جماعت سے رخصتی کے چند شرائط

اسلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ زید  ایسی جگہ رہتا ہےجہاں سے چاروں طرف 3 تین کلو میٹر پر مسجد ہیں  اور وہاں اذان ہوتی ہے اور مسجد تک پہنچنے کا رستہ کچا ہے اور وہاں اذان کی آواز آتی ہے تو کیا اس شخص پر  جماعت واجب ہے؟اور اگر کوئی شخص ٹرانسپورٹ کا کرتا ہوں اور آفس سے مسجد تک کا راستہ تین منٹ کا ہو تو کیا اس پر جماعت واجب ہے؟ سائل عبداللہ حیدر 

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں  تین کلو میٹر پر مسجد ہے اور اذان کی آواز بغیر لاوٹ اسپیکر کے سنائی دیتی ہے تو اس پر جماعت واجب ہے 2 اس صورت میں جماعت واجب ہے جماعت حدیث میں ہے ۔۔حدیث ۱۵:  ابو داود و ابن ماجہ و ابن حبان ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’جس نے اذان سُنی اور آنے سے کوئی عذر مانع نہیں ، اس کی وہ نماز مقبول نہیں ‘‘، لوگوں  نے عرض کی، عذر کیا ہے؟ فرمایا: ’’خوف یا مرض۔‘‘ (4) اور ایک روایت ابن حبان و حاکم کی انہیں سے ہے، ’’جو اذان سُنے اور بلا عذر حاضر نہ ہو، اس کی نماز ہی نہیں ۔‘‘ (5) حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔


        حدیث ۱۶:  احمد و ابو داود و نَسائی و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابو الدرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں      صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’کسی گاؤں یا بادیہ میں تین شخص ہوں اور نماز نہ قائم کی گئی مگر ان پر شیطان مسلّط ہوگیا تو جماعت کو لازم جانو، کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے، جو ریوڑ سے دور ہو۔‘‘  (6)


        حدیث ۱۷ تا ۲۰:  ابو داود و نَسائی نے روایت کی، کہ عبداﷲ بن ام مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مدینہ میں  موذی جانور بکثرت ہیں اور میں نابینا ہوں ، تو کیا مجھے رخصت ہے کہ گھر پڑھ لُوں ؟ فرمایا:’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ سُنتے ہو‘‘، عرض کی، ہاں ، فرمایا: ’’تو حاضر ہو۔‘‘  (1) اسی کے مثل مسلم نے ابوہریرہ سے اور طبرانی نے کبیر میں ابو امامہ سے اور احمد و ابو یعلی اور طبرانی نے اوسط میں اور ابن حبان نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے روایت کی جماعت کی رخصتی کے چند شرائط ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 

1عاقِل، بالغ، حر، قادر پر جماعت واجب ہے، بلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے، تو فاسق مردود الشہادۃ   اور اس کو سخت سزا دی جائے گی، اگر پروسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار، غنیہ)

 مریض جسے مسجد تک جانے میں  مُشقّت ہو۔


            (۲)  اپاہج۔


                (۳)  جس کا پاؤں  کٹ گیا ہو۔


                (۴)  جس پر فالج گرا ہو۔


                (۵)  اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے۔


                (۶)  اندھا اگرچہ اندھے کے لیے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔


                (۷)  سخت بارش  اور

 8 شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔


            (۹)  سخت سردی۔


            (۱۰)  سخت تاریکی۔


            (۱۱)  آندھی۔


            (۱۲)  مال یا کھانے کے تلف (1)  ہونے کا اندیشہ۔


            (۱۳)  قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔


            (۱۴)  ظالم کا خوف۔


            (۱۵)  پاخانہ۔


            (۱۶)  پیشاب۔


            (۱۷)  ریاح کی حاجت شدید ہے۔


            (۱۸)  کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو۔


            (۱۹)  قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔


            (۲۰)  مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لیے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترک جماعت کے لیے عذر ہیں ۔ (2) (درمختار  بہار شریعت باب جماعت ) واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598