بلند آواز سے قرآن پڑھنا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں *سوال عرض ہےکہ شبینہ پڑھنا کیسا؟*
یعنی کچھ حفاظ کرام مل کے مثال کے طور پر 5 یا 6 حافظ مل کے ایک رات میں مکمل قرآن پاک پڑھتے ہیں تو اس بارے میں رہنمائی عطا فرما دیں *ایک رات میں مکمل قرآن پاک پڑھنا کیسا؟*
*اور وہ بھی لاؤڈسپیکر پہ* حضور جب یہ شبینا یعنی قرآن پاک رات کو پڑھا جاتا ہےسپیکر پہ تو جس گھر میں پڑھا جا رہا ہو اس کے آس پاس دور دراز تک اس کی آواز جاتی ہے قرآن پاک کی تو کرم فرما کے اس بارے میں رہنمائی عطا فرما دیں *اس طرح شبینہ مسجد میں یا گھر میں رات کو لاؤڈ سپیکر میں قرآن پاک اس طرح پڑھنا کیسا* کرم حضور اس کے بارے میں *کثیر حوالہ جات کے ساتھ* رہنمائی عطا فرما دیں تحریری طور پر
اللہ عزوجل آپ کے علم و عمل میں مزید خیر و برکت عطا فرمائے
*جزاک اللہ خیرا*
*خیرخواہِ اہلسنت*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ تین چار حافظ مل کر ایک رات میں قرآن مجید پڑھتے ہیں اور بلند آواز پڑھتے جس سے ایک دوسرے کی آواز ٹکرائے حرام ہے اور جہاں بلند آواز سے پڑھا جائے حاضرین پر سننا فرض ہے جیسا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے
جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے، اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں ۔ (1) (غنیہ، فتاویٰ رضویہ)
مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں ۔ (2) (درمختار وغیرہ)
بازاروں میں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو گناہ پڑھنے والے پر ہے اگر کام میں مشغول ہونے سے پہلے اس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کے لیے مقرر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اس نے شروع کیا اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اس نے پڑھنا شروع کیا، تو اس پر گناہ۔ (3) (بہارشریعت حصہ سوم صفحہ 554 ) لہٰذا تلاوت قرآن پاک کرنے والوں کو خیال ہونا چاہیے کہ تلاوت قرآن کریم کا سننا فرض ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا
[وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۰۰۲۰۴](1)
جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سُنو اور چپ رہو، اس امید پر کہ رحم کیے جاؤ۔
لہٰذا اتنی آواز میں پڑھے کہ کسی دوسرے کو آواز نہ پہنچے اور لاوڈ اسپیکر پر پڑھنا بہت سی وجوہات سے جائز نہیں کہ کچھ لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں کچھ بیمار بھی ہوتے ہیں کچھ اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں یہ لوگ مجبوراً سن نہیں پاتے ہیں شامی میں ہے اگر کوئی چھت پر قرآن پڑھے جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں قاری گنہگار ہوگا یعنی وہ قرآن کو سننے سے ان کے اعراض کا سبب قاری بنا ہے اس لیے اس نے انھیں بیدار کر کے اذیت دی ہے (فتاوٰی شامی جلد دوم صفحہ 423 ) قاری پر واجب ہے کہ وہ قرآن کا احترام کرے وہ اسے بازاروں میں اور مشغولیت کی جگوں میں نہ پڑھے پس وہ ان جب ان مقامات پر پڑھے گا تو وہ قرآن کی حرمت کو ضائع کرنے والا ہوگا پس گناہ قاری پر ہوگا نہ مشغول لوگوں پر کہ یہ حرج کو دور کرنے کے لیے ہے (فتاوٰی شامی صفحہ 423 ) لہٰذا اس طرح لاوڈ اسپیکر پر پڑھنا جو آواز باہر مشغول لوگوں تک پہنچے ناجائز ہے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں