹۳)
حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اچھا سوال کرنا نصف علم ہے۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵ / ۱۰۸، الحدیث: ۶۷۴۴)
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے تمام پہلوؤں میں در پیش معاملات کے بارے میں اہلِ علم سے سوال کرنے اور اس کے ذریعے دین کے شرعی اَحکام کا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
{ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ:لوگوں کا حساب قریب آگیا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اِس آیت میں اگرچہ اُس وقت کفارِ قریش کی طرف اشارہ کیا گیاہے لیکن لفظ’’اَلنَّاسِ‘‘ میں عموم ہے(اور اس سے تمام لوگ مراد ہیں ۔)نیزیہاں قیامت کے دن کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو بھی عمل کئے ہیں اور ان کے بدنوں ، ان کے جسموں ، ان کے کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے ملبوسات میں اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کے حساب کا وقت(روزِقیامت)قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں انہوں نے کیا عمل کئے،آیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ،اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کی غفلت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم مصیبتوں اور شدید ہولناکیوں سے بے فکر ہیں اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں اورانہیں اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۲۷۰-۲۷۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۰۹، تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۹ / ۳، ملتقطاً)
اُخروی حساب سے غفلت کے معاملے میں کفار کی روش اور مسلمانوں کا حال :
یہاں اگرچہ کفار کی روش کو بیان کیا گیا ہے لیکن افسوس !فی زمانہ مسلمانوں میں بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کے حساب سے غفلت بہت عام ہو چکی ہے اور آج انہیں بھی جب نصیحت کی جاتی ہے اورموت کی تکلیف، قبر کی تنگی، قیامت کی ہولناکی، حساب کی سختی اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی بجائے منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں، حالانکہ مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو کافروں اور مشرکوں کا شیوہ ہو۔
امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’اے انسان! تجھے اپنے کریم رب عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھاہے کہ تو دروازے بند کرکے، پردے ٹکا کر اور لوگوں سے چھپ کر فسق وفجور اور گناہوں میں مبتلا ہو گیا! (تو لوگوں کے خبردار ہونے سے ڈرتا ہے حالانکہ تجھے پیدا کرنے والے سے تیرا کوئی حال چھپا ہوا نہیں ) جب تیرے اَعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے(اور جو کچھ تو لوگوں سے چھپ کر کرتا رہا وہ سب ظاہر کر دیں گے) تو اس وقت تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں کی جماعت! تمہارے لئے مکمل خرابی ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے پاس سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھیجے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر روشن کتاب نازل فرمائے(جس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے)اور تمہیں قیامت کے اوصاف کی خبر دے، پھر تمہاری غفلت سے بھی تمہیں آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے کہ : ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲) لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ‘‘(انبیاء:۱-۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔ ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں ۔
پھر وہ ہمیں قیامت قریب ہونے کے بارے میں بتاتے ہوئے ارشادفرمائے کہ
’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘(قمر:۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
اور ارشادفرمائے کہ
’’ اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًا‘‘(معارج۶،۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہماسے قریب دیکھ رہے ہیں ۔
اور ارشاد فرمائے کہ:
’’ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا‘‘(احزاب:۶۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
اس کے بعد تمہاری سب سے اچھی حالت تو یہ ہونی چاہئے کہ تم اس قرآنِ عظیم کے دئیے درس پر عمل کرو، لیکن اس کے برعکس تمہارا حا ل یہ ہے کہ تم اس قرآن کے معانی میں غوروفکر نہیں کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں کو(عبرت کی نگاہ سے) نہیں دیکھتے اور اس دن کی مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ہم اس غفلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس غفلت کو دور فرمائے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الشطر الثانی من کتاب ذکر الموت فی احوال المیت۔۔۔ الخ، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵ / ۲۷۶)اور ہر مسلمان کو اس فانی دنیا سے بے رغبت ہو کر نیک اعمال کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ترغیب کے لئے یہاں دو حکایات ملاحظہ ہوں :
مجھے تمہاری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں :
حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک عربی ان کے پاس آیا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کانہایت اِکرام کیا اوراس کے متعلق حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کلام کیا۔ وہ شخص جب دوبارہ حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا تواس نے کہا کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک وادی طلب کی ہے جس سے بہتر عرب میں کوئی وادی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لیے اس میں سے کچھ حصہ علیحدہ کردوں جوتمہارے اورتمہاری اولا دکے کام آئے۔ حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے کہا کہ’’ ہمیں تیری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں،کیونکہ آج ایک سورت نازل ہوئی ہے اس نے ہمیں دنیا کی لذتیں بھلا دی ہیں (اوراس میں یہ آیت ہے)’’ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔(ابن عساکر، حرف العین، ذکر من اسمہ عامر، عامر بن ربیعۃ بن کعب بن مالک۔۔۔ الخ، ۲۵ / ۳۲۷)
جب حساب کا وقت قریب ہے تو یہ دیوار نہیں بنے گی:
ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دیوار بنا رہے تھے، جس دن یہ سورت نازل ہوئی ا س دن ان کے پاس سے ایک شخص گزرا تو انہوں نے اس سے پوچھا ’’ آج قرآن پاک میں کیا نازل ہوا ہے ؟اس نے بتایا کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘ لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ان صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ سناتواسی وقت دیوار بنانے سے ہاتھ جھاڑ لیے اور کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جب حساب کاوقت قریب آگیا ہے تو پھر یہ دیوار نہیں بنے گی۔(قرطبی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۶ / ۱۴۵، الجزء الحادی عشر)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کی توفیق سے ہمارے دلوں میں بھی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے اور ہم بھی اپنی اُخروی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو جائیں ۔
کفار اور فاسق کی نکیر قبول نہیں
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸)لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا(۲۹)
 ترجمۂ کنز العرفان 
ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا اور شیطان انسان کو مصیبت کے وقت بے مدد چھوڑ دینے والا ہے۔
 تفسیر صراط الجنان 
{یٰوَیْلَتٰى: ہائے میری بربادی!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر کہے گا: ’’ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتاجس نے مجھے گمراہ کر دیا۔ بیشک اس نے اللہ تعالٰی کی طرف سے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس نصیحت یعنی قرآن اور ایمان سے بہکا دیا اور شیطان کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ انسان کو مصیبت کے وقت بے یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے اور جب انسا ن پربلاو عذاب نازل ہوتا ہے تو اس وقت اس سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ۳ / ۳۷۱، ملخصاً)
بری صحبت اور دوستی سے بچنے کی ترغیب:
اس سے معلوم ہو اکہ بد مذہبوں اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،انہیں اپنا دوست بنانا اور ان سے محبت کرنادنیا اور آخرت میں انتہائی نقصان دِہ ہے۔ اَحادیث میں بری صحبت اور دوستی سے بچنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، چنانچہ ترغیب کے لئے یہاں اس سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’برے ہم نشین سے بچو کہ تم اسی کے ساتھ پہچانے جاؤ گے۔( ابن عساکر ، ذکر من اسمہ الحسین ، حرف الجیم فی آباء من اسمہ الحسین ، الحسین بن جعفر بن محمد ۔۔۔ الخ ، ۱۴ / ۴۶) یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست وبَرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں ۔
(2)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مُزَیَّن کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ تیرے لئے خودکو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے گا، اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے، اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر ہے اورجھوٹے آدمی سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ میل جول تجھے نفع نہ دے گی، وہ تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔( ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۵۱۶)
فی زمانہ بعض نادان لوگ بد مذہبوں سے تعلقات قائم کرتے اور یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہلا نہیں سکتا، ہم بہت ہی مضبوط ہیں ،ہم نے ان سے تعلق ا س لئے قائم رکھاہوا ہے تاکہ انہیں اپنے جیسا بنالیں ، یونہی بعض نادان تسکینِ نفس کی خاطر بد مذہب عورتوں سے نکاح کرتے اور یوں کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے نکاح اس لئے کیا ہے تاکہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیں ،اسی طرح کچھ نادان گھرانے ایسے بھی ہیں جو صرف دنیا کی اچھی تعلیم کی خاطر اپنے نونہالوں کو بد مذہب استادوں کے سپرد کردیتے ہیں اور بالآخر یہی بچے بڑے ہو کر بد مذہبی اختیار کر جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ا س کلام سے عبرت حاصل کریں ، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ فرماتے ہیں :غیر مذہب والیوں (یا والوں ) کی صحبت آگ ہے، ذی علم، عاقل، بالغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصہ مشہور ہے، یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا، خارجی مذہب کی عورت (سے شادی کرکے اس) کی صحبت میں (رہ کر) مَعَاذَاللہ خود خارجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے) اسے سنی کرنا چاہتا ہے۔ جب صحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدث گمراہ ہو گیا) تو (بدمذہب کو) استاد بنانا کس درجہ بدتر ہے کہ استاد کا اثر بہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے، تو غیر مذہب عورت (یا مرد) کی سپردگی یا شاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا جو آپ (خودہی) دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔( فتاویٰ رضویہ،علم وتعلیم، ۲۳ / ۶۹۲)
اللہ تعالٰی ہمیں بدمذہبوں اور برے لوگوں سے دوستی رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے سے محفوظ فرمائے اور نیک و پرہیز گار لوگوں سے میل جول رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ بے دین اور بدمذہب کی دوستی اور اس کے ساتھ صحبت و اختلاط اور الفت و احترام ممنوع ہے۔
اچھی صحبت اور دوستی اختیار کرنے کی ترغیب:
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور اپنا دوست بھی اچھے لوگوں کو ہی بنائے۔ کثیر احادیث میں اچھی صحبت اختیار کرنے اور اچھے ساتھیوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے یہاں ان میں سے 4اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کامل مومن کے علاوہ کسی کو ہم نشین نہ بناؤ اور تمہارا کھانا پرہیز گار ہی کھائے۔( ابوداؤد، کتاب الادب، باب من یؤمر ان یجالس، ۴ / ۳۴۱، الحدیث: ۴۸۳۲)
(2)…حضرت ابو جحیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بڑوں کے پاس بیٹھا کرو، علما ء سے باتیں پوچھا کرو اور حکمت والوں سے میل جول رکھو۔( معجم الکبیر، سلمۃ بن کہیل عن ابی جحیفۃ، ۲۲ / ۱۲۵، الحدیث: ۳۲۴)
(3)…حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کون سا ساتھی اچھا ہے؟ارشاد فرمایا’’اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے تو وہ تیری مدد کرے اور جب تو بھولے تو وہ یاد دلائے۔(رسائل ابن ابی الدنیا ، کتاب الاخوان ، باب من امر بصحبتہ ورغب فی اعتقاد مودتہ ، ۸ / ۱۶۱، الحدیث: ۴۲)
(4)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اچھا ہم نشین وہ ہے کہ اسے دیکھنے سے تمہیں خدایاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔( جامع صغیر، حرف الخاء، ص۲۴۷، الحدیث: ۴۰۶۳)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں