جماعت سے الگ جمعہ قائم کرنا؟

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانے عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں

ایک گاؤں ہے  وہاں (60)ساٹھ (70)ستر گھر کی مسلم آبادی ہے٫ ایک مسجد ہے اور مسجد میں میں جمعہ ادا ہوتا ہے  

 اب دس بارہ گھر کے لوگوں کا آپسی جھگڑہے کی وجہ سے وہ  لوگ الگ سے مدرسہ میں جمعہ پڑھتے ہیں ان کے لئے کیا حکم شرع ہے 


السائل : مولنا ارباب علی اکبری

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں بغیر کسی عذر شرعی کے مسلمانوں میں تفریق کا سبب بننا ناجائز و حرام ہے مسلمانوں تمھیں حکم ہے کہ تم سب مل کر رہو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو جیسا کہ اللہ سبحان تعالٰی فرماتا ہے 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ ۖ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۞


ترجمہ:

اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ (سورتہ 3 آیت 103  ) اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو یہ تب ہی ممکن ہوگا کہ تم سب مل کر ایک ساتھ نماز پڑھو اور ایک ساتھ مل کر زندگی بسر کرو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آپس میں قطع تعلق نہ کرو ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ مت پھیرو آپس میں بغض و عناد نہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو اور اے بندگان خدا آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے (الترغیب و الترہب جلد دوم صفحہ 350  ) خلاصہ کلام جو لوگ جماعت سے الگ نماز پڑھتے ہیں وہ گنہگار ہے توبہ کرے اور اللہ سے ڈرے مسلمانوں میں تفرقہ بازی نہ کرے واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

شرعی مسائل آنلائن ملاحظہ فرمائیں 👇

دارالافتاء آنلائن ویبسائٹ 👉

رہا ان لوگوں کی نماز جمعہ کا تو وہاں جمعہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہو تو ان کی نماز جمعہ درست ہے مگر گنہگار ہوئے کہ بغیر ضرورت شرعی کے دوسری جماعت قائم کرنا درست نہیں جیسا کہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے شہر میں  متعدد جگہ جمعہ ہو سکتا ہے، خواہ وہ شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں میں ہو یا زیادہ۔ (2) (درمختار وغیرہ) مگر بلا ضرورت بہت سی جگہ جمعہ قائم نہ کیا جائے کہ جمعہ شعائر اسلام سے ہے اور جامع جماعات ہے اور بہت سی مسجدوں  میں ہونے سے وہ شوکت اسلامی باقی نہیں رہتی جو اجتماع میں ہوتی، نیز دفع حرج کے لیے تعدد جائز رکھا گیا ہے تو خواہ مخواہ جماعت پراگندہ کرنا اور محلہ محلہ جمعہ قائم کرنا نہ چاہیے۔ نیز ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں  کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے، اس کا بیان آگے آتا ہے اور جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقیدہ ہو، احکام شرعیہ جاری کرنے میں  سُلطان اسلام کے قائم مقام ہے، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہوسکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔ اور فرماتے ہیں کہ امام جمعہ کی بلا اجازت کسی نے جمعہ پڑھیا اگر امام یا وہ شخص جس کے حکم سے جمعہ قائم ہوتا ہے شریک ہو گیا تو ہو جائے گا ورنہ نہیں  (بہارشریعت حصہ چارہم باب جمعہ ) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جمعہ قائم کرنے کا اختیار اس دور میں جماعت المسلمین کو ہے صرف چند لوگوں کے جمعہ قائم کرنے نہیں ہوگا اور  مخالف فریق کی جماعت کثیر نہیں ہے اس لیے ان کی نماز جمعہ باطل محض اور وہ لوگ سخت گنہگار ہے واللہ اعلم و رسولہ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598