کیا جن بھوت انسان پر سوار ہوتے ہیں

کیا جن انسان پر آتا ہے؟ دارالافتاء فیضان مدینہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے  میں کہ کن چیزوں کی وجہ سے شریر جنات انسانوں پر سوار ہو کر انہوں پریشان کرتے ہیں؟کیا ناپاک رہنا اور رات کو عطر لگانابھی وجہ ہے ؟

اور کچھ جنات بھگانے والے عامل یہ کہتے ہیں کہ اس کے جسم میں فلاں کافر یا کافرہ کی روح تھی جو اب پلٹ کر نہیں آءےگی تو ایسے عامل کے پاس جانا کیسا؟جبکہ انکا عمل کام بھی کرتا ہو

عارف خان عطاری

کاریلا ،سرندر نگر

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق جن انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں یا نہیں اس میں علماء کی الگ الگ رائے ہے 

مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے اس کے نقصان سے بہت زیادہ ڈرے اور ہر وقت اس سے مقابلے کے لئے تیار رہے۔


            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ صوفیاءِ کرام کے نزدیک شیطان سے جنگ کرنے اور اسے مغلوب کرنے کے دو طریقے ہیں :


(1)… شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ شیطان ایک ایسا کتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر مُسلَّط فرمادیا ہے، اگر تم ا س سے مقابلہ و جنگ کرنے اور اسے (خود سے) دور کرنے میں مشغول ہوگئے تو تم تنگ آ جاؤ گے اور تمہارا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا اور بالآخر وہ تم پر غالب آ جائے گا اور تمہیں زخمی و ناکارہ بنا دے گا ا س لئے اس کے مالک ہی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا اور اسی کی پناہ لینی ہو گی تاکہ وہ شیطان کو تم سے دور کر دے اور یہ تمہارے لئے شیطان کے ساتھ جنگ اور مقابلہ کرنے سے بہتر ہے۔


(2)…شیطان سے مقابلہ کرنے، اسے دفع دور کرنے اور ا س کی تردید و مخالفت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔


میں (امام غزالی) کہتا ہوں :میرے نزدیک ا س کا جامع اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں طریقوں کو بروئے کار لایا جائے لہٰذا سب سے پہلے شیطان مردود کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے اوراللہ تعالیٰ ہمیں شیطان لعین سے محفوظ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر تم یہ محسوس کرو کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے کے باوجود شیطان تم پر غالب آنے کی کوشش کر رہا ہے اور تمہارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے مجاہدے اور عبادت میں تمہاری قوت کی سچائی و صفائی دیکھے اور تمہارے صبر کی جانچ فرمائے۔ جیساکہ کافروں کو ہم پر مسلط فرمایا حالانکہ اللہ تعالیٰ کفار کے عزائم اور ان کی شر انگیزیوں کو ہمارے جہاد کئے بغیر ملیا میٹ کر دینے پر قادر ہے لیکن وہ انہیں صفحہ ہستی سے ختم نہیں فرماتا بلکہ ہمیں ان کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ جہاد، صبر ،گناہوں سے چھٹکارا اور شہادت سے ہمیں بھی کچھ حصہ مل جائے اور ہم اس امتحان میں کامیاب و کامران ہو جائیں تو اسی طرح ہمیں شیطان سے بھی انتہائی جاں فشانی کے ساتھ مقابلہ اور جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر ہمارے علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ شیطان سے مقابلہ کرنے اور اس پر غلبہ حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں :


(1)…تم شیطان کے مکر و فریب اور اس کی حیلہ سازیوں سے ہوشیار ہو جاؤ کیونکہ جب تمہیں اس کی حیلہ سازیوں کا علم ہو گا تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گا، جس طرح چور کو جب معلوم ہو جاتا ہے کہ مالک مکان کو میرے آنے کا علم ہو گیا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔


(2)…جب شیطان تمہیں گمراہیوں کی طرف بلائے تو تم اسے رد کر دو اور تمہارا دل قطعاً ا س کی طرف متوجہ نہ ہو اور نہ تم ا س کی پیروی کرو کیونکہ شیطان لعین ایک بھونکنے والے کتے کی طرح ہے، اگر تم اسے چھیڑو گے تو وہ تمہاری طرف تیزی کے ساتھ لپکے گا اور تمہیں زخمی کر دے گا اور اگر تم ا س سے کنارہ کشی اختیار کر لو گے تو وہ خاموش رہے گا۔


(3)…اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کرتے رہو اور ہمہ وقت خودکو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رکھو (منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، العائق الثالث: الشیطان، ص۵۵-۵۶)۔ [1] شریر جنات بھی شیطان ہیں اب یہ شیطان انسان پر سوار ہوتے ہیں اس کے بارے میں شیخ الحدیث و التفسیر حضرت علامہ غلام رسول سعیدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 

جنات کے انسانوں پر تصرف کرنے کا بطلان : عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ جنات انسانوں پر مسلط ہو کر ان کے اعضاء میں تصرف کرتے ہیں۔ ان کی زبان سے بولتے ہیں اور ان کے ہاتھوں اور پیروں سے افعال صادر کرتے ہیں۔ پھر کوئی عامل آ کر جن اتارتا ہے اور آئے دن اخبارات میں اس کے متعلق اخلاق سوز خبریں چھپتی رہتی ہیں۔ ہم نے شرح صحیح سلم جلد سابع (7) میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس کے اوپر بہت دلائل قائم کیے ہیں۔ ان پر قوی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ ممکن ہو کہ ایک شخص کے اعضاء پر کسی جن کا تصرف ہو تو ایک شخص کسی کو قتل کردے اور کہے کہ یہ قتل میں نے نہیں کیا، جن نے کیا ہے، میرے اعضائء پر اس وقت جن کا تصرف تھا تو کیا شریعت اور قانون میں اس کو اس قتل سے بری قرار دیا جائے گا اور اگر بالفرض شریعت کی رو سے وہ بےقصور ہو تو کیا قرآن اور حدیث میں ایسی ہدایت ہے کہ جو شخص جن کے زیر اثر ہو کر کسی شخص کو قتل کردے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔- تفسیر تبیان القرآن 

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : نیز اگر جنات اور شیاطین لوگوں کو مخبوط کرنے اور ان کی عقل کو ضائع کرنے پر قادر ہوں تو اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ وہ انسان کے بہت بڑے دشمن ہیں تو وہ اکثر انسانوں کی عقلوں کو ضائع کیوں نہیں کرتے۔ خصوصا علماء، فضلاء اور عبادت گزار زاہدوں کی (بلکہ ان علماء کے ساتھ ایسا زیادہ کرنا چاہیے جو جنات پر انسانوں کے تصرف کا انکار کرتے ہیں اور یہ ناکارہ بھی ان میں شامل ہے) کیونکہ جنات کی علماء اور زاہدوں کے ساتھ عداوت بہت زیادہ ہے اور جب کہ ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ جنات اور شیاطین کو انسانوں پر کسی وجہ سے قدرت حاصل نہیں ہے اور اس نظریہ کے بطلان پر قرآن مجید کی یہ آیت واضح دلیل ہے۔ شیاطین قیامت کے دن دوزخیوں سے کہے گا : |" وماکان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم لی : اور مجھے تم پر کوئی غلبہ نہ تھا مگر یہ کہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی |" (ابراہیم :20) ۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 224، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ) ہمارا موقف یہ ہے کہ جن کسی پر سوار نہیں ہو سکتا البتہ وہ انسان کے دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسان سے کچھ بھی بلوانا ہے جیسا کہ 

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ ترجمہ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن صرف اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو، (سورت 2 آیت 275  )

اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن انسان کے دماغ پر کنٹرول کرتا ہے اور کفار کی روح کسی پر کچھ نہیں کر سکتی بلکہ وہ تو قید ہوتی جو یہ کہتا ہے کہ اس پر کفار کی روح ہے وہ غلط کہتا ہے ہاں جن کی شرارتوں سے محفوظ رہنے کے لیے انسان کو ہمیشہ پاک رہنا چاہیے اور ہر نماز فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی عادت رکھے انشاءاللہ شیطان سے محفوظ ہوں گے واضح رہے کہ یہ تکلیف اکثر عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کو ہسٹریہ کی بیماری ہو یا دماغی بیماری ہو لہٰذا اس کا علاج کروانا چاہے اور عامل لوگوں کا بھروسہ ہرگز نہ کرے یہ لوگ زیادہ تر جاہل ہوتے ہیں اگر ایسا وہم ہے کہ شیطان کی شرارتوں سے تکلیف ہوتی ہے تو گھر میں جو صحیح مخارج سے قرآن پڑھنا جانتا ہوں وہ ایک پانی کی بوتل لے کر سورت بقرہ 40 دن تک پڑھ کر دم کرے اور چاروں قل 7 ۔۔7 مرتبہ پڑھ کر مریض پر دم کر لیا کرے اور اسی پانی کو مریض کو دن میں تین مرتبہ پلائے اور اسی پانی سے مریض کو غسل کروایا جائے بس گھر بیٹھے اس تکلیف کا خاتمہ ہو جائے گا کسی عامل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 👉


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598