مسجد کے استنجا خانہ میں غیر نمازیوں کا استعمال کرنا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ کیا مسجد میں (غیر نمازی)صرف پیشاب پاخانہ کے لیے جا سکتا ہے؟جیسے آج کل اکثر لوگ استعمال کرتے ہیں

عارف خان عطاری

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق جو لوگ مسجد میں نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر وعبادت کے لیے آئیں صرف ان کے لیے مسجد کے بیت الخلا اور غسل خانوں کا استعمال جائز ہے، باقی جو لوگ صرف استنجا یا نہانے کے مقصد سے آتے ہیں ان کے لیے مسجد کے بیت الخلا اور غسل خانوں کا استعمال شرعاً جائز نہیں۔ جیساکہ فتاوی جاویدیہ دوم صفحہ 190 میں ہے کہ وقف میں مالکانہ تصرف حرام ہے ۔۔۔۔

اور مسجد کے استنجا خانہ نمازیوں پر وقف ہوتا ہے جس کا استعمال صرف نمازیوں کے لیے ہی ہونا چاہیے افسوس کہ مسلمانوں کو مسجد میں نماز پڑھنے جانا نہیں اور استنجا خانہ کا استعمال کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے 

واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تاریخ 5 دسمبر 2021 




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598