پتنگ کا کاروبار کرنا اور پتنگ اوڑھنا

سوال پتنگ کا کاروبار کرنا کیسا اور پتنگ اوڑھنا کیسا جواب عنایت فرمائیں سائل واحد خان رادھنپور گجرات 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

پتنگ بیچنے کا کاروبار کرنا شرعاً ممنوع ہے کہ پتنگ اڑانا منع ہے اور  لڑانا  گناہ ۔اس میں وقت و مال دونوں کا ضیاع ہوتا ہے اور چونکہ گناہ اور لہو و لعب  کے آلات بیچنے کی اجازت نہیں ہوتی ، اس لیے اس کا کاروبار  بھی منع ہے ۔(دارالافتاء اہلسنت دعوت اسلامی )

    اس بارے میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں: ” کنکیّا(پتنگ)اڑانے میں وقت،مال کاضائع کرناہوتاہے،یہ بھی گناہ ہےاورگناہ کے آلات کنکیّا ، ڈوربیچنابھی منع ہے ۔‘‘

(فتاوی رضویہ،ج24،ص659، رضافاؤنڈیشن لاھور)

    مزیدفرماتے ہیں: ” کنکیا اڑانامنع ہے اور لڑانا گناہ ۔ ‘‘

(فتاوی رضویہ،ج24،ص660، رضافاؤنڈیشن لاھور)

واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598