میت کو نہلانے کا طریقہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں زید کی ماں کا انتقال شام دس بجے کمرے کے اندر چار پای یا چوکی کے اوپر ہوا رات کو اسی کمرے میں چوکی یا چار پای کے اوپر لا ش کو رکھا گیا صبح اسی کمرے میں اسی چار پای یا چوکی کے اوپر پردے کا احتمام کرکے نہلا یا گیا بکر کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہے بکر کہتا ہے کہ مرنے کے بعد فوراً مردے کو نیچے مٹی میں سلا دینا چاہیے کمرے میں نہلا نا غلط ہے سب کے سامنے باہر نہلا نا چاہیے قرآن وحدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المستفتی جملہ اراکینِ کمیٹی رمنیا پوکھر پوٹھیا کشنگنج بہار
*وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ جس چارپائی یا تخت یا تختہ پر نہلانے کا ارادہ ہو اُس کو تین یا پانچ یا سات بار دھونی دیں یعنی جس چیز میں وہ خوشبو سلگتی ہو اُسے اتنی بار چارپائی وغیرہ کے گرد پھرائیں اور اُس پر میّت کو لٹا کر ناف سے گھٹنوں تک کسیکپڑے سے چھپا دیں ، پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز کا سا وضو کرائے یعنی مونھ پھر کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئیں پھر سر کا مسح کریں پھر پاؤں دھوئیں مگر میّت کے وضو میں گٹوں تک پہلے ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا نہیں ہے ہاں کوئی کپڑا یا روئی کی پھریری بھگو کر دانتوں اور مسوڑوں اورہونٹوں اور نتھنوں پر پھیر دیں پھر سر اور داڑھی کے بال ہوں تو گل خیرو سے دھوئیں یہ نہ ہو تو پاک صابون اسلامی کارخانہ کا بنا ہوا یا بیسن یا کسی اور چیز سے ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے، پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر سر سے پاؤں تک بیری کا پانی بہائیں کہ تختہ تک پہنچ جائے پھر داہنی کروٹ پر لٹا کر یوہیں کریں اور بیری کے پتّے جوش دیا ہوا پانی نہ ہو تو خالص پانی نیم گرم کافی ہے پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی کے ساتھ نیچے کو پیٹ پر ہاتھ پھیریں اگر کچھ نکلے دھو ڈالیں وضو و غسل کا اعادہ نہ کریں پھر آخر میں سر سے پاؤں تک کافور کا پانی بہائیں پھر اُس کے بدن کو کسی پاک کپڑے سے آہستہ پونچھ دیں ۔ (1)
مسئلہ ۳: ایک مرتبہ سارے بدن پر پانی بہانا فرض ہے اور تین مرتبہ سنت جہاں غسل دیں مستحب یہ ہے کہ پردہ کر لیں کہ سوا نہلانے والوں اور مددگاروں کے دوسرا نہ دیکھے، نہلاتے وقت خواہ اس طرح لٹائیں جیسے قبر میں رکھتے ہیں یا قبلہ کی طرف پاؤں کرکے یا جو آسان ہو کریں ۔ (بہارشریعت حصہ چارہم باب میت کے بہلانے کا بیان )
بکر کا کہنا غلط ہے مردے کو نیچے مٹی پر سلا دینا اسلام میں نہیں ہے بلکہ یہ طریقہ کفار مشرکین کا ہے بکر جاہل مسلمانوں کو اسلام کے طریقے سے روکتا ہے سخت گنہگار ہے توبہ کرے حدیث میں ہے جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 716 ) کمرے میں نہلانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہاں کمرا پانی سے خراب نہ ہو بہتر تو یہ تھا، کہ نہلانے کا انتظام باہر کرتے بکر کذاب ہے کہ کمرے میں نہلا نا غلط کہتا ہے دلیل پیش کرے ورنہ غلط مسئلہ بتانے سے احتراز لازم
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں