عدت عورت کو کمانے کے لیے نکلنا

عدت کے دوران
عورت اپنی جاب کے لیے کب تک جا سکتی ہے؟

گھر کا خرچ وغیرہ سب عورت کے ذمہ ہے 
اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔
جامعہ میں تدریس وغیرہ بھی کرنی ہوتی ۔۔

اس بارے مکمل مدلل تفصیل سینڈ فرمائیے گا
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
سوال مکمل کرنا چاہیے کہ عدت طلاق میں ہے یا عدت وفات؟ 
بالغہ عاقلہ مسلمہ ہے اور حالت اختیاری ہے تو یہ عورت نہ رات میں باہر نلکے گی نہ دن میں خواہ طلاق تین دی گئی ہو ہو یا ایک اور جس عورت کو اس کا شوہر چھوڑ کر مر گیا وہ دن میں بلکل سکتی ہے اور کچھ رات تک مگر اپنی منزل کے سوائے دوسری جگہ رات بسر نہ کرے گی 
(فتاوی ہندیہ جلد دوم صفحہ 545 ) سوال سے ظاہر ایسا ہوتا ہے کہ عورت بیوا ہے اور اس کے پاس نان نفقہ کا کوئی انتظام نہیں ہے تو ایسی عورت دن میں بلکل سکتی ہے اور کچھ رات تک جیسا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے 
موت کی  عدت میں  اگر باہر جانے کی  حاجت ہو کہ عورت کے پاس بقدر کفایت مال نہیں  اور باہر جا کر محنت مزدوری کرکے لائیگی تو کام چلے گا تو اسے اجازت ہے کہ دن میں  اور رات کے کچھ حصے میں  باہر جائے اور رات کا اکثر حصہ اپنے مکان میں  گزارے مگر حاجت سے زیادہ باہر ٹھہرنے کی  اجازت نہیں  ۔ اور اگر بقدر کفایت اس کے پاس خرچ موجود ہے تو اسے بھی گھر سے نکلنا مطلقاً منع ہے اور اگر خرچ موجود ہے مگر باہر نہ جائے تو کوئی نقصان پہنچے گا مثلاً زراعت کا کوئی دیکھنے بھالنے والا نہیں  اور کوئی ایسا نہیں  جسے اس کام پر مقرر کرے تو اس کے لیے بھی جاسکتی ہے مگر رات کو اُسی گھر میں  رہنا ہوگا۔ (2)(درمختار ، ردالمحتار) یوہیں  کوئی سودالانے والا نہ ہو تو اس کے لیے بھی جاسکتی ہے۔ (بہارشریعت باب عدت )
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598