بلی کے جوٹھے کی تحقیق

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی ناپاک اور نجسذ نہیں اماں عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتیں ہیں کہ میں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے دیکھا۔۔ عرض یہ کے یہ روایت صحیح ہے یا نہیں اگر کسی کتب اگر موجود ہے تو اس کی تحقیق مطلوب ہیں براہ کرم عنایت فرمائیں شکریہ جزاک اللہ خیرا کثیرا نوید احمد رضا حیدر آباد
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
اس طرح کی حدیث سنن ابی داؤد اور مشکوتہ میں حدیث نمبر  453  موجود ہے حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ،‏‏‏‏ قَالَتْ كَبْشَةُ:‏‏‏‏ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏  إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ ابْنُ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ.

ترجمہ:
کبشہ بنت کعب  (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں)  کہتی ہیں کہ  ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے  (ایک برتن)  وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ  (آسانی سے)  پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا ہے:  یہ  (بلی)  نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے   ١ ؎۔   
 امام ترمذی کہتے ہیں:  ١- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث مروی ہیں،  ٢- یہ حدیث حسن صحیح ہے،  ٣- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔   
 تخریج دارالدعوہ:  سنن ابی داود/ الطہارة ٣٨ (٧٥)، سنن النسائی/الطہارة ٥٤ (٦٨)، والمیاہ ٩ (٣٤١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٢ (٣٦٧)،  ( تحفة الأشراف: ١٢١٤١)، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٨ (٧٦٣) (صحیح)   
 وضاحت:  ١ ؎: اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے، بشرطیکہ اس کے منہ پر نجاست نہ لگی ہو، اس حدیث میں بلی کو گھر کے خادم سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خادموں کی طرح اس کا بھی گھروں میں آنا جانا بہت رہتا ہے، اگر اسے نجس و ناپاک قرار دے دیا جاتا تو گھر والوں کو بڑی دشواری پیش آتی۔   
  صحيح، ابن ماجة (367)  بلی کے جوٹھے میں امام ابو یوسف اور طرفین کا اختلاف و دلائل 👇
بلی کا جھوٹا پاک ہے لیکن مکروہ ہے جبکہ امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ کے نزدیک غیر مکروہ ہے امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ کی دلیل یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں سے وضو کیا جس کو پہلے بلی پہنچ چکی تھی  (یعنی اس نے جوٹھا کر دیا تھا ) اور جب یہ حدیث موجود ہے تو کیسے پانی پر حکم کراہت ثابت کیا جائے جبکہ طرفین کا موقف یہ ہے بلی کا جھوٹا مکروہ ہے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بلی نجس نہیں ہے یہ تو طوافین اور طوافت میں سے ہے  (سنن ابن ماجہ ) علت طواف کی وجہ سے حکم حرمت ساقط ہو گیا اور حکم کراہت باقی رہ گیا اور اسی طرح علت سبع کی وجہ سے حکم حلت ساقط ہو گیا اور حکم کراہت باقی رہ گیا لہٰذا بلی کا جھوٹا مکروہ ہے بلی کے ناپاک ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے الھرتہ سبع  (بلی درندہ ہے ) ایک دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ بلی کا جوٹھا پاک ہو جبکہ دوسری دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ بلی کا گوشت ناپاک ہے لہٰذا اس کا جوٹھا بھی ناپاک ہونا چاہیے پس فقہاء نے اس کے لئے کراہت کا حکم ثابت کر دیا  اور اگر بلی نے چوہا کھا کر پھر اسی وقت پانی پی لیا تو پانی نجس ہو جائے گا مگر جبکہ تھوڑی دیر ٹھہر گئی تو نہیں کیونکہ بلی اپنا منہ اپنے لعاب سے دھو لیا ہے  (لہٰذا  استثناء    شیخین کے مذہب پر ہے اور علت ضرورت کی وجہ سے بہانے کا اعتبار ساقط ہو جائے گا  (الفیوضات الرضویہ فی تشریحات الھدایہ جلد اول باب طہارت صفحہ 281 )
مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 
گھر میں   رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے۔ 

        اگر کسی کا ہاتھ بلّی نے چاٹنا شروع کیا تو چاہیے کہ فوراً کھینچ لے یوہیں   چھوڑ دینا کہ چاٹتی رہے مکروہ ہے اور چاہیے کہ ہاتھ دھو ڈالے بے دھوئے اگر نماز پڑھ لی تو ہو گئی مگر خلافِ اَولیٰ ہوئی۔ 

        بلّی نے چوہا کھایا اور فوراً برتن میں   مونھ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا اور اگر زبان سے مونھ چاٹ لیا کہ خون کا اثر جاتا رہا تو ناپاک نہیں ۔
(بہارشریعت حصہ دوم صفحہ 345 ) 
واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598