مطلقہ کا عدت کے بعد بھی نفقہ وصول کرنا ناجائز و حرام ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ کے بارے میں زید نے ہندہ کو طلاق دے دی اور عدت کا خرچ بھی ہندہ کو دے دیا ہندہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور وہاں جا کر زید پر مقدمہ کر دیا اب ہندہ زید سے بعد ختم عدت کے بھی خرچ وصول کرتی ہے لہٰذا ہندہ اور اس کے والدین جو کہ زید سے بے جا خرچ وصول کر رہے ہیں ان پر حکم شرع بیان فرمائے اور ہندہ کے والدین کے گھر کسی مسلمان کو دعوت کھانا کیسا؟
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں زید پر ہندہ کا خرچ صرف عدت تک لازم تھا اور ہندہ کو زید سے خرچ وصول کر کے والدین کے گھر جانا بھی جائز نہیں تھا اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے سورت نمبر 65 آیت 1
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحۡصُوا الۡعِدَّةَ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ ۚ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۡۢ بُيُوۡتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ؕ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ؕ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ ؕ لَا تَدۡرِىۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰ لِكَ اَمۡرًا ۞
ترجمہ:
اے نبی مکرم ! ( مومنوں سے کہیے) جب تم ( اپنی) عورتوں کو طلاق دو ، تو ان کی عدت کے وقت ( طہر بلا مباشرت) میں ان کو طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، تم ان کو ( دوران عدت) ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوا اس کے کہ وہ کھلی بےحیائی کریں، اور یہ اللہ کی حدود ہیں، اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنای جان پر ظلم کیا، تم کو معلوم نہیں شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا کر دے
و اتقوا الله ربكم: اور اللہ سے ڈروجو تمہارا رب ہے۔} یعنی عورتوں کی عدت دراز کرنے اور اللہ تعالی کے احکام کی خلاف وزری کرنے کے معاملے میں اس اللہ تعالی سے ڈروجو تمہارا حقیقی رب ہے۔
{لا تخرجوهن من بیوتهن: تم عورتوں کوان کے گھروں سے نہ نکالو۔} یعنی اے لوگو!عدت کے دنوں میں عورتوں کوان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ اس دوران وہ خود اپنی رہائش گاہ سے نکلیں ،البتہ اگر وہ کسی صریح بے حیائی کا ارتکاب کریں اوران سے کوئی اعلانیہ فسق صادر ہو جس پر حد آتی ہے جیسے زنا اور چوری وغیرہ کریں تو اس صورت میں تم انہیں گھر سے نکال سکتے ہو ۔( مدارک ، الطلاق ، تحت الایۃ : ۱ ، ص۱۲۵۱ ، روح البیان، الطلاق، تحت الایۃ: ۱، ۱۰/۲۸، خزائن العرفان، الطلاق، تحت الایۃ: ۱، ص۱۰۳۲)
اس آیت کریمہ اور اس کی تفسیر سے معلوم ہوا ہندہ کا عدت کے بعد بھی نفقہ وصول کرنا ناجائز و حرام ہے ہندہ زید کے نکاح میں ہوتی تب بھی وہ نافرمانی کے باعث نفقہ کی مستحق نہیں تھی فتاوی بحر العلوم جلد سوم صفحہ 417 نافرمان عورت سے مجبور ہو کر زید اسے چاہتا ہے مگر اس مدت میں کچھ خرچ نہیں دیا
اور مجبور ہو کر طلاق دے دیا اس سوال کے جواب میں حضرت علامہ مفتی عبد المنان رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں عورت چونکہ زید کی نافرمان اور ناشرہ تھی اس لیے زید پر اس کا کسی قسم کا خرچہ اور زمہ داری نہیں واللہ اعلم و رسولہ ہندہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے کہ وہ زید سے ظلماً خرچ وصول کرتی ہے جو کہ حرام ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ۔وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(188)
ترجمۂ کنز العرفان
اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔
تفسیر صراط الجنان
{وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔} اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر ،چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔(احکام القرآن، باب ما یحلہ حکم الحاکم وما لا یحلہ،۱ / ۳۰۴)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز فائدہ کے لیے کسی پر مقدمہ بنانا اور اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے۔ اسی طرح اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لیے حکام پر اثر ڈالنا، رشوتیں دینا حرام ہے ۔حکام تک رسائی رکھنے والے لوگ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں۔حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص ملعون ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ دھوکہ کرے۔(تاریخ بغداد، باب محمد، محمد بن احمد بن محمد بن جابر۔۔۔ الخ،۱ / ۳۶۰، رقم: ۲۶۲) ہندہ کو حکم شرع یہ ہے کہ وہ آج تک ختم عدت سے زید سے جو کچھ مال لیا ہے اسے واپس دے اور اعلانیہ توبہ کرے سرکار اعلی حضرت قدس سرہ رقمطراز ہیں مال حرام اس شخص کو واپس کرنے کا پابند جس کا وہ ہے اور اگر وہ یا کوئی اس کا وارث باقی نہیں تو صدقہ کرنا لازم (فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 121 ) اگر ہندہ اور اس کے والدین زید کا اب تک لیا ہوا مال بعد عدت کے واپس نہ کرے تو ان کا بائیکاٹ کیا جائے کہ یہ لوگ ناجائز مال لینے والے ظالم ہے لہٰذا ان کا بائیکاٹ لازم اللہ تَعَالٰی فرماتا
۔وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ۞ (سورت نمبر 11 آیت 113 )
ترجمہ:
اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنہوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔ پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی! اللہ تَعَالٰی فرماتا
۔وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(المآئدۃ)
اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے دو باتوں کا حکم دیا ہے
پہلی یہ کہ نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو دوسری یہ کہ گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرو !
ہندہ نے اور اس کے والدین نے زید تکلیف میں مبتلا کیا جو کہ سخت ترین ظلم ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے
اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَـنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِؕ ۞(سورت نمبر 85 آیت 10 ) رہا سوال اس کے گھر دعوت کھانا تو اگر وہ اسی مال سے کھلاتے ہیں جو زید سے ظلماً وصول کیا گیا تھا تو حرام ہے سرکار اعلی حضرت قدس سرہ رقمطراز ہیں جس کا اکثر مال حرام ہو اس کے وہاں کھانا حرام ہے (فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ 528 ) مگر ان لوگوں کے وہاں دعوت اگرچہ مال حلال سے کرتے ہو پھر بھی قبول نہ کرے کیونکہ یہ لوگ زید پر ناحق ظلم کرتے ہیں
ترجمہ:
بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ( ترک کی) مصیبت میں ڈالا، پھر انہوں نے توبہ نہیں کی ان کے لیے دوزخ کا ( عام) عذاب اور ( خصوصاً ) جلنے کا عذاب ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے
وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ (سورت نمبر 6 آیت 68 ) ترجمہ اور اگر شیطان تمہیںبھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھوں! حضرت حس
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص کسی ظالم کے باقی رہنے کی دعا کرتا ہے وہ اس بات کو پسند کرتا ہےکہ اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی کی جائے (مختلف مسائل جلد اول صفحہ 88 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا اور جس نے کسی مسلمان کو خوشنودی حاکم کی وجہ سے خوف زدہ کیا اسے بروز قیامت اسی کے ساتھ حاضر کیا جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز کسی مسلمان کو نہ ڈرائے گا نہ خوف زدہ کرے گا (طبرانی معجم الکبیر ) امام منادی نے فرمایا کہ مسلمان کو ڈرانا خوف زدہ کرنا سخت گناہ و حرام ہے آخرت میں اس کی پکڑ ہوگی (فتاوی مصطفٰییہ جلد چہارم صفحہ 144 ) ہندہ اور اس کے والدین اللہ تَعَالٰی سے ڈرے اور زید کا ناحق مال لینا بند کر دے ورنہ سخت عذاب کے مستحق ہوں گے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے
اِنَّمَا السَّبِيۡلُ عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ يَبۡغُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ !سورة الشری ۞
ترجمہ:
مواخذہ کرنے کا جواز ان لوگوں کے خلاف ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور روئے زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے! اور فرماتا ہے
تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا وَهُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمۡؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِىۡ رَوۡضَاتِ الۡجَـنّٰتِۚ لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ۞
ترجمہ:
آپ دیکھیں گے کہ ظالم اپنے کرتوتوں سے خوف زدہ ہوں گے اور ان کے کرتوتوں کا وبال ان پر نازل ہوگا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے، یہی بہت بڑا فضل ہے ! نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بےشک اللہ تَعَالٰی ظالم کو مہلت دیتا ہے حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو نہیں چھوڑتا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی
وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ سورة ھود ۞
ترجمہ:
اور آپ کے رب کی گرفت اسی طرح ہوتی ہے، جب وہ بستیوں پر اس حال میں گرفت کرتا ہے کہ وہ ظلم کر رہی ہوتی ہیں، بیشک اس کی گرفت درد ناک شدید ہے۔ ! نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس شخص کے ذمہ اس کے بھائی کا حق ہو عزت کے حوالے سے ہو یا کوئی چیز ہو تو اسے چاہے کہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو جائے (یعنی ادا کر دے یا معاف کروالے ) اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ کوئی درہم ہو اور نہ دینار اگر اس کا اچھا عمل ہوگا تو وہ اس کے حق کے برابر لے لیا جائے گا اور اس کے پاس نیکی نہ ہوگی تو دوسرے آدمی کے گناہوں میں سے لے کر اس پر ڈال دیا جائے گا (صحیح البخاری جلد اول صفحہ 33 ) خلاصہ کلام ہندہ فوراً زید سے لیا گیا ناحق مال اسے واپس کرے اور اعلانیہ توبہ بھی کرے اگر ہندہ زید کا مال ناحق واپس نہ کرے تو تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کا بائیکاٹ کیا جائے واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
مفتی ادارہ دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
ہماری ویب سائٹ پر مسائل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں دارالافتاء آنلائن ویبسائٹ 👉
سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں دارالافتاء آنلائن 👉
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں