قاضی کی تفریق کے بغیر نکاح
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایک کرسچن عورت نے اسلام قبول کر لیا حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے کیا ان کا پہلا نکاح باطل ہو جائے گا یا باقی رہے گا نیز ان کی عدت وغیرہ ہوگی یا نہیں اگر کوئی مولانا نکاح پڑھا دے نکاح کا کیا حکم ہوگا نکاح ہو جائے گا یا نہیں اگر نہیں ہوگا تو جس مولانا نے نکاح پڑھایا ان کے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑھے گا رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی جمن رضا میرپور خاص سندھ پاکستان*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ کتابی کی عورت مسلمان ہو گئی تو اب حکم یہ ہے کہ مرد پر اسلام پیش کیا جائے اگر (وہ )اسلام قبول نہ کیا تو تفریق کر دی جائے (تفریق کی صورت ) جب ہے کہ دارالاسلام میں اسلام قبول کیا ہو اور اگر دارالحرب میں مسلمان ہو تو عورت تین گزرنے پر نکاح سے خارج ہو گئی اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے گزرنے پر کم عمر ہونے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا بڑھیا ہو گئی کہ حیض بند ہو گیا اور حاملہ ہو تو وضح حمل سے نکاح جاتا رہا اور جو ایسی جگہ پر ہو کہ نہ دارالاسلام ہو اور نہ دارالحرب وہ دارالحرب کے حکم میں ہے (بہار شریعت حصہ ہفتم صفحہ 92 ) (فیوضات رضویہ تشریحات ہدایہ جلد پنجم صفحہ 446 ) علامہ علاءالدین حنفی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کتابی کی عورت مسلمان ہو گئی تو مرد پر اسلام پیش کیا جائے اسلام قبول نہ کیا تو تفریق کر دی جائے (ہدایہ جلد پنجم صفحہ 447 ) اور اگر دارالحرب میں بیوی ومرد ہے میں سے ایک مسلمان ہوا اور یہ دونوں اہل کتاب نہیں ہیں یا ہیں اور عورت ہی مسلمان ہوئی ہے تو دونوں میں نکاح ٹوٹ جانا تین حیض تک موقف رہے گا خواہ عورت کے ساتھ دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو پھر اگر تین حیض گزنے سے پہلے دوسرا بھی مسلمان ہو گیا تو نکاح باقی رہے گا (فتاوی ہندیہ جلد دوم صفحہ 241 ) حضرت مفتی وقار الدین رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر مسلمان ہونے والی عورت سے صحبت ہو چکی تھی تو اس کی عدت تین حیض ہوگی جب بیوی مسلمان ہو جائے تو شوہر پر اسلام پیش کیا جائے گا اور جب وہ مسلمان ہونے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے گی اور تفریق کے بعد تین حیض عدت گزارنا ہوگی تفریق سے پہلے کے حیض عدت میں شمار نہیں ہوگا عدت ختم ہونے کے بعد کسی مسلمان سے شادی کر سکے گی اسلام کون پیش کرے گا؟ یہ کام قاضی کا ہے وہ شوہر کو طلب کرے اسے بتائے گا کہ تیری بیوی مسلمان ہو گئی تو مسلمان ہو جا ئے گا تو یہ بیوی تیری زوجیت میں رہے گی ورنہ جدائی کر دی جائے گی لہذا اب قاضی نہ ہونے کی صورت میں عورت جج کے پاس درخواست دے کہ وہ یہ کام کر دے (وقار الفتاوی جلد سوم صفحہ 107 ) خلاصہ کلام بصورتِ مسئولہ اگر بیوی مسلمان ہوجائے اور شوہر مسلمان نہ ہو تو اگر میاں بیوی دونوں دارالاسلام میں ہوں تو ایسی صورت میں معاملہ قاضی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قاضی شوہر پر اسلام کو پیش کرے گا اگر وہ انکار کردے تو دونوں کے درمیان تفریق کردے گا،قاضی کی تفریق سے پہلے عورت اپنے کافر شوہر کے نکاح سے خارج نہ ہوگی اور اس کا نکاح کسی اور مرد سے جائز نہ ہوگا۔ اور اگر زوجین دارالحرب میں ہوں یا ایسی جگہ ہوں جہاں اسلامی قاضی کے پاس معاملہ لے جاکر شوہر پر اسلام پیش کرانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بیوی تین حیض کے بعد اپنے شوہر (کافر) کے نکاح سے خارج ہوجائے گی یعنی اگر شوہر نے تین حیض گزرنے تک اسلام قبول نہیں کیا تو عورت اپنے شوہر (کافر) کے نکاح سے خود بخود خارج ہوجاتی ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 189)
نوٹ دارالاسلام میں قاضی کی تفریق کے بغیر نکاح پڑھانے والا گناہگار ہے اس کو توبہ کا حکم دیا جائے گا اور نکاح کے باطل ہونے کا وہ اعلان کرے اور توبہ کرے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں