بچے کو بیٹا کہہ سکتے ہیں

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ  کسی دوسرے کے لڑکے کو بیٹا کہہ کر بولائےںیا بھتیجا کہہ کر بولاۓ ۔۔ تو کیا اسلام میں اس کی کوئی ممانعت ہے یا نہیں رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المسفتی عبداللہ*  
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
دوسرے کے بچے کو بیٹا بھی کہہ سکتے ہیں کہ عرف میں پیار و محبت سے کسی لڑکے کو بیٹا کہہ کر بلاتے ہے اور لغوی اعتبار سے بھی گنجائش ہے  اردو لغت بیٹا کی معنی قانون) آدمی کی بیاہتا بیوی کا لڑکا۔
  بڑی عمر کے اشخاص بچوں کو بلاامتیاز تذکیر و تانیت کہتے ہیں۔
  پیار سے پالتو جانور کو بھی کہتے ہیں۔
  جگر گوشہ۔
  فرزند نرینہ۔
  فقیر اپنے چیلوں کو اس نام سے پکارتے ہیں۔
  لخت جگر۔
  مجازاً پیارا۔
  نور چشم۔
  کوئی لڑکا جسے متبنٰے بنالیا جائے۔ 
واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598