زانی سے نسب ثابت نہیں ہوتا
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ* *وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان۔غیر مسلم عورت سے زنا کرتا تہا اس مین بچہ پیدا ہوا*
*اس کے بعد عورت کو مسلمان کیا بعد مین شادی کی ہے اب بچہ 5 سال کا ہے اس بچہ کا کیا حکم ہوگا رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المسفتی سگ عطار ہاشم رضا عطاری عمرکوٹ سندھ پاکستان*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
زنا حرام ہے شخص مذکور مستحق عذاب نار ہوا توبہ کرے زنا سے جو بچہ پیدا ہو وہ ثابت النسب نہ ہوگا سوال سے ظاہر ہوتا ہے اس نے پہلے زنا کرتا رہا پھر بچہ بھی پیدا ہو گیا پھر اس کے بعد مسلمان کر کے نکاح کیا لہٰذا یہ بچہ ثابت النسب نہیں ہے حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں نکاح کے وقت سے چھ مہینے سے کم پر لڑکا لائی تو وہ ثابت النسب نہ ہوگا (فتاوٰی برکاتہ صفحہ 167 ) مفتی عبد المنان رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا بچہ کا نسب اس مرد سے ثابت نہیں (فتاوٰی بحر العلوم جلد دوم صفحہ 566 ) نسب ثابت ہونے کے لیے نکاح کے بعد چھ ماہ سے زیادہ پر بچہ پیدا ہو تو نسب ثابت ہوگا( فتاوٰی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 73 ) ہے مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس عورت نے نکاح کے وقت سے چھ مہینے سے کم میں لڑکا پیدا کیا تو وہ لڑکا ثابت النسب نہ ہوگا اور اگر چھ ماہ سے زیادہ پر پیدا کیا تو شرع کے نزدیک وہ لڑکا شوہر کا ہے! امام نووی رحمت اللہ علیہ فرماتے زانی کے لئے پتھر ہیں اسے ذلت و رسوائی ملے گی اور بچے میں اس کا کوئی حق نہیں زنا سے بچے کا نسب ثابت نہیں ہوتا مندرجہ بالا حدیث بچہ بستر والے کا اور زانی کے لیے پتھر ہیں ہدیہ میں حافظ ابن حزم کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (زانی کے لئے پتھر ہیں کے الفاظ کہہ کر زانی سے اولاد کی نفی کر دی ہے تو زانی پر حد ہے اور بچے کا الحاق زانی کے ساتھ نہیں کیا جائے گا (بلکہ اس بچے کو اس کی ماں کے ساتھ ملحق کیا جائے گا مرد کی طرف نہیں ) اور اسی طرح وہ اپنی ماں کا اور ماں اس کی وارث ہوگی فقہ حنفی میں ہے کہ ایک شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ اس نے آزاد عورت کے ساتھ زنا کیا اور بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا اور عورت بھی اس کی تصدیق کر دے تو پھر بھی نسب ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ثابت نہیں ہوگا اس لیے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے (بچہ بستر والے ) کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں اس حدیث میں مراد یہ ہے کہ نسب میں زانی کا کوئی حصہ نہیں ۔۔۔۔زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا الحاق زانیہ عورت سے ہوگا (فیوضات رضویہ فی تشریحات الھدایہ جلد ہفتم صفحہ 169 ) واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن مسائل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ویبسائٹ دارالافتاء آنلائن 👉
واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو ہماری طرف منسوب کریں گے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں