بائیں ہاتھ سے کھانا پینا
السلام علیکم ورحمتہاللہ وبرکاتہ
کیا الٹے ہاتھ سے کوءی دینی یا دنیاوی چیز لکھ سکتےہیں
یا بچپن سے الٹے ہاتھ سے لکھنے کی عادت ہے تو کیاوہ گنہگار ہوگا
محمد امتیاز وانکانیر میسریا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت ہے کہ : "کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعجبہ التیمن فی تنعلہ وترجلہ وطہورہ وفی شانہ کلہ" (بخاری) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین مبارک کے پہننے،کنگھا کرنے اور طہارت، بلکہ اپنے تمام کاموں میں دائیں کو پسند فرماتے تھے۔فقہا نے اس سلسلے کی تمام روایات کو سامنے رکھ کر کچھ اصول طے کئے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہقابلِ تکریم امور،عبادات کی قبیل کے اعمال اور زندگی یا دین کی دائمی ضروریات کےکام دائیں ہاتھ سے انجام دئے جائیں، جیسے: کھانا پینا ، جوتا اور لباس پہننا، وضو میں اعضا کو دھونا اور مسجد میں داخل ہونا وغیرہاور ایسے کام جو قابل تکریم نہ ہوں ،یا جن میں ازالہ وترک کا مفہوم پایا جاتا ہو ،ان میں بائیں جانب کو ترجیح حاصل ہوگی۔ جیسے: استنجاء کرنا، ناک صاف کرنا، لباس اور جوتا وغیرہ اتارنا۔جبکہ ایسےامور جن کو دائیں اور بائیں دونوں طرف سے کرنا ممکن ہو تو ان میں کسی ایک طرف کو ترجیح حاصل نہ ہوگی، جیسے وضو میں دونوں ہتھیلیاں اور دونوں رخسارساتھ دھوئے جائیں گے ، سر کا اوردونوں کانوں کا مسح ساتھ کیا جائے گا،وغیرہ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کا تھا، یہی سنت بھی ، بائیں ہاتھ سے کھانے کو آپ نے شیطان کا طریقہ قرار دیا ہے، ایک موقع پر آپ کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے بچے نے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا تو آپ نے اس کا ہاتھ روک کر پیار سے سمجھایا کہ "بیٹا ! اللہ کا نام لو، سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ"۔نیز لکھنا بھی علم کے ساتھ وابستہ ایک اہم عمل ہے، اس میں بھی شرعا دائیں ہاتھ کو ہی ترجیح ہوگی،
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
*دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں