چوری کا مال خریدنا حرام ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چوری کا مال خریدنا کیسا اور اگر انجانے میں خریدا تو کیا حکم ہے سائل عبداللہ حیدر 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

چوری کا مال خریدنا حرام ہے سیدی اعلی حضرت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 

چوری کا مال دانستہ خریدناحرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے مثلا کوئی جاہل شخص کو اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملک بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں اور اگر نہ معلوم ہے نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہے، پھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کااستعمال حرام ہے بلکہ ملاک کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو ، اور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کو،دے دیں (فتاوی رضویہ جلد 17 صفحہ 165  ) واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598