حائض کو تلاوت قرآن کرنا حرام ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں جس عورت کو حیض آجائے اس کے بعد بھی کیا وہ تلاوت قرآن مجید کر سکتی ہے اور معلمہ بچوں کو پڑھا سکتی ہے جواب عنایت فرمائیں سائل عبداللہ حیدر 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

 حَیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں۔


مسئلہ کاغذ کے پرچے پر کوئی سورہ یا آیت لکھی ہواس کا بھی چھونا حرام ہے۔ 


مسئلہ  جزدان میں قرآنِ مجید ہو تو اُس جزدان کے چھونے میں حَرَج نہیں۔ 


مسئلہ : اس حالت میں کُرتے کے دامن یا دوپٹے کے آنچل سے یا کسی ایسے کپڑے سے جس کو پہنے، اوڑھے ہوئے ہے قرآنِ مجید چُھونا حرام ہے غرض اس حالت میں قرآنِ مجید و کتب ِدینیہ پڑھنے اور چھونے کے متعلق وہی سب اَحْکام ہیں جو اس شخص کے بارے میں ہیں جس پر نہانا فرض ہے 


مسئلہ  معلمہ کو حَیض یا نِفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حَرَج نہیں۔(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 382 ) مسئلہ حیض عورت سے نماز ساقط کر دیتا ہے اور اس پر روزہ رکھنا حرام ہے اور حائض روزے کی قضا کرے گی نماز کی قضا بھی نہیں کرے گی  (ہدایہ ) اس حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے لیکن روزہ بلکل معاف نہیں ہوتا بلکہ پاک ہونے کے بعد اس روزوں کی قضا لازم ہے یعنی فرض روزہ کی قضا فرض اور واجب روزوں کی قضا واجب اگر فرض روزہ کی حالت میں حیض و نفاس شروع ہو گیا وہ روزہ جاتا رہا اس کی قضا رکھے خواہ وہ روزہ فرض ہو یا واجب یا سنت یا نفل کیونکہ شروع ہونے کے بعد سنت و نفل روزے بھی واجب ہو جاتے ہیں

(ہدایہ ) حائض کو تلاوت کی نیت قرآن پڑھنا حرام لیکن جن آیتوں میں اللہ تعالٰی کی ثناء یا دعا کا مضمون ہو ان کو ثنا یا دعا یا شکر کے ارادے سے پڑھے تو جائز ہے( ہدایہ اول صفحہ 369 ) واللہ اعلم و رسولہ 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598