نماز کے وقت تجارت؟
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام*
*اس جملے پر اپنے اپنے ملفوظات سے نوازیں*
*کہ کسی بھی نماز کے وقت میں کاروبار کرنے سے کاروبار ناجائز ہو جاتا ہے رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفتی محمد منور عطاری پاکستان*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
ملفوظات کی معنی ہے کسی بزرگ کے ارشادات، اولیاء اللہ یا دوسرے بزرگوں کا کلام (اردو لغت ) لہٰذا یہ کہنا کہ اپنے ملفوظات سے نوازیں درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں 2 نماز وقت کاروبار کرنا جائز نہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو(سورت الجمعتہ آیت 9 ) اگرچہ یہ حکم جمعہ کے لئے ہے مگر کسی بھی نماز جس کا وقت ادا کرنا فرض وقت مکروہ تک تاخیر کرنا ناجائز ہے کاروبار میں اتنا مشغول نہ ہو کہ نماز باجماعت ادا نہ کرے رزق کا دینے والا اللہ تَعَالٰی ہے تاجروں کا یہ خیال کہ کسٹمر چلا جائے گا اگر وہ چلا بھی گیا تو اس کے بدلے میں کوئی اور آئے گا اللہ تَعَالٰی فرماتا
وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَا۟ اۨنْفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا وَتَرَكُوۡكَ قَآئِمًا ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جب انہوں نے کوئی تجارتی قافلہ دیکھا یا طبل کی آواز سنی تو اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو (خطبہ میں) کھڑا چھوڑ دیا، آپ کہیے : اللہ کے پاس جو (اجر) ہے وہ تماشے اور تجارتی قافلہ سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے ( سورتہ نمبر 62 آیت 11 ) اور فرماتا ہے
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيۡعٌ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِۖ ۙ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ ۞
ترجمہ:
وہ مرد جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر، اور نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹ پلٹ جائیں گے اور آنکھیں (سورت نمبر 24 آیت 37 )
خلاصہ کلام یہ ہے نماز کے وقت تجارت میں اتنا مشغول ہونا جس کی وجہ سے وقت ختم ہو جائے حرام ہے اور اگر اتنی تاخیر کرتا ہے جس سے جماعت فوت ہو جائے ناجائز ہے واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں