وضو میں وسوسہ آئے تو ۔؟
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کی ایک امام صاحب وہ جب نماز کے لیے وضو کرتے ہیں تو وضو کے بعد انکو شک محسوس ہوتا ہے کی ہوا خارج ہو گئی وہ دوبارہ وضو کرتے ہیں پھر جب دوبارہ مصلّی پر کھڑا ہوتا ہے تو پھر شک ہوتا ہے کی ہوا خارج ہو گئی لیکن یقین نہیں ہوتا صرف شک ہوتا ہے اب وہ امامت چھوڑ دے یا امامت کرائے اسکا جواب عنایت فرمائیں اور ساتھ میں وسوسہ سے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی وظیفہ بھی عنایت فرمائیں غلام یاسین اکبری بیکانیر راجستھان انڈیا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں شک کبھی یقین کو زائل کرنے والا نہیں ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو (دوران نماز ) اپنے پیٹ میں خلش معلوم ہو پھر اس کو شک ہو کہ (پیٹ سے ) کچھ نکلا یا نہیں یعنی ہوا خارج ہوئی یا نہیں تو مسجد سے نہ نکلے جب تک کہ آواز نہ سنے یا بو نہ سونگھے (صحیح بخاری 1 صفحہ 25 )
مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جو باوُضو تھا اب اسے شک ہے کہ وُضو ہے یا ٹوٹ گیا تو وُضو کرنے کی اسے ضرورت نہیں ۔ (1) ہاں کر لینا بہتر ہے جب کہ یہ شُبہہ بطورِ وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے ،اس صورت میں اِحْتِیاط سمجھ کر وُضو کرنا اِحْتِیاط نہیں بلکہ شیطانِ لعین کی اطاعت ہے۔(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 314) وسوسہ سے چھٹکارا پانے کے لیے کثرت سے لاحول شریف کا ورد کرتے رہے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں