ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ میں آج کے دور میں مسئلہ چل رہا ہے انجیکشن سے بچہ پیدا کرتے ہیں عورت کو انجیکشن لگاتے ہیں اور دوسری بات گاے بھینس کو بھی انجیکشن لگاتے ہیں پھر اسکا دودھ کھاسکتےہیں دونوں مسئلہ کا جواب عنایت فرماے قرآن وحدیث کی روشنی میں ازقلم میرمحمد اکبری مقام پوسٹ چھاجالا تحصیل بھینمال ضلع جالور راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں انجیکشن سے بچے پیدا کرنے کی جو بات ہے اسے سمجھے کہ یہاں انجیکشن سے مراد یہ ہے مرد کی منی سیرنج کے ذریعے بیوی کے رحم میں رکھا جاتا ہے اب اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ شوہر میں تولیدی جرثومے ہوں لیکن وہ کسی بیماری کی وجہ سے عمل تزویج (ملانے کا عمل ) پر قادر نہ ہو ایسی صورت میں شوہر کے تولیدی جرثوموں اور بیوی کے انڈوں کے ٹیوب میں ملاپ کے بعد ولادت کے لئے اس کی بیوی کے رحم میں ان انڈوں کو رکھنا جائز ہے (شرح صحیح مسلم جلد سوم صفحہ 937 ) بشرطیکہ یہ کام کرنے کے لیے خود شوہر ہو دوسرا مرد نہ ہو نہ ہی کوئی عورت یہ کرے کہ اس میں عورت کی ستر غلیظ کو کھولنا اور اور اندام نہانی کو دیکھنا اور چھونا پڑتا اور بلا ضرورت( شرعی ) کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ کسی دوسری عورت کی شرمگاہ کو دیکھے یا چھوئے حدیث میں ہے لعن اللہ الناظر والمنظور الیہ یعنی جو شرم کی جگہ کو دیکھے اس بھی اللہ کی لعنت اور جو دکھائے اس پر بھی اللہ کی لعنت (مشکوتہ کتاب نکاح صفحہ 270 )
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرد کسی مرد کی کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ نہ دیکھے ! اور اجنبی مرد کا مادہ تولید اجنبی عورت کے رحم میں پرورش کے لیے رکھنا بھی جائز نہیں (فتاوٰی تربیت یافتہ جلد دوم صفحہ 486 ) کا رحم اس کے شوہر کے لیے محل زرع ہے نہ کہ غیر کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے یہ حلال نہیں کہ اس کا پانی دوسرے کی کاشت کو سیراب کرے (سنن ابی داؤد شرح صحیح مسلم جلد سوم صفحہ 939 ) معلوم ہوا کہ اجنبی مرد کی منی کو اپنی بیوی کے رحم میں رکھوانا شرعاً کسی بھی اعتبار سے جائز نہیں ہے کہ حرام و گناہ ہے اور جانوروں کے ساتھ یہ عمل کرنا بھی درست نہیں کہ ان کی حق تَلفی ہوتی ہے مگر اس کا دودھ پاک و حلال ہے حرام و ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں جیسا کہ اوپر مذکورہ ابی داؤد کی حدیث سے ظاہر ہے واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں