قبرستان کا مال دوسری جگہ استعمال؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے میں کہ قبرستان کا تعمیری کام کے لیے چندہ کیا گیا کام مکمل ہو گیا اور کچھ مال بچ گیا اس کا کیا کریں کیا یہ مال دوسری جگہ استعمال کر سکتے ہیں سائل محمد رضوان 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
جو چندہ جس غرض  کے لیے کیا گیا اسی میں استعمال کرنا ہوگا دوسری جگہ اس کا استعمال حرام ہے اعلی حضرت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں وقف جس غرض کے لیے ہے اس کی آمدنی اسی میں استعمال کرے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے  اور چندہ کا رویہ  کام ختم ہو کر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسید واپس کرے یا وہ جس کام کے لئے اجازت دیں اس میں صرف کرے اور اگر ان کا پتہ نہ چل سکے تو اب یہ چاہے کہ جس طرح کے کام کے لیے چندہ لیا تھا اسی طرح کے کام میں اٹھائے  (فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 207 ) 
خلاصہ کلام قبرستان کا بچا ہوا مال جن لوگوں نے دیا ہے انھیں واپس کرے وہ اگر اجازت دیں تو دوسری جگہ استعمال کرے اور معلوم نہیں تو بچے ہوئے مال کو کسی دوسری قبرستان میں استعمال کرے 
واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598