طلاق کے کاغذات پر دستخط؟

سوال نمبر  (1)*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی کو پتہ نہ ہو کے طلاق کے پیپر ہیں اور ان کے بھائی ان سے سگنیچر کروا دیں آیا کہ طلاق واقع ہو گئے یا نہیں رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی رضا سوال نمبر (2 )*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص طلاق کے پیپروں پر سگنیچر کر دے اور ان کو پتہ بھی ہو کے طلاق کے پیپر ہیں بعد میں جھوٹ بول کر کہے کہ مینے دل سے طلاق نہیں دی تو کیا طلاق واقع ہو گئی یا نہیں رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی رضا  سوال نمبر (3 )*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص طلاق کے پیپروں پر سگنیچر کر دے اور بعد میں کسی مفتی صاحب کو جھوٹ بول کر کہے کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ طلاق کے پیپر ہیں اور مینے سگنیچر کر دیا اور مفتی صاحب نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی آیا کہ وہ اب ان کی بیوی ان کے ساتھ ہے پوچھنا یے تہا کے جس مفتی صاحب نے فتویٰ دیا ان پر کیا حکم ہوگا رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی رضا

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق آپ کے سوالات کے نمبر وائز جوابات عرض ہے 

نمبر 1 کسی کو پتہ نہ ہو کے یہ طلاق کے کاغذات ہے اور اس کو معلوم کئے بغیر دستخط کرنا؟ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جو شخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط کرائے تو اگر وہ حروف بحرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائےگا یا وہ نہ بتائے تو یہ  (دستخط ) کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیا لکھا ہے (فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ 721 قدیم ) اعلی حضرت نے اس قاعدہ کا عام ہونا ایک سو دس سال قبل تحریر فرمایا ہے!  اور اس تعلیمی ترقی کے زمانہ میں تو اس قاعدہ پر سختی کے ساتھ عمل ہے لہٰذا ظاہر یہ ہی ہے کہ اس نے طلاق نامہ پڑھ کر یا اس کے مضمون سے آگاہ ہو کر اس پر دستخط کیا ہے  (اس میں لکھی ہوئی ) طلاقیں واقع ہو گئی (فتاوی فقہ ملت جلد دوم صفحہ 9  )   جواب نمبر 2 جب اس کو معلوم ہے کہ یہ کاغذات طلاق ہے تو اس کا مطلب اس نے سوچ سمجھ کر ہی دستخط کئے ہیں یہ مکاری کورٹ میں چل سکتی ہے شرعیہ میں نہیں جھوٹ بول کر وہ لعنت کا مستحق ہوا طلاقیں واقع ہو جائے گی جواب نمبر 3 جھوٹ بول کر فتوی حاصل کرنا حرام ہے  اس دور میں یہ بہانہ کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ کاغذات طلاق ہے ہرگز قابل قبول نہیں ہے مفتی کو حالات زمانہ پر نظر ہونی چاہیے کہ لوگ پہلے طلاقیں دے دیتے ہیں پھر حلالہ سے بچنے کے لیے طرح طرح کے بہانے بناتے ہیں مفتی کا صرف اس کے بیان کا اعتبار کر کے یہ فتوی دینا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی غلط ہے اتنے بڑے سخت معاملہ میں کہ یہ حرام اور حلال کا مسئلہ ہے اور ہمارا بار ہا کا تجربہ ہے کہ لوگ اکثر طلاق کے معاملے میں مفتی کے سامنے جھوٹے بیان دیتے ہیں لہٰذا طلاق کے معاملے میں صرف سائل کے بیان پر فتوی جاری نہیں کرنا چاہیے جب تک سائل کے بیان کی تحقیق نہ کر لے جب ایسی صورت ہو تو شخص مزکو سے قسم لی جائے پھر کوئی حکم بیان کرے فتاوی فقہ ملت میں ہے اگر زید اس بات سے انکار کرتا ہے تو وہ مسجد کے ممبر پر دونوں ہاتھ رکھے اور اسی حال میں اس سے قسم اس طرح کھلائیں کہ میں اللہ تعالٰی کو سمیع و بصیر اور اس کے رسول سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اللہ تعالٰی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے طلاق نامہ کو نہیں پڑھا اور نہ میں اس مضمون سے واقف تھا کہ اس میں طلاق لکھی ہے اگر میرا یہ بیان غلط ہو تو مجھ پر اللہ تعالٰی کا قہر و غضب ہو اور وہ مجھے کوڑھی و اندھا کر دے اگر وہ اس طرح قسم نہ  کھائے تو طلاق کی تحریر جان کر اس پر دستخط کرنے کا اقرار لیا جائے (فتاوی فقہ ملت جلد دوم صفحہ 10  )  نوٹ طلاق کے ہو یا کوئی اور مسائل ہر کسی عالم سے نہیں پوچھا جائے بلکہ مسند مفتی جس کے فتاوی پر اہل علم کا اعتماد ہو اور وہ اہل علم کی جماعت میں مفتی مشہور ہو ورنہ آج کل سوشل میڈیا پر ہر کوئی مفتی بن کے بیٹھے ہیں لہٰذا دینی مسائل میں مشہور مفتی کا ہی اعتماد کیا جائے واللہ اعلم و رسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598