چین والی گھڑی کا حکم؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ چین والی ⌚گھڑی پہننا اور اس میں نماز کا حکم کیا ہے
سائل جنید خان
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
چین والی گھڑی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے بعض علماء ناجائز کہتے ہیں اور بعض جائز کہتے اور حالات زمانہ کے مدنظر عمومِ بَلْویٰ کی وجہ سے چین والی گھڑی مردوں کے لئے باندھنا جائز ہے اور ان کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور ان کو باندھ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے البتہ بہتر ہے کہ ان کو اتار کر نماز پڑھی جائے کیونکہ بعض علمائے کرام اب بھی اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے تو چین کی گھڑی میں عمومِ بلویٰ کا اعتبار کیے بغیر اس جائز قرار دیا ہے اور اسے باندھ کر نماز کے بلاکراہت درست ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔
چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں :
دھات کی چین گھڑی کے ساتھ باندھنا علماء کے مابین مختلف فیہ ہے بہت سے علماے کرام اس کو ناجائز و حرام کہتے ہیں ایسی صورت میں اسے پہن کر نماز مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہوگی۔
لیکن اس خادم نے بہت غور و فکر کیا اور کافی تلاش کیا، مگر اب تک اس کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی اور اصل اشیاء میں اباحت ہے اس لیے خادم یہ حکم دیتا ہے کہ اسے باندھنا جائز ہے اور اسے باندھ کر نماز پڑھنی بلا کراہت درست ہے۔
بعض لوگ اس سلسلے میں اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اسے ناجائز فرمایا ہے جیسا کہ الملفوظ اور احکامِ شریعت میں ہے۔
لیکن *"الطیب الوجیز"* میں اعلی حضرت نے یہ فرمایا :
"پس بچنا ہی بہتر ہے." او کما قال۔
الملفوظ کا جو حال ہے وہ اہلِ علم پر مخفی نہیں، اس میں سینکڑوں غلطیاں اب تک مل چکی ہیں، احکامِ شریعت ایک میلاد خواں کی جمع کردہ ہے، یہ دونوں کتابیں اعلی حضرت کے وصال کے بعد چھپی ہیں، اس لئے اس میں غلطی کا امکان بعید نہیں ہے، اسی وجہ سے خادم اسی پر فتویٰ دیتا ہے۔
علاوہ ازیں اسٹیل کی چین جو اب کلائی پر باندھی جاتی ہے، اعلی حضرت کے زمانے میں نہیں تھی، اعلی حضرت کے زمانے میں جیبی گھڑیوں میں چین لگائی جاتی تھی، اسی کے بارے میں ان تینوں کتابوں میں حکم ہے، اسی کے بارے میں احکامِ شریعت میں بھی ہے۔ اس لیے اس کے ناجائز ہونے پر اعلیٰ حضرت کی کسی کتاب کا حوالہ دینا بے محل ہے۔
اب بات وہی پہونچی کہ اصل اشیاء میں اباحت اور اس چین کے ناجائز ہونے پر کوئی دلیلِ شرعی نہیں، اس لئے یہ جائز ہے مگر چوں کہ اختلافِ علماء سے بچنا اولیٰ (بہتر) ہے اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ اسے نہ استعمال کیا جائے۔
(قلمی فتاویٰ شارح بخاری)
*(فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ 36 مکتبہ برکات المدینہ کراچی)* واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں