امام سفر کر کے واپس سفر کا ارادہ

کیافرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ زید  ہلود   مسجد میں امام ہے وہ اپنی جگہ سے احمد آباد جاتا ہے جو کہ 150 کلومیٹر کی مسافت پر ہے اور پھر واپس ہلود آتا ہے لیکن ہلود میں چار دن رکنا ہے اور پھر اسے سفر کرنا ہے تو زید ہلود میں کتنی رکعت نماز پڑھائے گا جواب عنایت فرمائیں سائل محمد رضوان
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں زید ہلود مسجد میں امام ہے تو ہلود زید کے لئے وطن اقامت ہے وطن اصلی نہیں اور وطن اقامت وطن اصلی سے اور سفر شرعی سے باطل ہو جاتا ہے لہٰذا زید جب واپس ہلود آتا ہے اور وہاں پندرہ دن اقامت کی نیت نہیں تو وہ نماز قصر پڑھائے گا اسی طرح کے ایک جواب میں مفتی ابرار احمد امجدی فرماتے ہیں وہاں قصر ہی کرے گا جب تک کہ وہاں کم سے کم پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے جب کہ وہ دوسری  (ہلود ) نہ اس کا مولود ہے نہ وہاں اس نے شادی کی ہے نہ اسے وطن بنا لیا یعنی یہ عزم نہ کر لیا کہ اب یہی رہوں گا اور یہاں کی سکونت نہ چھوڑوں  گا بلکہ (زید کا قیام ہلود میں عارضی امامت کے تعلق سے ہے ) تو وہ جگہ وطن اصلی نہ ہوئی اگرچہ وہاں قیام زیادہ ہو  اگرچہ وہاں برائے چندے یا تاحاجت اقامت بعض یا کل اہل و عیال کو بھی لے جائے کہ بہر حال یہ قیام ایک وجہ خاص سے ہے نہ مستقل و مستقر تو جب وہاں سفر سے آئے گا  (ہلود )   جب پندرہ دن کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے (فتاوٰی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 223 بحوالہ فتاوی رضویہ ) واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598