مسلمان کو کافر کہنا کیسا

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائےدین کہ*

*کسی مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے؟ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے جبکہ کافر کہنے والا خود مسلمان ہے۔ اور دین اسلام کو ہلکا جاننا کیسا ہے رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی عبداللہ*

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں 

اگر کوئی مسلمان دوسر ے مسلمان کو کافر یا مشرک کہے تو اگر کہنے والے کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ کافر ہے تو پھر کہنے والے پر بھی کفر لازم آتا ہے، اور  اگرکہنے والے کا یہ عقیدہ نہیں، بلکہ گالم گلوچ کے طور پر کہتاہے تو اس صورت میں کہنے والا کافر نہیں ہوگا، البتہ بغیر کسی سبب کے ایسا کہنے والا قابلِ ملامت ہے،  اس لیے کہ کسی مسلمان کی ہتک وتوہین کبائر (بڑے گناہوں) میں سے ہے، مذکورہ شخص کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرے ، اور جس کو یہ کہا ہے اس سے بھی معافی مانگ لے، اور اس قسم کے الفاظ زبان پر لانے سے اجتناب اور احتیاط کرے، اس لیے کہ کفر وایمان کامسئلہ سنگین اور نازک مسئلہ ہے، اسے مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں مسلمان کو کافر کہنا سخت گناہ منجر الی الکفر ہے  (فتاوٰی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 366 ) 

مشکاۃ شریف میں ہے:

’’حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا، یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے‘‘۔ (بخاری ومسلم) اور دین اسلام کو ہلکا سمجھنا کفر ہے واللہ اعلم و رسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری خادم دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598