پانی کی تعظیم کرنا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسءلے کے بارے میں کہ
گنگا کے پانی کی تعظیم اور تعظیمااسکاپیناکیساہے اور آبزمزم کی بیحرمتی کرنا کےساہے
محمد امتیاز وانکانیر میسر یا
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
پانی کو اللہ کی نعمت سمجھ کر پینا کسی بھی ندی کا ہو جائز ہے تعظیم اس لیے کرتا ہے کہ یہ گنگا ندی کا پانی اور گنگا کافروں کی دیوی ہے اس لیے اس کی تعظیم کرتا ہے تو یہ حرام بلکہ کفر ہے صرف پانی کو اللہ کی نعمت سمجھ کر اس کی تعظیم کرنا اس میں کوئی بھی ندی کا پانی ہو اس میں کوئی حرج نہیں اسی کرہِ ارض (زمین)پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend)ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
*اللہ نے بارش آسمان سے اتارا*: اعلانِ خداوندی ہے:وانزلنا من الماء ماءً بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھابٍ بہ لقدرون۔ترجمہ: اور ہم نے اتاراآسمان سے پانی اندازہ کے مطابق پھر اسے زمین میں ٹھہرایااور بے شک ہم اس کے لے جانے پر پوری طرح سے قادر ہیں۔(سورۃ مومنون، آیت ۱۸،کنز الایمان)یہاں ربِ کریم اپنی انمول نعمت پانی کا ذکر فرمارہا ہے کہ ہم ضروریات کے مطابق پانی برساتے ہیں ۔پانی کا اصل ذخیرہ(Stock) آسمان میں ہے۔ رب فرماتا ہے ۔ وفی السمآء رزقکم وماتو عدون۔ترجمہ:آسمان میں تمہارا رزق ہے جو تمہیں وعدہ دیا جاتاہے۔(سورۃ الذاریات، آیت۲۲) سمندر تو پانی کا خزانہ ہے جیسے خزانہ میں روپیہ رہتاہے ،بنتانہیں۔بنتا ٹکسال میں ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ ہر ملک میں ہر علاقہ میں اس کی ضرورت کے مطابق بارش بھیجتا ہے جتنی وہاں کی ضرورت کے لئے کافی ہو۔ جیسے بنگال میں پنجاب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ایسے ہی ہرزمانے میں ہر جگہ ضرورت کے مطابق بارش آتی ہے اور ضرورت کو رب ہی جانتاہے۔ اپنے مخفی ذخیروں ندی ،سمندر اورزمین میں جمع کر دیتاہے اور تم اس سے فائدہ لیتے ہو۔ کنواں کھود کر، ٹیوب ویل لگا کر ،دریاؤں ،پہاڑوں پر چشمے ہیں جن سے تم پانی لیتے ہو۔ اگر ہم پانی زمین میں جمع نہ کریں تو تم کنواں کھود کر Tube Wellلگا کر نہریں کھود کر زمین کے پیٹ سے پانی نہیں نکال سکتے۔ ہاں یہ نہ سوچو کہ ہم نے جو پیداکر دیا ہے اب اس پر میرا قبضہ نہیں رہ گیا ۔ ہم چاہیں تو پانی کو ناپید کردیں کہ تم بوند بوند پانی کو ترس جاؤ تمہاری ساری اسکیمیں دھری کی دھری رہ جائیں۔(تفسیر نورا لعرفان، تفسیر ضیاء القرآن،جلد ۳،صفحہ ۲۴۹) اور زمزم کے پانی کی بے حرمتی سخت حرام ہے بلکہ قریب کفر واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں