مسجد کو عیدگاہ میں منتقل؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال
ایک گاؤں میں بہت ہی بھیانک سیلاب آیا۔۔۔ بہت نقصان ہوا۔۔
اب وہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر دور دوسرا گاؤں بسایا سارے لوگ وہاں منتقل ہو گئے۔۔
سیلاب زدہ گاؤں میں مسجد تھی، کچھ دن وہاں اذان اور نماز وغیرہ لوگ پڑھتے تھے پھر جہاں نیا گاؤں تھا وہاں نئی مسجد تعمیر کی گئی اور اب وہاں نماز ہونے لگی۔
پرانی مسجد (ایک کلومیٹر دور) کو بطور عیدگاہ استعمال کرنے لگے۔۔
سوال یہ کہ کیا مسجد کو عید گاہ میں منتقل کرنا درست ہے؟؟
کیا اس مسجد کو ویران کرنے کا حکم لگے گا؟؟
کیا ایک صاحب اس مسجد کو آباد کرنے کی نیت وہاں تنہا نماز پنجگانہ پڑھ سکتا ہے جبکہ اس صورت میں جماعت چھوٹ جائے گی۔۔
سمیر بھائی
موربی
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں جس جگہ ایک بار مسجد بن گئی قیامت تک وہ مسجد ہی رہے گی سوال میں مذکور صورت کے مطابق پرانی مسجد کو باقی رکھتے ہوئے آبادی میں مسجد بنانے کی اجازت ہے مگر پرانی مسجد کی حرمت و تقدس کی حفاظت کے لیے اس کی چار دیواری کر دی جائے یا کسی چیز سے گھیر کر محفوظ کر دیا جائے مفتی اعظم الہند رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جو مسجد ہو چکی تاقیامت مسجد رہے گی (فتاوی مفتی اعظم جلد سوم صفحہ 214 ) فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 58 میں کسی مسجد کو شہید کر کے دوسری جگہ منتقل کرنا ناجائز ہے فتاوی تربیت افتاء جلد اول صفحہ 248 میں ہے مسجد کو ویران کرنا گناہ ہے البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ پہلی مسجد کو باقی رکھتے ہوئے دوسری مسجد تعمیر کی جائے اور دونوں کو آباد کرنے کا التزام کیا جائے! مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جب پرانی مسجد کو خطرہ ہو لوگ اس کا سامان لے جائیں گے پس ایسی صورت میں امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ سے جو دوسری روایت ہے اس پر عمل کر کے اسکا عمارتی سامان منتقل کر کے دوسری مسجد میں لگایا جائے اور اس زمین کو چبوترہ کی شکل میں باقی رکھیں جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ مسجد ہے اور مسلمان اس کا احترام کرے (فتاوی امجدیہ جلد سوم صفحہ 149 ) لہٰذا اس مسجد کو عیدگاہ میں منتقل نہیں کر سکتے البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس مسجد میں عید کی نماز پڑھیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بہتر یہ ہوتا کہ اس مسجد میں ایک پڑھا لکھا شخص رکھے جو نماز پڑھا سکتا ہوں اس کے ساتھ کچھ لوگ مل کر ہمیشہ جماعت سے نماز ادا کرتے تاکہ مسجد ویران نہ ہو سوال میں ہے بستی ایک کیلو میٹر کی دوری پر ہے تو یہ کوئی زیادہ دوری نہیں ہے بلکہ مسجد گھر سے جتنی دور ہو اس میں ثواب بھی زیادہ ہوگا کہ وہاں تک چلنے میں بھی ثواب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاریکیوں میں مسجدوں تک کثرت سے پیادہ جانے والوں کو روز قیامت بھر پور روشنی ملنے کی بشارت دے دو (آبی داؤد ) لہٰذا کوشش یہ ہی کرے کہ اس مسجد میں بھی جماعت ہو اگر مجبوری کی وجہ سے نہیں کر سکتے ہیں تو کوئی ایک آدمی اس میں اذان دے کر نماز ادا کرتا ہو تو اس پر جماعت کے ترک کا گناہ نہیں ہوگا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے !مسجد محلہ میں نماز پڑھنا، اگرچہ جماعت قلیل ہو مسجد جامع سے افضل ہے، اگرچہ وہاں بڑی جماعت ہو، بلکہ اگر مسجد محلہ میں جماعت نہ ہوئی ہو تو تنہا جائے اور اذان و اقامت کہے، نماز پڑھے، وہ مسجد جامع کی جماعت سے افضل ہے۔ (2) (بہار شریعت حصہ سوم 354 ) واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
آن لائن مطالعہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں