نئیا سال منانا کیسا ؟
*❓سوال:- کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ نیو ایٸر نائیٹ منانے کی شرعی حیثیت کیا ہے❓*
✨بینوا توجروا✨
*🎀( مورخہ 25 جمادی الاولٰی 1443ھ بمطابق 30 دسمبر 2021ء بروز جمعرات )🎀*
*🌹الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب🌹*
*🌌نیو ایٸر نائیٹ اگر شریعت کی حدود کے اندر رہ کر ( مثلاً ذکر و درود اور نعت خوانی کی محفلیں منعقد کی جائیں یا مسجد میں رہتے ہوئے اللہ کی عبادت کرتے ہوئے) منائی جائے تو جائز ہے، اگر شریعت کی حدوں کو پار ( یعنی Cross ) کر کے منائی جائے ( مثلاً اس رات کو شراب پی جائے، ناچ گانے کی محفلیں سجائی جائیں، رات کے 12 بجتے ہی کروڑوں روپے آتش بازی اور ہوائی فائرنگ میں جھونک دیئے جائیں، عام لوگوں، مریضوں اور بچوں کا سکون برباد کیا جائے، ان کو آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کے شور سے تکلیف دی جائے الغرض تمام کی تمام رات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانیاں کی جائیں تو یہ سب ) ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ افسوس کہ آج کل ہمارے معاشرے میں اسی طرح ہی نیو ایئر نائٹ منائی جاتی ہے اس لئے اس طرح نیو ایٸر ناٸیٹ منانے کی شریعتِ مطہرہ کی طرف سے قطعاً اجازت نہیں۔🌌*
*‼یاد رہے کہ اسلام میں قمری نظام الاوقات کو خاص اہمیت حاصل ہے، جس کا سال جنوری سے نہیں بلکہ محرم سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں بارہ مہینوں کا تذکرہ فرمایا، ان سے قمری مہینے ہی مراد ہیں اور انہیں کو اللہ عزوجل نے لوگوں کے لیے اوقات قرار دیا۔‼*
*🍀شریعت کے کثیر احکامِ عبادات ومعاملات مثلاً: روزہ، زکوۃ، حج، عورتوں کی عدتیں، رضاعت، بلوغت وغیرہ بھی انہی پر مبنی ہیں۔ نیز قمری سال عرف و استعمال کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس لیے بہت عمدہ ہے کہ ہم اپنے نجی، سماجی اور معاشرتی معاملات میں حتی الامکان اس کا ہی اعتبار کریں۔🍀*
*🌹دین اسلام میں شراب نوشی حرام ہے۔ چاہے خوشی کا موقع ہو یا کوئی اور، اس کے چھوڑنے میں ہی انسان کی عافیت اور فلاح و کامیابی کا سامان ہے۔ چنانچہ شراب کے متعلق قرآن عظیم میں ہے :﴿ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴾۔🌹*
*✏ترجمہ کنزالایمان :- اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ‘‘۔📚*
*📚( پارہ 07، سورۃ المائدہ، آیت 90 )📚*
*🍁یونہی خوشی کے موقع پر باجے کی آواز کو دنیا و آخرت میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ مسند بزار میں ہے: ’’ صوتان ملعونان فی الدنيا و الآخرة مزمار عند نعمة و رنة عند مصيبة ‘‘۔🍁*
*🌿ترجمہ:- دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: نعمت کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز ‘‘۔🌿* *📚( مسندِ بزار، مسند ابی حمزہ انس بن مالک، جلد 14، صفحہ 62، مطبوعہ مدینۃ المنورہ )📚*
*😥گانوں کے متعلق سننِ ابی داود و شعب الایمان میں ہے: ” الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع “۔😥*
*😔ترجمہ: گانا، دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے، جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے‘‘۔😔*
*📚( شعب الایمان، فصل و مما ینبغی للمسلم المرء ان یحفظ اللسان عن الشعر الخ، جلد 07، صفحہ 105، مطبوعہ ریاض )📚*
*‼فتاوی رضویہ میں ہے: ” لڑکیوں کا غیر مردوں کے سامنے خوش الحانی سے نظم پڑھنا حرام ہے اور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام ۔۔۔ اور جو اپنی لڑکیوں کو ایسی جگہ بھیجتے ہیں، بے حیا، بے غیرت ہیں، ان پر اطلاقِ دیوث ہو سکتا ہے ‘‘۔‼*
*📖( فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 690، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور )📚*
*🍂بہار شریعت میں ہے: ’’ ناچنا، تالی بجانا، ستار، ایک تارہ، دو تارہ، ہارمونیم، چنگ، طنبورہ بجانا، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں “۔🍂*
*📚( بہارِ شریعت، حصہ 16، صفحہ 511، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )📚*
*😯مروجہ آتش بازی جو شادی بیاہ، شبِ برات و نیو ائیر نائٹ کے موقع پر کی جاتی ہے اس طرح کی آتش بازی کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ’’ آتشبازی جس طرح شادیوں اور شب برات میں رائج ہے، بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییعِ مال ( یعنی مال ضائع کرنا ) ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ، وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ﴾۔ ترجمہ: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: کسی طرح بے جا خرچ نہ کرو، کیونکہ بے جا خرچ کرنے والے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بہت بڑا ناشکرا ہے “۔😯* *📚( فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 279، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور )📚*
*🍁ایسے مواقع پہ ہلڑ بازی اور شور و غل کرنا یقیناً مسلمانوں کی ایذا کا باعث بنتا ہے، جبکہ بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو اذیت دینا بھی حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ” مَنْ آذى مسلِمًا فقدْ آذانِي، ومَنْ آذاني فقدْ آذى اللهَ “.🍁*
*😥ترجمہ: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔😥*
*📚( المعجم الأوسط، جلد 04، صفحہ 60، مطبوعہ دارالاحرمین- القاھرہ )📚*
*🍀مفتی اہلسنت مفتی قاسم عطاری قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ” نئے عیسوی سال کی آمد پر شریعت کے دائرے میں رہ کر خوشی منانا، جائز ہے کہ اللہ عزوجل نے نئے سال کا آغاز دیکھنا نصیب فرمایا۔ ہر سانس، ہر گھڑی اللہ عزوجل کی عطا کردہ نعمت ہے۔ لیکن حدودِ شرع کو پامال کرتے ہوئے نئے سال کی خوشی منانا، جیسا کہ اس موقع پہ معاذ اللہ ! شراب نوشی، ناچ گانے کی محافل کا انعقاد، مردوں عورتوں کا اختلاط، بے پردگی و فحاشی، آتش بازی، ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے، نئے سال کا آغاز ہوتے ہی ادھم مچا کر، بلند آواز سے ڈیک لگا کر، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے سلنسر نکال کر گلیوں سڑکوں پہ گھومنا اور لوگوں کا سکون برباد کرنا، اس کے علاوہ وَن ویلنگ کا تماشا کرتے ہوئے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا الغرض طرح طرح کے خلافِ شرع امور کا ارتکاب کر کے خوشی منائی جاتی ہے۔ مزید برآں ان میں کئی امور خلافِ شرع ہونے کے ساتھ ساتھ قانونی جرم بھی ہوتے ہیں، جو ان کی حرمت میں اضافہ کر دیتے ہیں، اس انداز سے جو بھی خوشی منائی جائے، چاہے وہ نئے سال کی آمد کی ہو یا کوئی اور، ناجائز و حرام ہے۔🍀*
*📚( فتویٰ نمبر 4286، دارالافتاء اہلسنت دعوتِ اسلامی )📚*
*🌹وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم🌹*
*✏کتبہ📚*
*🌼سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ🌼*
*🌺نظرِ ثانی:- ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ🌺*
*🎀( مورخہ 25 جمادی الاولٰی 1443ھ بمطابق 30 دسمبر 2021ء بروز جمعرات )🎀*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں