مرد اور عورت کے جنازے کو کاندھا دینے کا حکم
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ مرد اور عورت کے جنازے کو کاندھا دینے کا ایک طریقہ ہے یا الگ الگ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل طریقہ بتاٸیں
محمد سخی نقشبندی باڑمیر راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
جنازہ کو کاندھا دینے میں مرد و عورت کا ایک ہی طریقہ ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
جنازہ کو کندھا دینا عبادت ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ عبادت میں کوتاہی نہ کرے اور حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲: سنّت یہ ہے کہ چار شخص جنازہ اٹھائیں ، ایک ایک پایہ ایک شخص لے اور اگر صرف دوشخصوں نے جنازہ اٹھایا، ایک سرہانے اور ایک پائنتی تو بلا ضرورت مکروہ ہے اور ضرورت سے ہو مثلاً جگہ تنگ ہے تو حرج نہیں ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: سنت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے اور پوری سنت یہ کہ پہلے دہنے سرہانے کندھا دے پھر دہنی پائنتی پھر بائیں سرہانے پھر بائیں پائنتی اور دس دس قدم چلے تو کُل چالیس قدم ہوئے کہ
حدیث میں ہے، ’’جو چالیس قدم جنازہ لے چلے اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹا دیے جائیں گے۔‘‘ نیز حدیث میں ہے، ’’جو جنازہ کے چاروں پایوں کو کندھا دے، اﷲ تعالیٰ اس کی حتمی مغفرت فرما دے گا۔‘‘ (1) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: جنازہ لے چلنے میں چارپائی کو ہاتھ سے پکڑ کر مونڈھے پر رکھے، اسباب کی طرح گردن یا پیٹھ پر لادنا مکروہ ہے، چوپایہ پر جنازہ لادنا بھی مکروہ ہے۔ (2) (عالمگیری، غنیہ، درمختار) ٹھیلے پر لادنے کا بھی یہی حکم ہے۔ (بہار شریعت حصّہ چارہم )
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری تاریخ 4 دسمبر 2021
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں