سفر میں سنتوں کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ سفر شرعی میں فرض نماز میں قصر کرنا ہوتا ہے مگر سنت کا کیا حکم ہے کیا سنت پڑھنا ضروری ہے نہیں پڑھے گا تو گنہگار ہوگا یا نہیں 
سائل عمرو بھائی بوڑھار مورا کچھ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
اگر سفر میں اطمینان نہ ہو تو سنتوں کے ترک میں کوئی قباحت نہیں ہے اور اطمینان ہو جب بھی سنن کا کا تاکد جو حضر میں ہے وہ سفر میں نہیں رہتا سفر خود ہی قائم مقام مشقت کے ہے یہ حکم سنت فجر کے علاوہ  کاہے اور سنت فجر چونکہ قریب وجوب ہے لہٰذا سفر کی وجہ سے اس کے ترک کی اجازت نہیں اور بعض ائمہ کرام کا قول یہ بھی ہے کہ مغرب کی دو سنتیں بھی ترک نہ کرے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر کہیں بھی اس کو ترک نہیں کیا ہے  (فتاوی امجدیہ اول صفحہ 284 ) واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 5 دسمبر 2021 بروز اتوار

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598