سیاہ خضاب جائز ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک مفتی ہے جس سے سوال کیا کہ سیاہ خضاب لگانا کیسا ہے تو اس نے کہا جائز ہے جبکہ بکر بھی مفتی ہے اور اس نے کہا کہ حرام ہے زید کا یہ فتوی آپ کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں جس پر آپ حکم شرع بیان فرمائے زید کا فتوی 👇
خضاب یا دیگر اشیاء جن سے بالوں کو کلر کیا جاتا ہے شرعا استعمال کر سکتے ہیں، اگر طبی طور پر ان کا کوئی برا اثر نہ پڑے۔ خواہ عام دن ہوں یا شادی کے مخصوص دن کوئی پابندی نہیں ہے۔
احادیث مبارکہ میں ہے :
عن أبی هريرة رضی الله عنه قال النبی صلی الله عليه وآله وسلم ان اليهود والنصاری لا يصبغون فخالفوهم.
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک یہود اور نصاری خضاب نہیں کرتے لہذا تم ان
کی مخالفت کیا کرو
۔: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بڑھاپے (بالوں کی سفیدی) کو بدلو اور یہودیوں سے مشابہت نہ رکھو۔
احمد بن حنبل، 2 : 261، رقم : 7536، مؤسسۃ قرطبۃ
: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس بڑھاپے کو تبدیل کرنے کے لیے مہندی اور وسمہ (خضاب) کیا ہی بہترین چیز ہیں۔
احمد بن حنبل، المسند، 5 :
: حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سیاہ خضاب لگاتے تھے۔
حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3 : 567،
: احادیث مبارکہ میں سفید بال ختم کرنے اور سیاہ خضاب سے منع کیا گیا ہے لیکن بالوں کو رنگنے سے منع نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف آثار صحابہ سے صحابہ کرام کا سیاہ خضاب لگانا بھی ثابت ہے۔ ان تمام احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ کی تطبیق یوں کی جائے گی جو عقل وشعور بھی تسلیم کرتا ہے کہ سفید بالوں کو تبدیل کرنے کی اجازت ہے جو مذکورہ بالا احادیث میں واضح ہے لیکن عمر کے اعتبار سے بالوں کو رنگ لگایا جائے تو پھر ٹھیک ہے۔ مثلا ایک اسی نوے سال کا بزرگ جس کے ہاتھ پاؤں حرکت کرنے سے عاری ہوں وہ سیاہ خضاب لگائے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہو گا یا پندرہ سے تیس سال والے مرد سرخ مہندی لگائے پھرتے ہوں تو ان کے لیے بھی یہ مناسب نہیں ہے۔ لہذا جس کے سفید بال خوبصورت لگ رہے ہوں اس کی تو ضرورت نہیں ہے کہ ان کو تبدیل کر لے۔ لیکن جس کے سفید بال مناسب نہ لگیں تو اس کو عمر کے مطابق رنگنے چاہیں، جوان ہے تو سیاہ کر لے اور بوڑھا ہے تو سرخ مہندی وغیرہ لگا لے۔
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق سیاہ خضاب لگانا ناجائز و حرام ہے زید نے حدیث ابوہریرہ نقل کی ہے تو اس حدیث میں یہود و نصاری خضاب نہیں کرتے لہذا تم ان کی مخالفت کیا کرو اس سے یہ کہا ثابت ہوتا ہے کہ مخالفت کرنے کے لیے سیاہ خضاب جائز ہے بلکہ مخالفت کا مطلب کسی اور کلر سے خضاب کرو قریب قریب زید کی نقل کردہ کسی بھی حدیث سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا ہے کہ سیاہ خضاب جائز ہے خود زید بھی پہلے قبول کرتا ہے کہ آحدیث مبارک میں سفید بال ختم کرنے اور سیاہ خضاب سے منع کیا گیا ہے؟ دوسری طرف آثار صحابہ کا سہارا لے کر آخر میں جوان کے لیے جائز لکھا ہے جو کہ درست نہیں تعجب ہے مفتی صاحب پر جب ممانعت پر صحیح آحدیث موجود ہے تو پھر آثار صحابہ کا سہارا لے کر جائز کہنا یہ ایک حنفی مفتی کی شان کے لائق نہیں ہے ۔۔۔دارالافتاء اہلسنت میں سوال پوچھا گیا کہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اسلامی بہنیں اپنےسفید بالوں کورنگ سکتی ہیں؟
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
جواب میں فرماتے ہیں
سفیدبالوں کورنگنے کاحکم مردوعورت دونوں کےلئے یکساں ہےیعنی دونوں کے لئےاپنے سفیدبالوں کومہندی سے رنگنامستحب ہےاور مہندی میں کتم(یعنی ایک گھاس جو زیتون کے پتوں کےمشابہ ہوتی ہے،جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہےاس )کی پتیاں ملاکر گہرےسرخ رنگ کا خضاب تنہامہندی کےخضاب سےبہتر ہے اور زرد رنگ اس سےبھی بہتر ہے ، البتہ سفیدبالوں کوسیاہ کرناخواہ بلیک کلرسے ہویاکالی مہندی سے ہو،مردوعورت دونوں کےلئےمطلقاً ناجائز وحرام ہے ، البتہ مجاہد کو حالت جہاد میں بالوں میں کالا خضاب کرنا ، جائز ہے۔
الجوھرۃالنیرۃمیں ابوبکربن علی حدادی فرماتے ہیں:”وأما خضب الشیب بالحناء،فلابأس بہ للرجال والنساء“یعنی مردوں اورعورتوں کے لئےسفیدبالوں کومہندی سے رنگنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(الجوھرۃالنیرۃ،کتاب الحظروالاباحۃ،ج02،ص617،مطبوعہ کراچی)
بخاری شریف میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:”إن الیهودوالنصاری لا یصبغون فخالفوهم “یعنی بے شک یہود ونصاریٰ خضاب نہیں کرتے تم ان کی مخالفت کرو۔
(صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب الخضاب،جلد7،صفحہ161،دار طوق النجاۃ،مصر)
اس کی شرح کرتے ہوئےعلامہ بدرالدین عینی عمدۃالقاری میں فرماتے ہیں:”(لا يصبغون)أي:شيب الشعر، وهو مندوب إليه لأنه صلى الله عليه وسلم أمر بمخالفتهم“یعنی یہود ونصاریٰ بڑھاپے کے بالوں (سفیدبالوں)کو خضاب نہیں لگاتے ۔سفید بالوں کو خضاب کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوپسندتھا ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا ہے ۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ،باب ماذکر عن بنی اسرائیل ،ج16،ص46،دار احیاءالتراث العربی)
اسی حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃالحنان فرماتے ہیں:”لہذا اپنے سر کے بال اور ڈاڑھیاں جب سفید ہوجائیں تو مہندی سے خضاب لگالیا کرو،یہ حکم استحبابی ہے مہندی سے خضاب کرتے رہنا بہتر ہے۔“
(مراۃ المناجیح ،باب الترجل ،ج6،ص129،قادری پبلشرز)
امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں:”تنہامہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایک گھاس مشابہ برگ زیتون ہےجس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتر اور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقاً حرام ہے۔ مگر مجاہدین کو ۔سنن ابی داؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے:مر علی النبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما احسن ھذا قال فمراٰخرقد خضب بالحناء و الکتم فقال ھذا احسن من ھذا ثم مراٰخر قد خضب بالصفر فقال ھذا احسن من ھذا کلہ (یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے ایک صاحب مہندی کا خضاب کیے گزرے۔فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا ۔ فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے، پھر تیسرے زرد خضاب کیے گزرے ۔ فرمایا: یہ ان سب سے بہتر ہے)“
(فتاوی رضویہ،ج23،ص686،رضافاؤنڈیشن،لاھور)
کالاخضاب لگانے والوں کے متعلق بہت سخت وعیدحدیث شریف میں آئی ہے ۔ چنانچہ سنن ِابی داؤداور مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:”واللفظ للاول:عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون قوم فی اٰخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحواصل الحمام لا یجدون رائحۃ الجنۃ“یعنی حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آخری زمانے میں کچھ لوگ سیاہ خضاب لگائیں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گے۔
(سنن أبی داؤد،باب ما جاء فی خضاب السواد ،ج2،ص226،مطبوعہ لاهور)
اس حدیث کے تحت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃالرحمٰن مرأۃالمناجیح میں فرماتے ہیں:”سیاہ خضاب مطلقًا مکروہ تحریمی ہے۔مردوعورت، سر داڑھی سب اسی ممانعت میں داخل ہیں۔“
(مرأۃالمناجیح،ج06،ص140،قادری پبلشرز)
فتاوی رضویہ میں مردوعورت کے سیاہ خضاب کرنے کومثلہ لکھا ہے ، جوکہ حرام ہے ۔ چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں:”طبرانی معجم کبیر میں بسند حسن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:من مثل بالشعر فلیس لہ عندﷲ خلاق(جوبالوں کے ساتھ مثلہ کرے اللہ عزوجل کے یہاں اس کا کچھ حصہ نہیں) والعیاذ باللہ رب العالمین یہ حدیث خاص مسئلہ مثلہ مُو میں ہے بالوں کا مثلہ یہی جو کلمات ائمہ سے مذکور ہوا کہ عورت سر کے بال منڈالے یا مرد داڑھی یا مرد خواہ عورت بھنویں (منڈائے)کما یفعلہ کفرۃ الھند فی الحداد (جیسے ہندوستان کے کفار لوگ سوگ مناتے ہوئے ایسا کرتے ہیں)یا سیاہ خضاب کرےکما فی المناوی والعزیزی والحفنی شروح الجامع الصغیر، یہ سب صورتیں مثلہ مومیں داخل ہیں اور سب حرام۔“
(فتاوی رضویہ،ج22،ص664،رضافاؤنڈیشن،لاھور)
سیاہ خضاب لگانا حرام ہے! حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے (سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4212 سنن ابن ماجہ
جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ
(سنن ابن ماجہ 3624 ) فتاوی علمیہ صفحہ 189 میں ہے سیاہ خضاب لگانا ناجائز و حرام ہے اس کو لگانے والا فاسق معلن مرتکب گناہ کبیرہ ہے مسلم شریف کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفیدی کو بدل دو اور سیاہی کے قریب نہ جاؤں ایک دوسری حدیث میں ہے جو سیاہ خضاب کرے اللہ تَعَالٰی روز محشر اس کا منہ کالا کرے گا اس کے علاوہ بہت سی حدیثوں میں سیاہ خضاب لگانے پر وعید آئی ہے سیدی اعلی حضرت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں مذہب صحیح میں سیاہ خضاب حالت جہاد کے سوا مطلقاً حرام ہے جس کی حرمت پر آحدیث صحیح معتبرہ ناطق (فتاوی رضویہ ) ایک جگہ فرماتے ہیں یہ حرام ہے جواز کا فتوی باطل و مردود ہے
حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کالی مہندی جس کے لگانے سے سفید بال سیاہ نظر آئیں اس کا لگانا حرام و گناہ ہے اور جو شخص لگاتا ہے وہ فاسق معلن ہے (فتاوی علمیہ بحوالہ ماہنامہ اشرفیہ ستمبر 2002 حضرت بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زرد رنگ مومن کا خضاب ہے اور سرخ رنگ مسلم کا خضاب ہے اور سیاہ رنگ کافر کا خضاب ہے (مسلم شریف جلد 6 صفحہ 414 ) مجاہد سیاہ خضاب کو میکرو قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ سب سے پہلے فرعون نے سیاہ خضاب لگایا تھا (شرح صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 415 ) علامہ غلام رسول سعیدی رحمت اللہ علیہ علامہ عینی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جمہور کا موقف یہ ہے کہ سیاہ رنگ کے سوا پیلے رنگ سے بالوں کو رنگا جائے کیونکہ سیاہ رنگ پر آحدیث میں وعید ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سیاہ خضاب لگایا اللہ تَعَالٰی اس کی طرف نظر (رحمت ) نہیں فرمائے گا اور فرمایا کہ جس شخص نے سیاہ خضاب لگایا اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اس کہ چہرہ سیاہ کر دے گا خلاصہ سیاہ خضاب مکروہ تحریمی ہے چونکہ آحدیث میں سیاہ خضاب پر وعید آئی ہے اس لیے صحیح یہ ہی ہے کہ غیر حالت جنگ میں سیاہ خضاب لگانا مکروہ تحریمی ہے علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃاللہ علیہ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ بعض صحابہ اور تابعین سے سیاہ خضاب لگانا منقول ہے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس اس کی کوئی توجیہ اور تاویل ہو بہرحال ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مقدم ہیں امام اعظم کا یہ ہی مذہب ہے جب آحدیث رسول اور آثار صحابہ میں تعارض ہو تو آحدیث کو آثار پر ترجیح دی جائے گی (شرح صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 423 ) خلاصہ کلام آخری یہ ہے
سر یا ڈاڑھی کے کم یا زیادہ سفید بالوں میں کالی مہندی کرنا، جس سے دیکھنے میں بال کالے معلوم ہوں اور لوگوں کو دھوکہ ہو، مکروہ تحریمی وناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’حمد و ثنا کے بعد(یاد رکھو)بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور بدترین کام دین میں نئی بات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت(نئی ایجاد شدہ چیز)گمراہی ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔اور قرآن و سنت کے مطابق فتوی ہونا چاہیے نہ اپنی طرف سے حکم بیان کر دے جیسا کہ مفتی صاحب کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نوجوانوں کو سیاہ خضاب کی رخصتی دی ہے جو کہ سنت کے خلاف ہے حدیث رسول کے ہوتے ہوئے کسی قول یا آثار پر فتوی دینا درست نہیں جیسا حدیث میں ہے
معاذ بن جبل ؓ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ کو (قاضی بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ ، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: اگر (اس کا حکم) اللہ کی کتاب (قرآن) میں موجود نہ ہو تو؟ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی (اس کا حکم) موجود نہ ہو تو؟ ، معاذ نے کہا: (تب) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو (صواب کی) توفیق بخشی ۔
جامع ترمزی ١٣٢٧اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہو گیا کہ پہلے کوئی بھی مسئلہ کا حکم قرآن مجید سے تلاش کر نہ ملے تو سنت رسول میں تلاش کرے پھر بھی نہ ملے تو اجتہاد کی بات آخر میں ہے جبکہ یہاں تو مسئلہ صحیح آحدیث سے صاف ظاہر ہے لہٰذا جواز کا فتوی باطل و مردود ہے اگرچہ کسی بھی مفتی نے دیا ہو ہمارے لیے پہلے قرآن و سنت رسول ہے پھر دوسرے بعد میں واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں