کفار کے مذہبی تیہوار کی مبار دینا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین کہ کفار کو ان کے مذہبی تہوار کی مبارکباد دینا کیسا ہے؟ سائل حسنین احمداباد گجرات الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں ان مشرکانہ مذہبی تیوہاروں پر ہندوؤں کو مبارک باد دینا اشد حرام ہے بلکہ منجرالی الکفر ہے جو مسلمان ایسا کرتے ہیں ان پر توبہ تجدید ایمان ونکاح لازم ہے اور اس پر پیسہ لینا بھی حرام وگناہ حضرت مفتی محمد شریف الحق رحمت اللہ علیہ فتاوی عالمگیری کے حوالے سے فرماتے ہیں ان باتوں کے بیان میں ہے جو کفر ہیں (ویخروجہ الی نیروز المجوس والموافقة معھم فیھا یفعلون فی ذلک الیوم الی ان قال ویا ھدائہ ذلک الیوم للمشرکین ولو بیضة تعظیما لذلک الیوم ) اور مجوسیوں کے تہوار نوروز میں شریک ہونے اور اس دن کے مشرکانہ افعال میں ان کی موافقت کرنے کی وجہ سے مزید فرمایا اور اس دن کی تعظیم کرتے ہوے مشرکین کو اس دن تحفہ دینے کی وجہ سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے اگر چہ تحفہ میں ایک ہی انڈا دے اور ظاہر ہے کہ مبارک باد دینا ہدیہ دینے سے کم نہیں (📚 فتاوی شارح بخاری جلد دوم کتاب العقائد باب الفاظ الکفر کفار کے تہوار کی مبارکباد دینا حرام ہے اور اگر اس کو اچھا سمجھ کر مبارک باد دے تو کفر ہے سیدی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس نے کافروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھ باتفاق مشائخ کافر ہو گیا فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 277 ۔ ص566 ) واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری Comments

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598