عورت کی آواز بھی عورت ہے
محمد توفیق ابن اسمعیل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلہ میں کے اعلی حضرت فرماتے ہے عورت نعت نہیں پڑھ سکتی ہے کیوں کے عورت کی آواز بھی عورت ہے تو یے حجاب کے متعلق عورت بولتی ہے اس کا بولنا کیسا
جزاک اللہ خیرا
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
سرکار اعلی حضرت قدس سرہ رقمطراز ہیں کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے ناجائز ہے (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 240 ) دوسری جگہ فرماتے ہیں عورت کا خوش الحانی سے بآواز پڑھنا نامحرم کو اس کے نغمہ کی آواز جائے حرام ہے (یہاں تک کہ عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے اس لیے کہ اس کی آواز قابل ستر ہے (فتاوٰی رضویہ جلد 22 صفحہ 241 )
حضرت علامہ شیخ التفسیر غلام رسول سعیدی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، ،ہمارے زمانہ میں خواتین کا مردوں کے ساتھ عام اور آزادانہ میل جول ہے ‘ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا رواج ہے اور شرعی حدود وقیود کے بغیر عورتیں مردوں کے دوش بدوش مختلف اداروں میں آزادی کے ساتھ کام کرتی ہیں ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ممبر بنتی ہیں اور تقریریں کرتی ہیں بلکہ بعض خواتین وزراء جلسوں میں تقریریں بھی کرتی ہیں حالانکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ شرعی ضرورت کے بغیر خواتین اجنبی مردوں سے باتیں نہ کریں خصوصا نرم و نازک لہجہ میں ‘ قرآن مجید میں ہے :-
ولایضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن۔ (النور : ٣١) اور عورتیں اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں تاکہ لوگوں کو ان کی چھپی ہوئی زینت کا علم ہوجائے۔-
علامہ ابو کبر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :-
اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ عورت کو اتنی بلند آواز کے ساتھ کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کو اجنبی مرد سن لیں ‘ کیونکہ پازیب کی آواز سے اس کی اپنی آواز زیادہ فتنہ انگیز ہے ‘ اسی وجہ سے ہمارے فقہاء نے عورت کی اذان کو مکروہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اذان میں آواز بلند کرنی پڑتی ہے اور عورت کو آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے۔-
(احکام القرآن ج ٣ ص ٣١٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)-
علامہ موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ جنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :-
حضرت اسماء بنت یزید روات کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” عورتوں پر اذان اور اقامت نہیں ہے “ کیونکہ اذان اصل میں خبر دینے کے لیے ہے اور عورتوں کے لی خبر دینا ‘ مشروع نہیں ہے ‘ اور اذان میں آواز بلند کی جاتی ہے اور عورتوں کے لیے آواز بلند کرنا مشروع نہیں ہے۔ (المغنی ج ١ ص ٢٥٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)-
حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( نماز میں امام کو متنبہ کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔-
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٠٤‘ سنن ابوداوئد رقم الحدیث : ٤٩٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧٨٤) -
علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :-
شارع (علیہ السلام) نے عورت کے سبحان اللہ کہنے کو اس لیے مکروہ قرار دیا ہے کہ اس کی آو واز فتنہ ہے اس لیے اس کو اذان ‘ امامت اور نماز میں بلند آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔-
(عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیر یہ ‘ ١٣٤٨ ھ)-
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں عورت کو زمین پر پیر مارنے سے منع کیا ہے تاکہ اس کی پازیب کی آواز اجنبی مردوں کو نہ سنائی دے ‘ اور حدیث میں عورت کو نماز میں سبحان اللہ کہنے کے بجائے تالی بجانے کا حکم دیا ہے ‘ کیونکہ عورت کا آواز بلند کرنا ممنوع ہے ‘ فقہاء احناف کے نزدیک عورت کی آواز عورت ہے اور جس طرح ماسوا ضرورت کے وہ اجنبیوں پر چہرہ ظاہر نہیں کرسکتی اسی طرح وہ بغیر ضرورت کے اجنبی مردوں پر اپنی آواز کو بھی ظاہر نہیں کرسکتی ‘ اور فقہاء مالکیہ ‘ فقہاء حنبلیہ اور فقہاء شافعیہ کے نزدیک عورت کا آواز بلند کرنا ممنوع ہے اور پست اور کرخت آواز کے ساتھ وہ بہ وقت ضرورت اجنبی مردوں سے کلام کرسکتی ہے۔
خلاصہ کلام ضرورت شدید ہو تو عورت حجاب کے اندر رہ کر بات کریں تو یہ گنجائش ہونی چاہیے البتہ نرم لہجے میں بات نہیں کرنا چاہیے کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ کوئی غلط امید لگا بیٹھے اور دستور کے مطابق بات کرنا ضرورت کے مطابق بات چیت کرنے کی گنجائش موجود ہے علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ روایت ہے کہ بعض ازواج مطہرات جب کسی ضرورت کی بناء پر اجنبی مردوں سے بات کرتیں تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتی تھیں تاکہ آواز میں کوئی نرمی یا لچک نہ ہو (روح المعانی ) واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو ہماری طرف منسوب کریں گے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں