کفریہ گانا پر رشک
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ گجرات میں اکثر جگہ شادی میں کفریہ گانے جس میں کافروں کے جھوٹے معبودوں کی تعریف اور اس کی طرف محبت کا اظہار کرتے اشعار والے گانیں بجا کر اس پر گربہ اور ڈانس کیا جاتا ہے تو تاچنے والوں کے بارے میں کیا حکم شرع ہے ؟اور اگر گانے کے اشعار سے نفرت ہو اور صرف میوزک پر ناچنے والو پر کیا حکم ؟
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں ایسا پروگرام جہاں کفریات بکا جاتا ہو وہاں جانا ہی حرام ہے اور بت کی تعریف کفر ہے اور کفر سے راضی ہونا بھی کفر ہے جیسا حضرت شیخ التفسیر مفتی محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں کہ کفر سے راضی ہونا بھی کفر ہے (تفسیر صراط الجنان ) ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی محمد شریف الحق رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ (جہاں ) کفریہ اشعار پڑھے گئے اور زید نے ان کو پسند کیا یا انھیں سن کر راضی رہا تو مسلمان ہی نہ رہا کافر ہو گیا (فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 498 ) لہٰذا مذکورہ صورت میں شادی میں کفریہ گانے کے ساتھ ناچنے والے اور اس پروگرام کو دیکھنے والے اسلام سے خارج ہو گئے اور جو صرف مزامیر کی آواز پر رشک کرنے کا کہتے ہیں وہ بھی توبہ کرے اور بیوی والے ہو تو پھر سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرے افسوس کہ آج کل مسلمان شادی بیاہ میں کیا کیا حرکتیں کر رہے اللہ تَعَالٰی سے ڈرے ایک دن مرنا ضرور ہے اگر اس طرح کے گناہ کرتے ہوئے مر گئے تو کفر کی موت مروں گے اللہ تَعَالٰی تمام مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائیں
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں