کافر کی شیرنی پر فاتحہ

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ  کسی غیر مسلم کى طرف سے دیا گیا جانور جو اس نے خیرات کرکے کھلانے کے لیے دیا ہے کیا ایسا جانور کسی بزرگ کی نیاز میں شامل کر سکتے ہیں  قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں 

سائل میر محمد صدیقی 

باڑمیر

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

غیر مسلم کا خیرات، صدقہ ، نیاز وغیرہ کوئی عمل قبول نہیں نہ ہرگز اس پر ثواب ممکن اللہ تعالٰی فرماتا ہے،  وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰهُ هَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ۞


ترجمہ:

انہوں نے (اپنے زعم میں) جس قدر (نیک) کام کئے تھے ہم ان کی طرف قصد کریں گے اور ان کو فضا میں بکھرے ہوئے (غبار کے) باریک ذرے بنادیں گے (سورت نمبر 25 آیت نمبر 23 )  فتاوی تربیت افتاء جلد اول صفحہ 387 ) میں ہے اس کے کھانے پر فاتحہ دینا اس کے ثواب پہنچنے کا اعتقاد کرنا ہے اور یہ قرآن مجید کے خلاف ہے جو شخص ایسا کرے اس پر توبہ فرض ہے بلکہ تجدید ایمان و نکاح بھی چاہئے  ایسا ہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 653 میں ہے ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کافر کی چیز لے کر اپنی کر کے فاتحہ دے دے حضور مفتی اعظم الہند رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں غیر مسلم سے شیرنی لے کر اپنی کر کے اپنے آپ فاتحہ دے کر اپنی سمجھ کر تقسیم کر دیں  (فتاوی مصطفویہ صفحہ 453 ) لیکن فاتحہ کے بعد انھیں فاتحہ کی شیرنی  نہ دی جائے 

خلاصہ وہ جانور اس سے اس طرح لے کے کوئی مسلمان یہ کہے کہ آپ اس جانور کا مالک مجھے بنا دے پھر وہ مسلمان اپنی طرف سے نیاز میں استعمال کر دیں واللہ اعلم و رسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598