غسل میں کلی کر نا بھول گیا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے غسل کرتے وقت کلی کرنا بھول گیا اور پانچوں نمازیں پڑھ لی اور عشاء کے بعد یاد آیا کہ غسل میں کلی نہیں کیا تھا اب حکم شرع بیان فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں سائل احمد بلال گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
اگر زید جنب تھا یعنی اس پر غسل فرض تھا اور کلی کرنا بھول گیا تو طاہر نہ ہوا کہ غسل کا ایک فرض اس کے ذمہ باقی رہ گیا پھر اگر غسل کے بعد وضو جدید کیا جیسا کہ اکثر لوگ کرتے ہیں اور اس وضو میں کلی کر لی تو پاک ہو گیا تمام نمازیں ہو گئیں اور اگر کلی نہ کی تو اب بھی ناپاک ہی ہے جب تک کلی نہ کرے گا پاک نہ ہو گا اور جب کلی کر لے گا جنابت دو ہو جائے گی پھر زید نے اگر پانچوں نمازیں بغیر وضو کئے ہوئے اور بغیر کلی کے ادا کیا جیسا کہ سوال سے یہ ہی ظاہر ہے تو کوئی نماز ادا نہ ہوئی اور اگر اور نمازیں ظہر سے عیشاء تک کلی کے بعد پڑھی ہیں اور یہ ہی عادت ظاہر ہے کیونکہ ظہر وغیرہ کے وقت تو نیا وضو کیا ہی ہوگا اگرچہ ممکن ہے کہ صبح کا وضو عشاء تک باقی رہے مگر عادتہ دُشوار ضرور ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وضو میں کلی کی ہوگی اگرچہ وضو میں کلی فرض نہیں مگر سنت تو ہے بہرحال اگر کلی ہو گئی غسل ہو گیا اور نمازیں اس کے بعد کی ادا ہو گئی پھر سے جدید غسل کی حاجت نہیں (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 11 ) واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں