جاہل کی قبر پر عمارت؟
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین. مسئل کے بارے میی جو کہ ایک عام انسان تھا جوکہ نہ نماز نہ روزہ نہ اردو نہ ھنڈی نہ صحیح کلمہ صرف ڈرائیورنگ کرتا تھا اکسیڈنٹ میں ختم ھو گیا, اس کی قبر پر اولیائوں کی درگاہ مسل مقبر بنا نا کسا ہے,,,,بنوانا,,اور بنوانے وال پر شریعت کا کیا حکم ھے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں 2022..1...19
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
مقبرہ عام مسلمان کے لیے جائز نہیں فتاوی رضویہ جلد جلد 9 صفحہ 405 میں غنیہ کے حوالے سے ہے قبر پر زینت کے لیے عمارت بنانا حرام ہے
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک خیمہ تنا ہوا دیکھا تو فرمایا اے غلام اسے اکھاڑ ڈال اب ان پر ان کا عمل سایہ کرے گا (صحیح البخاری رقم الحدیث 1361؟)
حضرت امام بخاری ؒ نے معلق روایت بیان کی ہے کہ جب حسن بن حسن بن علی ؒ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ نے سال بھر کے لیے ان کی قبر پر خیمہ لگا لیا ، پھر انہوں نے اٹھا لیا تو انہوں نے کسی پکارنے والے کو سنا : کیا انہوں نے اپنی مفقود چیز کو پا لیا ؟ دوسرے نے جواب دیا ، نہیں بلکہ مایوس ہو گئے تو واپس چلے گئے ۔ رواہ البخاری تعلیقاً ۔(مشکوتہ حدیث نمبر 1749 ) پھر اگر مردہ وقفی قبرستان میں مدفون ہے تو وہاں پر واقف صرف مردے دفن کرنے کے لیے وقف کرتا ہے نہ کہ وہاں عمارت بنانے کے لیے لہٰذا وقف تصرف ناجائز و حرام ہے جیسا کہ امام احمد رضا خان قادری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں قبرستان کو کوئی اور مکان کسی کے رہنے بسنے کا یا مسجد یا مدرسہ لیا جائے اور قبور کے لئے دوسری زمین دے دی جائے تو یہ قطعی حرام اور بوجوہ حرام کہ وقف میں تصرف بیجا ہے (فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 161 ) سوال کے مطابق مرنے والا فاسق معلن مرتکب گناہ کبیرہ تھا اس کے لیے قبر پر عمارت بنانے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ فائدہ تو تب ہوگا کے مرنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہیں جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت قبر میں گناہ سمیت داخل ہوگی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہوگی کیونکہ وہ مومن کی دعا سے بخش دیا جاتا ہے ( شرح الصدور صفحہ 284 ) لہٰذا قبر پر عمارت نہ بنائیں
واللہ اعلم و رسولہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں