مشت زنی خود لزتی ؟
الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۞ ترجمہ *ہم کو سیدھے راستے پر چلا* 🌷 آج کا دور سوشل میڈیا کا ہے اس سے کہیں فوائد بھی ہے تو کہیں نقصانات بھی فرق اتنا ہے اس کا استعمال درست کیا جائے تو مفید ہے اور اگر اس کا استعمال غلط کیا گیا تو زندگی اور آخرت دونوں برباد ہو جائے گی آج کل نوجوان نسل ہر ٹوفیق پر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اس کی جانکاری حاصل کرتے ہیں مگر کبھی کبھی یہ جانکاری آدمی کو تباہ و برباد کر دیتی ہے ایسی ہی ایک دوست نے مجھے ایک pdf بھیجی جس میں sex کے متعلق نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے لیے کچھ باتیں لکھی گئی تھی جس کو پڑھ کر نوجوان نسل اپنی جوانی کو برباد کر دیگی اسلام مذہب پاک و صاف مذہب ہے اور ہر چیز کا بیان موجود ہے زندگی کے کوئی بھی پہلو پر اسلام میں جانکاری موجود ہے اس کتاب میں مشت زنی کرنے کو جائز کہا تھا اور اس میں کچھ نقصان نہیں ہوتے ایسی بے ہودا باتیں لکھی گئی تھی اس لیے ہم اس رسالے کے ذریعے نوجوان نسل کو sex کے متعلق کچھ باتیں لکھتے ہیں جس سے آپ کو فائدہ پہنچے دوستوں اسلام میں شہوت کو پوری کرنے کے لیے قرآن مجید ہماری کس طرح رہنمائی کرتا ہے دیکھے اسلام نے مشت زنی سے منع کیا ہے کہ یہ بے ہودا کام ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَۙ ۞
ترجمہ:
اور جو بےہودا باتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں ●وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فَاعِلُوۡنَۙ ۞ ترجمہ اور جو اپنا باطن صاف کرنے والے ہیں ●
القرآن - سورۃ نمبر 23 المؤمنون
آیت نمبر 5
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَۙ ۞
ترجمہ:
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں●
یعنی شرمگاہ کی حفاظت اس طرح کرے کہ مرد ہو یا عورت، شہوت ختم کرنے کے لیے مرد اپنی بیوی کے ساتھ اور عورت اپنے شوہر کے ساتھ ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو کر شہوت پوری کرنا چاہے اس کے علاوہ کسی دوسرے ذرائع سے شہوت پوری کرنا جائز نہیں ہے آج کل یوٹوب پر ہر طرح کی بے ہودا باتیں بتائی جاتی ہے مثلاً مرد مشت زنی (ہاتھ سے منی خارج کرنا ) عورت اپنی انگلی سے شرمگاہ میں ڈال کر اپنی شہوت پوری کرنا یا کسی آلا سے شہوت پوری کرنا یہ سب ناجائز و حرام ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَۚ ۞
ترجمہ:
سوائے اپنی بیویوں کے یا بندیوں کے سو بیشک ان میں وہ ملامت کئے ہوئے نہیں ہیں● القرآن - سورۃ نمبر 23 المؤمنون
فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ(7)
ترجمۂ کنز العرفان
تو جو اِن کے سوا کچھ اور چاہے تووہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔
تفسیر صراط الجنان
{ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ: تو جو اِن دو کے سوا کچھ اور چاہے۔} یعنی جو بیویوں اور شرعی باندیوں کے علاوہ کسی اور ذریعے سے شہوت پوری کرنا چاہے تو وہی حد سے بڑھنے والے ہیں کہ حلال سے حرام کی طرف تَجاوُز کرتے ہیں ۔( روح ا لبیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷، ۶ / ۶۸، ملخصاً)
ہم جنس پرستی، مشت زنی اور مُتعہ حرام ہے:
اس سے معلوم ہو اکہ شریعت میں صرف بیویوں اور شرعی باندیوں سے جائز طریقے کے ساتھ شہوت پوری کرنے کی اجاز ت ہے، اس کے علاوہ شہوت پوری کرنے کی دیگر صورتیں جیسے مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے، شوہر کا بیوی یاشرعی باندی کے پچھلے مقام سے، اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے یونہی کسی عورت سے متعہ کرنا بھی حرام ہے۔
علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے ہاتھ سے قضائے شہوت کرنا حرام ہے۔حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے ایک اُمت کو عذاب کیا جو اپنی شرمگاہوں سے کھیل کرتے تھے۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۔۔۔۔۔۔تشریح مشت زنی کیا ہے آسان لفظوں میں سمجھے مشت زنی کیاھے
بیوی یا لونڈی کے ساتھ جماع یا مباشرت کئے بغیر اپنی شرمگاہ سے لذت حاصل کرنا، یا منی خارج کرنا مشت زنی کہلاتا ہے جسے عربی زبان میں استمناء کہا جاتا ہے، کسی بھی وسیلہ سے، یا کسی بھی آلہ سے خود لذتی کا نام مشت زنی ہے : چاہے ہاتھ کے ذریعے، یا کسی نرم جگہ یا کپڑے کے ذریعے، یا کوئی جدید تکنیکی آلات کے ذریعے سے انجام پایا ھو۔
خود لذتی کیا ھے ؟
یعنی خود بخود لذت حاصل کرنا، جب کوئی بری نظر والا، فلم بینی کرنے والا، اوہام پرستی میں ڈوبے رہنے والا، فسق و فجور میں لت پت رہنے والا، فحاشی اور عریانیت پسند جب کہیں کسی خوبصورت عورت یا لڑکی کو دیکھ لیتا ہے تو وہ اس سے دل ہی دل میں چاہنے لگتا ہے خام خیالی میں اور سپنوں میں اس سے عشق کرنے لگتا ہے، اس کی شہوت بھڑکنے لگتی ہے، اس سے جماع کرنے کی خواہش امڈ پڑتی ھے، اسے یاد کرتے ہوئے، اپنے دل کی نظر میں تصور و حاضر کر کے اپنی جنسی اور جسمانی شہوت کو برانگیختہ کر لیتا ہے، اور کبھی کبھی تو کسی بھی طرح اپنی منی نکال کر ھی دم لیتا ھے۔
مشت زنی کرنا جائز ھے یا حرام؟
مشت زنی حرام عمل ھے، یہ شیطانی وسوسہ و جذبہ کے سوا اور کچھ نہیں ھے، لہذا مشت زنی کرنے والا بہت بڑا گنہگار ھے، شریعتِ اسلامیہ کی نظر میں وہ ایک مجرم ، حد سے تجاوز کرنے والا اور مکارم اخلاق سے دور رھنے والا ھے۔
مشت زنی کے نقصانات
سر و بدن درد، گیس بننا، بدھضمی، لاغری اور دبلا پن، سستی اور کاہلی، دماغی کمزوری، یادداشت کی کمزوری، آنکھ کی کمزوری، اعصاب، پٹھوں اور ہڈیوں کی کمزوری، اعضاء تناسل کا بگڑ جانا ،چھوٹا اور ٹیڑھا ھوجانا، مادہ منویہ کی قلت وفقدان وغیرہ وغیرہ جیسی بیماریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔ فتاوی رضویہ میں ہے یہ
ناپاک حرام وناجائز ہے اللہ جل وعلا نے اس حاجت کے پورا کرنے کو صرف زوجہ و کنیز شرعی بتائی ہیں اور صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ :فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العدون ۱؎۔
جو اس کے سو ااور کوئی طریقہ ڈھونڈھے توو ہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۷۰ /۳۱)
حدیث میں ہے :ناکح الید ملعون
جلق لگانے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔
(۲؎ الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۹۱)(الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ حدیث نمبر ۱۰۲۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۵۷)
ہاں اگر کوئی شخص جوان تیز خواہش ہو کہ نہ زوجہ رکھتاہو نہ شرعی کنیز اور جوش شہوت سخت مجبور کرے اوراس وقت کسی کام میں مشغول ہوجانے یا مردوں کے پاس جابیٹھنے سے بھی دل نہ بٹے غرض کسی طرح وہ جوش کم نہ ہو یہاں تک کہ یقین یاظن غالب ہوجائے کہ اس وقت اگر یہ فعل نہیں کرتا تو حرام میں گرفتار ہوجائے گا تو ایسی حالت میں زنا ولواطت سے بچنے کے لئے صرف بغرض تسکین شہوت نہ کہ بقصد تحصیل لذت و قضائے شہوت اگر یہ فعل واقع ہو تو امید کی جاتی ہےکہ اللہ تعالی مواخذہ نہ فرمائے گا۔ پھر اس کے ساتھ ہی واجب ہے کہ اگر قدرت رکھتا ہو فورا نکاح یا خریداری کنیز شرعی کی فکر کرے ورنہ سخت گنہ گار ومستحق لعنت ہوگا۔ یہ اجازت اس لئے نہ تھی کہ اس فعل ناپاک کی عادت ڈال لے اور بجائے طریقہ پسندیدہ خدا ورسول اسی پر قناعت کرے
مشت زنی حرام ہے مگر تین شرائط کے ساتھ جواز کی گنجائش ہے : (۱) مجرد ہو اور غلبہ شہوت ہو (۲) شہوت اس قدر غالب ہو کہ بدکاری زناء یالونڈے بازی وغیرہ کا اندیشہ ہو (۳) تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے محض تکسین شہوت مقصود ہو نہ کہ حصول لذت۔ طریقہ محمدیہ کی عبارت مکمل ہوگئی جس میں اس کی شرح حدیقہ ندیہ سے کچھ اضافہ بھی شامل ہے۔ (ت)
(۱؎ الطریقہ محمدیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ الاستمناء بالید مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۲/ ۲۵۵)(الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ الاستمناء بالید مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۲/ ۴۹۱)
تنویر الابصار میں ہے :یکون (ای) واجبا عند التوقان ۲؎۔
غلبہ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے۔
(۲؎درمختارشرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۵)
ردالمحتارمیں ہے :قلت وکذا فیما یظھر لو کان لایمکنہ منع نفسہ عن النظر المحرم او عن الاستمناء بالکف فیجب التزوج وان لم یخف الوقوع فی الزناء واﷲ تعالی اعلم۔
میں کہتاہوں اور اسی طرح کچھ ظاہر ہوتاہے کہ اگر حالت ایسی ہوکہ یہ اپنے آپ کو نظر حرام اور مشت زنی سے نہ روک سکے تو شادی کرنا واجب ہے۔ اگر چہ زناء میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اللہ تعالی ہی بڑا عالم ہے۔
سئل ابن عباس رضی الله عنه عن رجل يبعث بذکره حتی ينزل فقال ابن عباس ان نکاح الامة خير من هذا و هذا خير من الزنا.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنے آلہ تناسل سے کھیلتا ہے، حتی کہ اس کو انزال ہو جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ باندی سے نکاح کرنا اس سے بہتر ہے اور یہ زنا سے بہتر ہے۔
ناکح اليد ملعون.
ہاتھ سے جماع کرنے والا ملعون ہے۔
(ردالمختار، 2 : 137-136)
علامہ علاء الدین حنفی لکھتے ہیں کہ استمناء بالید مکروہ تحریمی ہے۔
امام شافعی کا قول یہ ہے کہ یہ حرام ہے۔ البتہ بیوی یا باندی کے ہاتھ سے استمناء کرانا جائز ہے۔
صاحب در مختار یہ نقل کرتے ہیں کہ یہ مکروہ ہے۔
انسان اگر حصول شہوت کے لیے یہ عمل کرے گا تو گنہگار ہوگا۔
حدیث پاک میں آتا ہے کہ ہاتھ سے جماع کرنے والا ملعون ہے اور پانی کو بہانا اور شہوت کو غیر محل میں پورا کرنا حرام ہے۔
علامہ ابو للیث نے کہا ہے کہ شہوت کی توجہ، حصول اور تجسس کی خاطر استمناء گناہ ہے۔
علامہ ذیلعی نے استمناء بالکف کے عدم جواز پر اس سے استدلال کیا۔
قرآن مجید میں آیا ہے :
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ o إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَo
(المومنون، 23 : 6-5)
اور جو (دائماً) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیںo سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں، بیشک (احکامِ شریعت کے مطابق ان کے پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت نہیںo
انسان کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنے عضو خاص کو رگڑے، کیونکہ اسے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے عضو کا علی الاطلاق مالک بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنے وجود کا، جسم کا، حتی کہ اپنے اعضاء کا مالک ہی نہیں تو وہ ان اعضاء کو شہوت، غلط کاری یا گناہ کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔
علامہ ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے استمناء بالکف کیا تو اس نے حرام کام کیا اور اس کا یہ فعل حرام تصور ہوگا۔ ہاں اگر اس کا انزال ہوگیا تو اس کا روزہ بھی فاسد ہو جائے گا۔
(المغنی، جلد 3)
: مشت زنی کرنا ناجائز اور گناہ ہے، اس کی حرمت قرآن کریم سے ثابت ہے۔( سورۃ المومنون ، آیت ، ۵ تا ۸)۔ نیز کئی احادیث میں اس فعل ِ بد پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظر ِ کرم فرمائیں گے ۔۔۔۔اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے )۔ (شعب الایمان (7/ 329)
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایاگیا ہے کہ: اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اُس کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ۔
اعلی حضرت قدس سرہ رقمطراز ہیں مشت زنی کا عادی شخص کے بارے میں کہ وہ گنہگار، عاصی ہے اصرار کے سبب مرتکب کبیرہ ہے فاسق ہے حشر میں ایسوں کی ہتھیلیاں گابھن اٹھیں گی جس سے مجمع اعظم میں ان کی رسوائی ہوگی اگر توبہ نہ کرے اور اللہ معاف فرماتا ہے جسے چاہے اور عذاب فرماتا ہے جسے چاہے (یعنی ایسا آدمی جو ہمیشہ مشت زنی یعنی ہاتھ سے منی خارج کرتا ہے اگر یہ بغیر توبہ کے مر گیا تو قیامت کے دن اپنے ان ہاتھوں کی وجہ سے بڑا شرمندہ ہوگا کہ وہ ہاتھ حاملہ ہوں گے اب اس پر غور کریں، کہ جو جاہل لوگ یوٹوب پر مشت زنی کے فائدے گنا رہے ہیں اور آپ ان جاہلوں کی بات میں آگئے تو پھر قیامت کے دن رُسوائی سے کون بچائے گا لہذا اس بری حرکت تو جلد توبہ کریں کہ نہ جانے موت کب آجائے ) سرکار اعلی حضرت فرماتے ہے ایسے شخص کو جس کی مشت زنی کی عادت پڑ گئی ہے وہ توبہ کرے اور لا حول شریف کی کثرت کرے اور جب شیطان اس حرکت کی طرف بلائے فوراً دل سے متوجہ بخدا ہو کر لاحول پڑھے نماز پنجگانہ کی پابندی کرے نماز فجر کے بعد بلا ناغہ سورہ اخلاص شریف کا ورد رکھے (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 244 ) نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو چاہے کہ ایک تو سوشل میڈیا پر فحش مواد سے دو رہے اپنا وقت کسی صحیح العقیدہ سنی عالم کی تقریر سنے اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے جب بھی شیطان تمہیں اس حرکت کی طرف بلائے فوراً لاحول پڑھ کر اس رسالے کو پڑھنا شروع کر دیں انشاءاللہ شیطانی خیالات دفعہ ہو جائے گا (اکبری ) کچھ لوگ تو اس سے بھی بڑھ کر گندی حرکت میں مبتلا ہیں یعنی لواطت میں ملوث ہیں
اعلی حضرت قدس سرہ رقمطراز ہیں مشت زنی کا عادی شخص کے بارے میں کہ وہ گنہگار، عاصی ہے اصرار کے سبب مرتکب کبیرہ ہے فاسق ہے حشر میں ایسوں کی ہتھیلیاں گابھن اٹھیں گی جس سے مجمع اعظم میں ان کی رسوائی ہوگی اگر توبہ نہ کرے اور اللہ معاف فرماتا ہے جسے چاہے اور عذاب فرماتا ہے جسے چاہے (یعنی ایسا آدمی جو ہمیشہ مشت زنی یعنی ہاتھ سے منی خارج کرتا ہے اگر یہ بغیر توبہ کے مر گیا تو قیامت کے دن اپنے ان ہاتھوں کی وجہ سے بڑا شرمندہ ہوگا کہ وہ ہاتھ حاملہ ہوں گے اب اس پر غور کریں، کہ جو جاہل لوگ یوٹوب پر مشت زنی کے فائدے گنا رہے ہیں اور آپ ان جاہلوں کی بات میں آگئے تو پھر قیامت کے دن رُسوائی سے کون بچائے گا لہذا اس بری حرکت تو جلد توبہ کریں کہ نہ جانے موت کب آجائے ) lنوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو چاہے کہ ایک تو سوشل میڈیا پر فحش مواد سے دو رہے اپنا وقت کسی صحیح العقیدہ سنی عالم کی تقریر سنے اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے جب بھی شیطان تمہیں اس حرکت کی طرف بلائے فوراً لاحول پڑھ کر اس رسالے کو پڑھنا شروع کر دیں انشاءاللہ شیطانی خیالات دفعہ ہو جائے گا (اکبری ) حضرت سیعد بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تَعَالٰی اس قوم کو عذاب میں مبتلا کرے گا جو اپنے ذکر ( شرمگاہ ) سے کھیلتے ہیں یعنی ہاتھ سے منی خارج کرتے ہیں (تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 11 ) اور بعض لوگ تو اس سے بھی بڑھ کر گندی حرکت میں مبتلا ہیں یعنی لواطت میں ملوث ہیں کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے شہوت پوری کرتا ہے یہ حرکت اتنی گندی ہے کہ جانور بھی ایسی حرکت نہیں کرتے ہوگے یہ سخت حرام ہے اور مستحق عذاب نار ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا
القرآن - سورۃ نمبر 7 الأعراف
آیت نمبر 81
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ۞
ترجمہ:
بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس نفسانی خواہش کے لیے آتے ہو بلکہ تم تو (حیوانوں کی) حد سے (بھی) تجاوز کرنے والے ہو
اس آیت کریمہ کی تفسیر خزائن العرفان میں ہے خزائن العرفان
(ف150)
یعنی ان کے ساتھ بد فعلی کرتے ہو ۔
(ف151)
کہ حلال کو چھوڑ کر حرام میں مبتلا ہوئے اور ایسے خبیث فعل کا ارتکاب کیا ۔ انسان کو شہوت بقائے نسل اور دنیا کی آبادی کے لئے دی گئی ہے اور عورتیں محل شہوت و موضوع نسل بنائی گئی ہیں کہ ان سے بطریقۂ معروف حسب اجازت شرع اولاد حاصل کی جائے ، جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر ان کا کام مردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے اس قوت کے مقصد صحیح کو فوت کر دیا کیونکہ مرد کو نہ حمل رہتا ہے نہ وہ بچہ جنتا ہے تو اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے ! علمائے سیر و اخبار کا بیان ہے کہ قوم لوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غلے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے زمین کا دوسرا خطہ اس کا مثل نہ تھا اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے ، ایسے وقت میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بد فعلی کرو ، اس طرح یہ فعل بد انہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا ۔ ! اور کچھ مرد یہ حرکت اپنی بیوی کے ساتھ کرتے ہیں جو کہ حرام ہے واضح رہے کہ پیچھے کے راستے سے جماع کرنا اپنی بیوی کے ساتھ بھی حرام ہے چہ جائیکہ کسی اور عورت کے ساتھ ، یہ عمل بد گناہ کبیرہ ہے اور خداوندی غیض وغضب کا باعث اور مستحق سزا ہے
حدیث شریف میں ہے:
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (3/ 490)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ملعون من أتى امرأته في دبرها
یعنی ایسا شخص ملعون ہے جو عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرتا ہے
مسند أحمد ت شاكر (7/ 399)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلي الله عليه وسلم -: "إن الذي يأتي امرأته في دبرها لا ينظر الله إليه".
یعنی اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف نظر نہیں فرمائیں گے جو پچھلی شرمگاہ میں جماع کرتا ہے۔
البتہ اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہو جائے تو اس گناہ سے سچے دل سے توبہ کر کے آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے، اگر توبہ کر لے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالی معاف فر دیں گے، اللہ تعالی سے خوب گڑگڑا کر توبہ واستغفار ہی اس برے عمل کا تدارک اور کفارہ ہے حدیث میں ہے جو شخص میرے لیے اس چیز کا ضامن ہو جائے جو اس کے جبڑوں کے درمیان میں ہے اور اس کا جو اس کے دونوں پاؤں کے درمیان میں ہے اس کے لیے جنت کا ضامن ہو (صحیح البخاری )
یاد رہے کہ شرمگاہ کی شہوت کو پورا کرنا انسانی فطرت کا تقاضا اور بے شمار فوائد حاصل ہونے کا ذریعہ ہے ، اگر اس تقاضے کو شریعت کے بتائے ہوئے جائز طریقے سے پورا کیا جائے تو یہ دنیا میں بہت بڑی نعمت اور آخرت میں ثواب حاصل ہونے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر اسے ناجائز و حرام ذرائع سے پورا کیا جائے تو یہ دنیا میں بہت بڑی آفت اور قیامت کے روسوائی اور جہنم کے دردناک عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب ہے ، لہذا جو شخص اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے تواسے چاہئے کہ اگرکسی عورت سے شرعی نکاح کر سکتا ہے تو نکاح کر لے تاکہ اسے اپنے لئے جائز ذریعہ مل جائے اور اگر وہ شرعی نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر روزے رکھ کر اپنے نفس کو مغلوب کرنے کی کوشش کرے اور ا س کے ساتھ ساتھ ان تمام أسباب اور محرکات سے بچنے کی بھی بھرپور کوشش کر ے... (باغ مصطفٰی صفحہ 34 .)
کچھ حضرت اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی جب وہ حیض کی حالت میں ہوتی ہے تو صبر نہیں کر پاتے اور پھر اس کے پیچھے کے مقام میں جماع کر لیتے ہیں یہ سخت حرام ہے اگر آپ برداشت نہیں کر سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے معاذ اللہ لواطت یعنی بیوی کے پیچھے کے مقام میں کرتے ہیں تو یاد رکھیں آپ اپنی جوانی کو برباد کر رہے ہیں پھر ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے گے کہ بیوی کے پاس جاتے ہی اپنا ذکر اس کے فرج پر ابھی اندر نہیں گیا تھا کہ ٹچ ہوتے ہی منی نکل جاتی ہے پھر آپ اپنی بیوی کے سامنے شرمندہ ہوں جاؤں گے اور اس کی خواہش آپ پوری نہیں کر پاؤں گے لہذا حیض کی حالت میں بیوی کے ناف سے نیچے تک چھونا جائز نہیں ہے جب تک وہ پاک نہ ہو جائے مگر کچھ لوگوں کو جماع نہ کرنے سے یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں زنا میں مبتلا نہ ہو جائے یا بیوی کے پیچھے کر بیٹھے تو یہ دونوں سخت حرام ہے البتہ جب یہ خدشہ ہو کہ جماع نہیں کرے گا تو گناہ میں مبتلا ہو جائے گا تو اپنی بیوی کے ہاتھوں سے منی خارج کروا دے جیسا کہ تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 11 ) میں ہے کہ امام ابو حنفیہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس شرط پر مشت زنی کی اجازت ہے کہ انسان کو گناہ زنا میں مبتلا ہوجانے کا یقین ہو ایسے ہی اسی شرط پر اپنی بیوی کے ہاتھ سے منی خارج کرنے کی اباحت ہے! یعنی یہ مکروہ ہے مگر بڑے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی بیوی کے ہاتھ سے منی خارج کرواتا ہے تو یہ مکروہ ہے مگر مجبوری میں اجازت ہے وللہ اعالم و رسولہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں