خلاف شرع وصیت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ نےمرنےسےدو مہینے پہلے یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرے بڑے بیٹے اوران کی اولاد کو مرے کفن دفن و نماز جنازہ میں شریک ہونے نہیں دینا۔ میرا چہرہ بھی دیکھنے مت دینا چار آدمی آج بھی گواہ موجود ہے اس وصیت نامہ پر عمل کیا جائے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہندہ کے موت کے بعد انکے بڑے بیٹے اوران کی اولاد کو جب منع کیا گیا تو ان لوگوں نے وصیت نامہ کو نہیں مانا اور ہندہ کے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مار پیٹ کیا اور زبردستی ہندہ کا چہرہ دیکھا از روے شریعت ہندہ کے بڑے بیٹے اوران کی اولاد پر شریعت کا کیا حکم لگتا ہے قران وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ مولانا جمیل اختر اشرفی رمنیا پوکھر پوٹھیا کشنگنج بہار
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
مرحومہ کی مذکورہ وصیت شرعاً معتبر نہیں ہے، بیٹے کا مرحوم والدہ کے جنازے اور تدفین تک کے تمام مراحل میں شرکت کرنا باعثِ گناہ نہیں ہے، بلکہ والدہ کے حقوق میں سے ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ (سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ: 182) ترجمہ اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا اندیشہ ہو تو وہ ان کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃالحنان فرماتے ہیں جو عالم، حاکم، وصی، پنچ، وغیرہ یہ معلوم کرے کہ مرنے والا وصیت میں کسی پر زیادتی کر رہا ہے، یا شرعی احکام کی پابندی نہیں کرنا تو مرنے والے کو سمجھا بجھا کر درست کر دے تو گنہگار نہیں کیونکہ اس میں حق کی حمایت ہے نہ حق کی مخالفت (تفسیر نور العرفان 182 ) خلاصہ کلام ہندہ کا اس طرح وصیت کرنا شرع کے خلاف اور اس پر عمل کروانے والے عمل کرنے والے سب گناہگار ہوئے لہٰذا ہندہ کے وہ لڑکا جس نے اپنی ماں کے جنازہ میں شریک ہونے سے اپنے بھائی کو روکنے کی کوشش کی جو خلاف شرع ہے وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ استغفار کرے اور اپنے بھائی سے معافی مانگیں اور جس بڑے لڑکے نے اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا کیا وہ بھی گنہگار ہے توبہ کرے اور اپنے بھائی سے معافی مانگیں
نوٹ جب بھی کوئی ایسا معاملہ ہو تو خود سے کوئی فیصلہ نہ کرے بلکہ فوراً دارالافتاء میں رجوع کریں تاکہ حکم شرع پر عمل درآمد ہو سکے اور آپس میں تفرقہ بازی سے محفوظ رہے، واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں