کیا پہلے کی امتوں سے سوال قبر ہوتا تھا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ جیسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر قبر میں سوال جواب ہے اسی طرح کیا پہلے نبیوں کی امت پر قبر میں فرشتے سوال کرتے تھے اگر کرتے تھے تو تیسرا سوال کس طرح پوچھتے تھے جواب سے نوازیں کرم ہوگا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
سوالات قبر اس امت کے ساتھ خاص ہے کیونکہ پہلی امتیں جب رسول کی تکذیب کرتی تھی تو ان پر فورا عذاب عالمگیری آجاتا تھا اور جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے صدقے اس امت سے عذاب عالمگیری روک لیا گیا اور ان کو تلوار دی گئی تاکہ اس کی ہیبت سے لوگ اس دین کو قبول کریں اور پھر ایمان ان کے دل میں راسخ ہو جاتا تھا اس وقت سے نفاق شروع ہوا کہ لوگ ایمان ظاہر کرتے اور کفر چھپاتے اور مسلمانوں کے لیے ان سے حجاب تھا (یعنی یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ مسلمان ہے یا منافق ) جب وہ مر گئے تو اللہ تعالٰی نے ان پر دو آزمائش کرنے والے مقرر کر دئیے تاکہ خبیث طیب سے جدا ہو جائے  (فتاوی جاویدیہ 2 صفحہ 84 بحوالہ شرح  الصدور صفحہ 131 )
واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 4 دسمبر 2021

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598