قبر پر نام لکھنا کیسا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسءلے کے بارےمیں کہ مرحوم کی قبر پر تاریخ اور نام لکھ کر
لگانا درج کرنا کیسا ہے
اور قبر کا چارو طرف انٹسے حلقہ بنانا کیسا ہے
محمد امتیاز وانکانیر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
قبر پر مرحوم کا نام اور تاریخ وفات لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اس کوئی آیت یا تسمیہ لکھنا منع ہے مفتی احمد یار خان رحمت اللہ علیہ فرماتے عام قبروں پر جہاں احتیاط نہ ہو سکے اللہ تَعَالٰی کا نام یا قرآن کی آیت لکھنا منع ہے کہ اس میں بے ادبی کا قوی احتمال ہے (مرأۃالمناجیح جلد دوم صفحہ 488 ) 2 عام مسلمان کی قبر کو پکی کرنا منع ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گچ کرنے ان پر لکھنے اور ان پر چلنے سے منع کیا (مشکوتہ حدیث نمبر 1617 ) تشریح حدیث یعنی قبر کو پکی نہ کرے اور نہ ہی اس کو خوبصورت بنائے کہ عام مسلمان کے لیے پکی اور خوبصورت قبر نہیں بنانا چاہے ہاں ارد گرد باؤنڈری کرنے میں حرج نہیں اور نام لکھنے کی ممانعت منسوخ ہے نام لکھ سکتے ہیں صرف اللہ کا نام یا قرآن کی آیت یا حدیث نہ لکھے کہ اس کی بے حرمتی ہو گی واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں